بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر: 33

متفرق ابواب
حدیث نمبر:33

حدیث نمبر:33

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خُوَيْلِدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْتُلُ الْغُرَابَ، وَالْحِدَأَةَ، وَالْفَأْرَةَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْعَقْرَبَ"، فَقُلْتُ لِنَافِعٍ: فَالْحَيَّاتُ؟ قَالَ: لا يُخْتَلَفُ فِيهِنَّ.
حدثنا الحسين بن محمد، حدثنا خويلد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، ان اعرابيا نادى النبي صلى الله عليه وسلم: ما يقتل المحرم من الدواب؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" يقتل الغراب، والحداة، والفارة، والكلب العقور، والعقرب"، فقلت لنافع: فالحيات؟ قال: لا يختلف فيهن.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: احرام والا کون سے جانور قتل کر سکتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کوا، چیل، چوہیا، کاٹنے والا کتا اور بچھو مار سکتا ہے۔ ایوب کہتے ہیں میں نے نافع رحمہ اللہ سے سانپوں سے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ان کو مارنے میں اختلاف نہیں ہے۔

صحيح
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم