اختيار معرفة الرجال:588/2
حدیث نمبر:8
حمدويه، قال: حدثنا يعقوب، عن ابن أبي عمير، عن شعيب، عن أبي بصير، قال: قلت لابي عبدالله (عليه السلام): انهم يقولون، قال: وما يقولون؟ قلت: يقولون تعلم قطر المطر وعدد النجوم وورق الشجر ووزن مافي البحر وعدد التراب، فرفع يده إلى السماء، وقال: سبحان الله سبحان الله لا والله ما يعلم هذا الا الله ! قوله: لم اتى القوم الذين اتوا بضم الهمزة وكسر المثناة من فوق على بناء مالم يسم فاعله من الاتيان، أي أصابتهم الداهية ودخلت عليهم البلية
حمدویہ نے کہا: ان سے یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے شعیب سے، اور انہوں نے ابو بصیر سے روایت کی، وہ کہتے ہیں: “میں نے امام ابو عبد اللہ (امام جعفر صادق علیہ السلام) سے عرض کیا: ‘لوگ (آپ کے بارے میں) کچھ باتیں کہتے ہیں۔’ امام نے فرمایا: ‘وہ کیا کہتے ہیں؟’ میں نے عرض کیا: ‘وہ کہتے ہیں کہ آپ کو بارش کے قطرے، ستاروں کی تعداد، درختوں کے پتے، سمندر کی چیزوں کا وزن اور مٹی کے ذرات کی گنتی کا علم ہے۔’ یہ سن کر امام نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور فرمایا: ‘سبحان اللہ! سبحان اللہ! نہیں واللہ! یہ سب باتیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا!'”
اس روایت کے برعکس بعض شیعہ ائمہ کے لیے کلی علمِ غیب کا عقیدہ رکھتے ہیں، حالانکہ ان کی اپنی روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے بارش کے قطروں، ستاروں، درختوں کے پتوں، سمندر کی چیزوں اور مٹی کے ذرات کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص قرار دیا ہے۔