بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری)(دینی) علم کو قلم بند کرنے کے جواز میں۔

کتاب: علم کے بیان میں
باب: (دینی) علم کو قلم بند کرنے کے جواز میں۔
احادیث:4

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): موقوف

حدیث نمبر: 111

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ:" هَلْ عِنْدَكُمْ كِتَابٌ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ، أَوْ فَهْمٌ أُعْطِيَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ أَوْ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: قُلْتُ، فَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفَكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ".
حدثنا محمد بن سلام، قال: اخبرنا وكيع، عن سفيان، عن مطرف، عن الشعبي، عن ابي جحيفة، قال: قلت لعلي:" هل عندكم كتاب؟ قال: لا، إلا كتاب الله، او فهم اعطيه رجل مسلم او ما في هذه الصحيفة، قال: قلت، فما في هذه الصحيفة؟ قال: العقل وفكاك الاسير، ولا يقتل مسلم بكافر".
حضرت ابو جحیفہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی ؓ سے دریافت کیا: آیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے؟ انہوں نے فرمایا: ’’نہیں، ہاں ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور وہ فہم ہے جو ایک مسلمان مرد کو دی جاتی ہے یا جو کچھ اس صحیفے میں موجود ہے۔ میں نے پوچھا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: دیت کے احکام، قیدی کو چھڑانے کا بیان اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔‘‘
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہیں وکیع نے سفیان سے خبر دی، انہوں نے مطرف سے سنا، انہوں نے شعبی رحمہ اللہ سے، انہوں نے ابوجحیفہ سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی (اور بھی) کتاب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، مگر اللہ کی کتاب قرآن ہے یا پھر فہم ہے جو وہ ایک مسلمان کو عطا کرتا ہے۔ یا پھر جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔ میں نے پوچھا، اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا، دیت اور قیدیوں کی رہائی کا بیان ہے اور یہ حکم کہ مسلمان، کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 112

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْقَتْلَ أَوِ الْفِيلَ، شَكَّ أَبُو عَبْد اللَّهِ، كَذَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: وَاجْعَلُوهُ عَلَى الشَّكِّ الْفِيلَ أَوِ الْقَتْلَ، وَغَيْرُهُ يَقُولُ: الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلُّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، أَلَا وَإِنَّهَا حَلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، أَلَا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا تُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ، فَمَنْ قُتِلَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يُعْقَلَ وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: اكْتُبُوا لِأَبِي فُلَانٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ إِلَّا الْإِذْخِرَ" قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: يُقَالُ يُقَادُ بِالْقَافِ، فَقِيلَ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ: أَيُّ شَيْءٍ كَتَبَ لَهُ، قَالَ: كَتَبَ لَهُ هَذِهِ الْخُطْبَةَ.
حدثنا ابو نعيم الفضل بن دكين، قال: حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة،" ان خزاعة قتلوا رجلا من بني ليث عام فتح مكة بقتيل منهم قتلوه، فاخبر بذلك النبي صلى الله عليه وسلم، فركب راحلته فخطب، فقال: إن الله حبس عن مكة القتل او الفيل، شك ابو عبد الله، كذا قال ابو نعيم: واجعلوه على الشك الفيل او القتل، وغيره يقول: الفيل، وسلط عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم والمؤمنين، الا وإنها لم تحل لاحد قبلي ولم تحل لاحد بعدي، الا وإنها حلت لي ساعة من نهار، الا وإنها ساعتي هذه حرام لا يختلى شوكها، ولا يعضد شجرها، ولا تلتقط ساقطتها إلا لمنشد، فمن قتل فهو بخير النظرين، إما ان يعقل وإما ان يقاد اهل القتيل، فجاء رجل من اهل اليمن، فقال: اكتب لي يا رسول الله، فقال: اكتبوا لابي فلان، فقال رجل من قريش: إلا الإذخر يا رسول الله، فإنا نجعله في بيوتنا وقبورنا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إلا الإذخر إلا الإذخر" قال ابو عبد الله: يقال يقاد بالقاف، فقيل لابي عبد الله: اي شيء كتب له، قال: كتب له هذه الخطبة.
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے سال خزاعہ نے بنولیث کے ایک شخص کو اپنے اس مقتول کے بدلے میں قتل کر دیا جسے بنو لیث نے قتل کیا تھا۔ نبی ﷺ کو اس کی اطلاع دی گئی، آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور ایک خطبہ دیا: ’’اللہ تعالیٰ نے مکے سے قتل یا فیل (ہاتھی) کو روک دیا۔ امام بخاری نے کہا: ابو نعیم نے ایسے ہی (شک کے ساتھ) کہا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو ان (کافروں) پر غالب کر دیا گیا۔ خبردار! مکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ آگاہ رہو! یہ میرے لیے بھی دن میں ایک گھڑی کے لیے حلال ہوا تھا۔ خبردار! وہ اس وقت بھی حرام ہے۔ وہاں کے کانٹے نہ کاٹے جائیں، نہ اس کے درخت قطع کیے جائیں، اعلان کرنے والے کے علاوہ وہاں کی گری ہوئی چیز کوئی نہ اٹھائے۔ اور جس کا کوئی عزیز مارا جائے، اسے دو میں سے ایک کا اختیار ہے: دیت قبول کر لے یا قصاص دلوایا جائے۔‘‘ اتنے میں ایک یمنی شخص آیا اور اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (یہ مسائل) مجھے لکھ دیجیے۔ آپ نے فرمایا: ’’اچھا ابو فلاں کو لکھ دو۔‘‘ قریش کے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اذخر اذخر (خوشبو دار گھاس، یعنی اس کے کاٹنے کی اجازت دیجیے)، اس لیے کہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں مگر اذخر ۔ یعنی وہ کاٹ سکتے ہو۔‘‘
ہم سے ابونعیم الفضل بن دکین نے بیان کیا، ان سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابوسلمہ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ خزاعہ (کے کسی شخص) نے بنو لیث کے کسی آدمی کو اپنے کسی مقتول کے بدلے میں مار دیا تھا، یہ فتح مکہ والے سال کی بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر دی گئی، آپ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ پڑھا اور فرمایا کہ اللہ نے مکہ سے قتل یا ہاتھی کو روک لیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس لفظ کو شک کے ساتھ سمجھو، ایسا ہی ابونعیم وغیرہ نے «القتل» اور «الفيل» کہا ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے لوگ «الفيل» کہتے ہیں۔ (پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) کہ اللہ نے ان پر اپنے رسول اور مسلمانوں کو غالب کر دیا اور سمجھ لو کہ وہ (مکہ) کسی کے لیے حلال نہیں ہوا۔ نہ مجھ سے پہلے اور نہ (آئندہ) کبھی ہو گا اور میرے لیے بھی صرف دن کے تھوڑے سے حصہ کے لیے حلال کر دیا گیا تھا۔ سن لو کہ وہ اس وقت حرام ہے۔ نہ اس کا کوئی کانٹا توڑا جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور اس کی گری پڑی چیزیں بھی وہی اٹھائے جس کا منشاء یہ ہو کہ وہ اس چیز کا تعارف کرا دے گا۔ تو اگر کوئی شخص مارا جائے تو (اس کے عزیزوں کو) اختیار ہے دو باتوں کا، یا دیت لیں یا بدلہ۔ اتنے میں ایک یمنی آدمی (ابوشاہ نامی) آیا اور کہنے لگا (یہ مسائل) میرے لیے لکھوا دیجیئے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوفلاں کے لیے (یہ مسائل) لکھ دو۔ تو ایک قریشی شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ! مگر اذخر (یعنی اذخر کاٹنے کی اجازت دے دیجیئے) کیونکہ اسے ہم گھروں کی چھتوں پر ڈالتے ہیں۔ (یا مٹی ملا کر) اور اپنی قبروں میں بھی ڈالتے ہیں (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (ہاں) مگر اذخر، مگر اذخر۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 113

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ: أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَلَا أَكْتُبُ"، تَابَعَهُ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حدثنا علي بن عبد الله، قال: حدثنا سفيان، قال: حدثنا عمرو، قال: اخبرني وهب بن منبه، عن اخيه، قال: سمعت ابا هريرة، يقول:" ما من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم احد اكثر حديثا عنه مني، إلا ما كان من عبد الله بن عمرو، فإنه كان يكتب ولا اكتب"، تابعه معمر، عن همام، عن ابي هريرة.
حضرت ہمام بن منبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں حضرت عبداللہ بن عمرو‬ ؓ ک‬ے علاوہ اور کوئی مجھ سے زیادہ حدیثیں بیان کرنے والا نہیں، کیونکہ وہ لکھا کرتے تھے میں لکھتا نہیں تھا۔ دوسری سند سے حضرت معمر نے وہب بن منبہ کی متابعت کی ہے، وہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بواسطہ ہمام بن منبہ روایت کرتے ہیں۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو نے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے وہب بن منبہ نے اپنے بھائی کے واسطے سے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے علاوہ مجھ سے زیادہ کوئی حدیث بیان کرنے والا نہیں تھا۔ مگر وہ لکھ لیا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔ دوسری سند سے معمر نے وہب بن منبہ کی متابعت کی، وہ ہمام سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 114

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَمَّا اشْتَدَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ، قَالَ: ائْتُونِي بِكِتَابٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ، قَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَنَا كِتَابُ اللَّهِ حَسْبُنَا، فَاخْتَلَفُوا وَكَثُرَ اللَّغَطُ، قَالَ: قُومُوا عَنِّي وَلَا يَنْبَغِي عِنْدِي التَّنَازُعُ، فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ كِتَابِهِ".
حدثنا يحيى بن سليمان، قال: حدثني ابن وهب، قال: اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال:" لما اشتد بالنبي صلى الله عليه وسلم وجعه، قال: ائتوني بكتاب اكتب لكم كتابا لا تضلوا بعده، قال عمر: إن النبي صلى الله عليه وسلم غلبه الوجع وعندنا كتاب الله حسبنا، فاختلفوا وكثر اللغط، قال: قوموا عني ولا ينبغي عندي التنازع، فخرج ابن عباس، يقول: إن الرزية كل الرزية ما حال بين رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين كتابه".
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب نبی ﷺ بہت بیمار ہو گئے تو آپ نے فرمایا: ’’لکھنے کا سامان لاؤ تاکہ میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے۔‘‘ حضرت عمر ؓ نے کہا: نبی ﷺ پر بیماری کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے، وہ ہمیں کافی ہے۔ لوگوں نے اختلاف شروع کر دیا اور شوروغل مچ گیا۔ تب آپ نے فرمایا: ’’میرے پاس سے اٹھ جاؤ، میرے ہاں لڑائی جھگڑے کا کیا کام ہے؟‘‘ پھر حضرت ابن عباس ؓ نکلے، فرماتے تھے: تمام مصائب سے بڑی مصیبت وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کی تحریر کے درمیان حائل ہو گئی۔
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے، انہیں یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، وہ عبیداللہ بن عبداللہ سے، وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں شدت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سامان کتابت لاؤ تاکہ تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں، تاکہ بعد میں تم گمراہ نہ ہو سکو، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے (لوگوں سے) کہا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب قرآن موجود ہے جو ہمیں (ہدایت کے لیے) کافی ہے۔ اس پر لوگوں کی رائے مختلف ہو گئی اور شور و غل زیادہ ہونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ کھڑے ہو، میرے پاس جھگڑنا ٹھیک نہیں، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ کہتے ہوئے نکل آئے کہ بیشک مصیبت بڑی سخت مصیبت ہے (وہ چیز جو) ہمارے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کی تحریر کے درمیان حائل ہو گئی۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم