بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) مالدار مقروض کی وعدے میں تاخیر ظلم ہے

متفرق ابواب
باب: مالدار مقروض کی وعدے میں تاخیر ظلم ہے
احادیث:1

حدیث نمبر: 63

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الظُّلْمِ مَطْلَ الْغَنِيِّ، وَإِنْ أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن من الظلم مطل الغني، وإن اتبع احدكم على مليء فليتبع"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ قرض واپس کرنے میں، مالدار شخص کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تمہارا قرض کسی مالدار کو منتقل کر دیا جائے تو اسی سے قرض طلب کرو۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم