بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

فتنۂ انکارِ حدیث

فتنۂ انکارِ حدیث

الحمد للہ، دینِ اسلام کی بنیاد دو عظیم سرچشموں، قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ پر قائم ہے۔ جس طرح قرآن اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی سنت بھی وحی کی تشریح اور عملی تفسیر ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے دونوں کو یکساں امانت و دیانت کے ساتھ امت تک پہنچایا۔ لیکن ہر دور میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جنہوں نے مختلف شبہات اور اعتراضات کے ذریعے احادیثِ نبویہ کی حجیت کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ کبھی حدیث کو قرآن کے خلاف قرار دیا گیا، کبھی راویوں پر بے بنیاد اعتراضات کیے گئے، کبھی احادیث کی حجیت ہی کا انکار کیا گیا، اور کبھی یہ شبہ پھیلایا گیا کہ احادیث نبی کریم ﷺ کی وفات کے صدیوں بعد لکھی گئیں۔ زیرِ نظر مضمون میں ان اہم اعتراضات کا مختصر مگر جامع جائزہ لیا جائے گا اور قرآن، سنت اور ائمۂ حدیث کی تحقیقات کی روشنی میں ان کا جواب پیش کیا جائے گا۔

فتنۂ انکارِ حدیث

ہمارے علم کے مطابق سب سے پہلے خوارج نے قرآن ماننے کا دعویٰ کر کے حدیث کا انکار کیا جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ويقرؤن القرآن لا يجاوز حناجرهم “اور وہ قرآن پڑھیں گے جو اُن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔”

یعنی خوارج نہ تو قرآن پر عمل کریں گے اور نہ قرآن کا مفہوم سمجھیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے خوارج کو “کلاب النار” (جہنم کے کتے) قرار دیا ہے۔ ﴿دیکھیے مسند احمد 382/4، ح: 19415، وسندہ حسن

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے خوارج کو کلاب النار کہا اور اسے مرفوعاً یعنی نبی ﷺ سے بھی بیان کیا۔ ﴿مسند احمد 453/5، ح: 22183 وسندہ حسن

﴿مسند احمد :250/5، ح: 22151 میں اس کا حسن شاہد بھی ہے۔

خوارج کی تقلید کرتے ہوئے روافض، معتزلہ، جہميہ اور منکرینِ حدیث نے بھی صحیح احادیث کی حجیت کا انکار کیا اور قرآن کو رسول کے بغیر سمجھنے کا زبانِ حال سے دعویٰ کیا۔

یہاں یہ بات انتہائی قابلِ ذکر ہے کہ امت میں فتنۂ انکارِ حدیث کی پیش گوئی نبی کریم ﷺ نے اس فتنے کے وقوع سے پہلے کر دی تھی۔ ﴿دیکھیے سنن ابی داؤد 4604، وسندہ صحیح

احادیثِ صحیحہ پر منکرینِ حدیث چار طرح سے حملے کرتے ہیں

قرآن اور عقل کے خلاف: بعض منکرین صحیح احادیث کو قرآن اور عقل کے خلاف کہہ کر رد کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ احادیث نہ تو قرآن کے خلاف ہوتی ہیں اور نہ عقلِ سلیم کے خلاف۔ اس کی تفصیل کے لیے امام عبدالرحمن بن یحییٰ المعلمی رحمہ اللہ کی کتاب “الانوار الکاشفہ” ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

راویانِ حدیث پر جرح

کتبِ حدیث، کتبِ تاریخ اور اسماء الرجال کی کتابوں میں بعض ثقہ و صدوق راویوں پر بعض اوقات کچھ جرح منقول ہوتی ہے جسے بعض منکرینِ حدیث، مثلاً تمنا عمادی اور بشیر احمد میرٹھی وغیرہ، پیش کر کے عوام الناس کو حدیث سے دور ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، اور اگر جرح منقول نہ بھی ہو تو یہ لوگ خود جرح بنا لیتے ہیں۔

اس جرح کا مختصر اور جامع جواب یہ ہے کہ اگر کسی راوی پر جرح ثابت ہو اور تطبیق و توفیق ممکن نہ ہو تو جمہور محدثین کی ثابت شدہ توثیق و تعدیل کو ہمیشہ ترجیح ہوتی ہے۔ یعنی جو راوی جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق، صحیح الحدیث یا حسن الحدیث ہو تو ان پر بعض محدثین کی جرح مردود ہوتی ہے، سوائے اس کے کہ کسی خاص روایت میں اس کا وہم و خطاء بطریقِ محدثین ثابت ہو جائے تو اسے مستثنیٰ قرار دیا جاتا ہے۔

حجیتِ حدیث کا انکار

بعض منکرینِ حدیث کسی بھی قسم کے ثبوت دیے بغیر احادیث کی حجیت کا سرے سے انکار کر دیتے ہیں اور ایسے لوگ عام مسلمانوں کے نزدیک بھی مبغوض ہیں۔مردود رہتے ہیں۔

 روایات میں شک و تشکیک پیدا کرنا بعض منکرین حدیث یہ دعویٰ کرتے پھرتے ہیں کہ احادیث تو سنی سنائی باتیں ہیں جو نبی کریم ﷺ کی وفات کے ڈھائی سو سال (250) بعد لکھی گئیں لہذا یہ سارا ذخیرہ ہی مشکوک ہے۔ سنی سنائی باتوں میں کمی بیشی تو ہوتی رہتی ہے بلکہ بسا اوقات بات کا بتنگڑ بھی بن جاتا ہے!!

عرض ہے کہ یہ اعتراض دو وجہ سے باطل ہے: اول: یہ دنیاوی سنی سنائی باتیں نہیں بلکہ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین وغیرہم نے انہیں دین سمجھ کر، یاد رکھا اور آگے سنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خیر القرون کے لوگوں کو ایسے بے پناہ حافظے عطا فرمائے تھے کہ لاکھوں روایات اپنی سندوں اور متنوں (متون) کے ساتھ راویانِ حدیث کو اس طرح یاد تھیں جیسے عام آدم کو سورہ فاتحہ یاد ہوتی ہے۔ مشہور ثقہ امام اسحاق بن راہویہ المروزی نے ایک عظیم الشان اور بڑی کتاب مسند اسحاق بن راہویہ لکھی تھی جس کی چوتھی جلد کے قلمی نسخے کی فوٹو سٹیٹ ہمارے پاس موجود ہے اور یہ چوتھی جلد چار جلدوں میں چھپی ہوئی ہے۔ امام اسحاق بن راہویہ نے یہ ساری مسند کئی دفعہ زبانی حافظے سے شاگردوں کو لکھوائی تھی۔ 

﴿تاریخ بغداد 354/6 روايۃ ابراھیم بن ابی طالب و سندہ صحیح

یہ صرف ایک امام کے عظیم الشان حافظے کی مثال ہے، اگر تفصیل دیکھنا چاہتے ہیں تو حافظ ابن الملقن کی شہرہ آفاق کتاب “البدر المنیر” ﴿ج 1 ص 259 تا 272 کا مطالعہ کریں، آپ تعجب سے دنگ رہ جائیں گے۔ امام دارقطنی کی مشہور کتاب العلل سولہ (16) جلدوں میں مع تحقیق و فہرست چھپی ہوئی ہے، یہ ساری کتاب امام دارقطنی نے زبانی لکھوائی تھی۔ ﴿ تاریخ بغداد للخطیب البغدادی 37/12، و سندہ صحیح

دوم: یہ بات غلط ہے کہ کتابتِ حدیث خیرالقرون کے بعد شروع ہوئی یا حدیث کی کتابیں ڈھائی سو سال بعد لکھی گئیں بلکہ اس کے برعکس یہ صحیح ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک دور سے لے کر ہر دور میں احادیث لکھی جاتی رہی ہیں ,ذکر ہم آئندہ کریں گے۔ان شاءاللہ

خلاصہ

فتنۂ انکارِ حدیث کوئی نیا فتنہ نہیں بلکہ اس کی جڑیں ابتدائی دور تک پہنچتی ہیں، اور نبی کریم ﷺ نے اس کی پیش گوئی بھی فرما دی تھی۔ بعد میں مختلف گمراہ فرقوں اور منکرینِ حدیث نے صحیح احادیث کو رد کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے، جن میں انہیں قرآن یا عقل کے خلاف قرار دینا، ثقہ راویوں پر بے بنیاد جرح کرنا، حجیتِ حدیث کا انکار کرنا، اور احادیث کی تدوین کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا شامل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محدثین نے نہایت دقیق اصولوں کے ذریعے احادیث کی حفاظت کی، راویوں کی جانچ پڑتال کی، اور حدیث کے ذخیرے کو پوری امانت کے ساتھ امت تک منتقل کیا۔ اسی لیے ان بے بنیاد اعتراضات کے مقابلے میں قرآن و سنت اور محدثین کی تحقیق ہی قابلِ اعتماد معیار ہے، اور ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ شبہات کے بجائے مستند علمی دلائل کی روشنی میں دین کو سمجھے۔

واللہ اعلم بالصواب

تحقیق و تدوین

فیضان ظفر

حسنین علی

حسنین متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور محقق ہیں۔آپ تقابلِ ادیان، بین المسالک اختلافات اور علمی ردود کے محقق ہیں۔

متعلقہ مصنوعات

No product found.