بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) رمضان کے آخری عشرہ میں زیادہ محنت کرنا۔

کتاب: لیلۃ القدر کا بیان
باب: رمضان کے آخری عشرہ میں زیادہ محنت کرنا۔
احادیث:1

قسم الحديث: فعلی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 2024

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ، شَدَّ مِئْزَرَهُ، وَأَحْيَا لَيْلَهُ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ".
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن ابي يعفور، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عائشة رضي الله عنها، قالت:" كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا دخل العشر، شد مئزره، واحيا ليله، وايقظ اهله".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رمضان کا آخری عشرہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم (عبادت کے لیے) کمر بستہ ہو جاتے، شب بیداری فرماتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی بیدار رکھتے تھے۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابویعفور نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب (رمضان کا) آخری عشرہ آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تہبند مضبوط باندھتے (یعنی اپنی کمر پوری طرح کس لیتے) اور ان راتوں میں آپ خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم