الكافى:470/2
حدیث نمبر:9
محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن ابن محبوب، عن أبي ولاد قال: قال أبوالحسن موسى (عليه السلام) عليكم بالدعاء فإن الدعاء لله والطلب إلى الله يرد البلاء وقد قدر وقضي ولم يبق إلا إمضاؤه، فإذا دعي الله عزوجل وسئل صرف البلاء صرفة۔
محمد بن یحییٰ سے روایت ہے، انہوں نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے ابن محبوب سے، اور انہوں نے ابو ولاد سے روایت کی، وہ کہتے ہیں کہ امام ابو الحسن موسیٰ کاظم (علیہ السلام) نے فرمایا: “تم پر دعا کرنا لازم ہے! کیونکہ اللہ سے دعا کرنا اور اس کے حضور حاجت پیش کرنا اس بلا (مصیبت) کو بھی ٹال دیتا ہے جو مقدر ہو چکی ہو، فیصلہ شدہ ہو اور صرف اس کا نافذ ہونا ہی باقی رہ گیا ہو۔ پس جب اللہ عزوجل سے دعا کی جاتی ہے اور مانگا جاتا ہے، تو وہ اس بلا کو یکسر موڑ (ٹال) دیتا ہے۔”
اس روایت کے برعکس بعض شیعہ مشکلات اور مصیبتوں میں اللہ تعالیٰ کے بجائے ائمہ اور دیگر ہستیوں سے مدد و فریاد کرتے ہیں، حالانکہ ان کی اپنی روایت میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے دعا اور حاجت صرف اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی تلقین فرمائی ہے۔