بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) کسی کی بیع پر بیع اور منگنی پر منگنی منع ہے

متفرق ابواب
باب: کسی کی بیع پر بیع اور منگنی پر منگنی منع ہے
احادیث:1

حدیث نمبر: 112

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَبِيعُ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يبيع احدكم على بيع اخيه، ولا يخطب على خطبة اخيه"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم