بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:29

متفرق ابواب
حدیث نمبر:29

حدیث نمبر:29

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ شَرِيكٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُسَاكِنُوا الأَنْبَاطَ فِي بِلادِهِمْ، فَإِنْ نَازَعُوكُمُ الْكَلامَ وَاخْتَبَئُوا فِي الأَقْنِيَةِ، فَالْهَرَبَ الْهَرَبَ، وَلا تُنَاكِحُوا الْخُوزَ، فَإِنَّ لَهُمْ أُصُولا تَدْعُو إِلَى غَيْرِ الْوَفَاءِ".
حدثنا محمد بن مصفى، حدثنا بقية، عن شريك بن عبد الله، عن كليب بن وائل، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تساكنوا الانباط في بلادهم، فإن نازعوكم الكلام واختبئوا في الاقنية، فالهرب الهرب، ولا تناكحوا الخوز، فإن لهم اصولا تدعو إلى غير الوفاء".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نبطی قبائل کے ساتھ ان کے شہروں میں سکونت اختیار نہ کرو۔ اور اگر وہ تم سے بات چیت میں اختلاف کریں تو ان سے گریز کرو۔ ان سے بچ کر رہو، ان سے بچ کر رہو اور خوزستانیوں سے شادی نہ کرو، کیونکہ ان کی جڑوں میں بے وفائی ہے۔

منکر
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم