بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر: 31

متفرق ابواب
حدیث نمبر:31

حدیث نمبر:31

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلامِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُفْطِرًا قَطُّ، يَعْنِي يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبد السلام، عن ليث، عن عمران بن عمير، عن ابن عمر، قال:" ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم مفطرا قط، يعني يوم الجمعة".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی جمعہ کے دن روزے کے بغیر نہیں دیکھا۔

إسناده ضعيف
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم