بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:37

متفرق ابواب
حدیث نمبر:37

حدیث نمبر:37

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى كَأَنَّ بِيَدِهِ خِرْقَةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ، لا يَسِيرُ بِهَا إِلَى شَيْءٍ مِنَ الْجَنَّةِ إِلا طَارَتْ إِلَيْهِ، فَقَصَّهَا عَلَى حَفْصَةَ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ".
حدثنا احمد بن ابي شعيب، قال: حدثني الحارث بن عمير، عن ايوب السختياني، عن نافع، ان ابن عمر راى كان بيده خرقة من إستبرق، لا يسير بها إلى شيء من الجنة إلا طارت إليه، فقصها على حفصة، فقصتها حفصة على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال:" إن عبد الله رجل صالح".

نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خواب دیکھا گویا ان کے ہاتھ میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور وہ جنت کی جس چیز کی طرف جانا چاہتے ہیں وہ ان کو وہاں اڑا کر لے جاتا ہے۔ انہوں نے یہ خواب ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو بیان کیا اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک عبداللہ نیک آدمی ہے۔“

صحيح
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم