بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر: 32

متفرق ابواب
حدیث نمبر: 32

حدیث نمبر: 32

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَبْلُغُ الْعَرَقُ مِنْ بَنِي آدَمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِلَى شَحْمَةِ أُذُنِهِ، وَقَالَ الآخَرُ: يُلْجِمُهُ".
حدثنا ابو عاصم، عن عبد الحميد بن جعفر، عن ابيه، قال: جلست إلى ابن عمر، وابي سعيد، فقال احدهما لصاحبه: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " يبلغ العرق من بني آدم، فقال احدهما: إلى شحمة اذنه، وقال الآخر: يلجمه".

جعفر کہتے ہیں میں عبداللہ بن عمر اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن بنی آدم کو پسینہ آئے گا۔“ ان میں سے ایک نے کہا کانوں کی لو تک اور دوسرے نے کہا: منہ تک پہنچ کر لگام کی طرح ہوگا۔

صحیح
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم