بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(حدیث نمبر:24 (مسند عبدالله بن عمر

متفرق ابواب
حدیث نمبر:24

حدیث نمبر:24

وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أُمَّتِي هَذِهِ تُوَفِّي سَبْعِينَ أُمَّةً نَحْنُ آخِرُهَا، وَخَيْرُهَا".
وان النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" إن امتي هذه توفي سبعين امة نحن آخرها، وخيرها".

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری یہ امت ستر امتوں کا تتمہ ہے۔ ہم سب سے آخری اور ان سے بہتر ہیں۔“

قال الشيخ الألباني: حسن
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم