بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عیسی علیہ السلام سے قریبی تعلق

متفرق ابواب
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عیسی علیہ السلام سے قریبی تعلق
احادیث:1

حدیث نمبر: 134

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الأُولَى وَالآخِرَةِ"، قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلاتٍ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " انا اولى الناس بعيسى ابن مريم في الاولى والآخرة"، قالوا: كيف يا رسول الله؟ قال:" الانبياء إخوة من علات، وامهاتهم شتى، ودينهم واحد، فليس بيننا نبي"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دینا و آخرت (دونوں جہانوں) میں عیسٰی بن مریم علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کیسے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تمام) انبیاء علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں الگ الگ ہیں، مگر دین سب کا ایک (ہی) ہے۔ پس ہم دونوں کے درمیان کوئی نبی نہیں۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

    ویڈیوز
    شرعی مسائل کا حل

    غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم