بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:28

متفرق ابواب
حدیث نمبر:28

حدیث نمبر:28

حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ، عَنْ سِنَانِ بْنِ هَارُونَ، عَنْ كُلَيْبٍ، قَالَ مُرَّةُ: ابْنُ وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً، وَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ، قَالَ:" يُقْتَلُ هَذَا مَظْلُومًا"، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَحِمَهُ اللَّهُ.
حدثنا الاسود، عن سنان بن هارون، عن كليب، قال مرة: ابن وائل، عن ابن عمر، قال: ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم فتنة، ومر رجل مقنع، قال:" يقتل هذا مظلوما"، فنظرت إليه، فإذا هو عثمان بن عفان رحمه الله.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کا تذکرہ کیا تو ایک آدمی چہرے کو ڈھانپے وہاں سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سے متعلق) فرمایا: ”یہ مظلوم قتل کیا جائے گا۔“ میں نے انہیں دیکھا تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔

قال الشيخ الألباني: إسناده حسن
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم