متفرق ابواب
حدیث نمبر:36
حدیث نمبر:36
حَدَّثَنَا مُعَلَّى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ:" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ: أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ ثَمَرَ أَرْضِهِ بِكَيْلٍ إِنْ زَادَ فَلا، وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَى".
قَالَ: قَالَ: وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا".
حدثنا معلى الرازي، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر:" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المزابنة: ان يبيع الرجل ثمر ارضه بكيل إن زاد فلا، وإن نقص فعلى".
قال: قال: وقال زيد بن ثابت:" إن رسول الله صلى الله عليه وسلم،" رخص في بيع العرايا بخرصها".
حافظ محمد فہد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یہ کہ آدمی اپنی زمین کی پیداوار کو معلوم وزن کے عوض اس شرط پر بیچ دے کہ اگر پیداوار زیادہ ہوئی تو اس کو مزید کچھ نہیں ملے گا اور اگر پیداوار وزن سے کم ہوئی تو وہ نقصان کا ذمہ دار ہوگا اسے منع کیا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی کھجور کی (اندازے کے ساتھ خشک یا تازی کھجور کے عوض) بیع کی رخصت دی۔
صحيح
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں