(بخاری) جب جنبی کو (غسل کی وجہ سے) مرض بڑھ جانے کا یا موت ہونے کا یا (پانی کے کم ہونے کی وجہ سے) پیاس کا ڈر ہو تو تیمم کر لے۔
کتاب: تیمم کے احکام و مسائل
باب: جب جنبی کو (غسل کی وجہ سے) مرض بڑھ جانے کا یا موت ہونے کا یا (پانی کے کم ہونے کی وجہ سے) پیاس کا ڈر ہو تو تیمم کر لے۔
احادیث:2
ترجمۃ الباب
وَيُذْكَرُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَجْنَبَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فَتَيَمَّمَ وَتَلَا: وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29 فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُعَنِّفْ.
ويذكر ان عمرو بن العاص اجنب في ليلة باردة فتيمم وتلا: ولا تقتلوا انفسكم إن الله كان بكم رحيما سورة النساء آية 29 فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم فلم يعنف.
کہا جاتا ہے کہ حضرت عمرو بن عاص ؓ کو ایک جاڑے کی رات میں غسل کی حاجت ہوئی۔ تو آپ نے تیمم کر لیا اور یہ آیت تلاوت کی “ اپنی جانوں کو ہلاک نہ کرو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر بڑا مہربان ہے۔ ” پھر اس کا ذکر نبی کریمﷺ کی خدمت میں ہوا تو آپ ﷺنے ان کی کوئی ملامت نہیں فرمائی۔آیت کریمہ پھر صحابہ کرام کے عمل سے اسلام میں بڑی بڑی آسانیاں معلوم ہوتی ہیں۔ مگرصدافسوس کہ نام نہاد علماءوفقہاءنے دین کو ایک ہوابناکررکھ دیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ایک جاڑے کی رات میں غسل کی حاجت ہوئی۔ تو آپ نے تیمم کر لیا اور یہ آیت تلاوت کی «ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيما» ”اپنی جانوں کو ہلاک نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر بڑا مہربان ہے۔“ پھر اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوئی ملامت نہیں فرمائی۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): موقوف
حدیث نمبر: 345
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ غُنْدَرٌ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُود" إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ لَا يُصَلِّي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ رَخَّصْتُ لَهُمْ فِي هَذَا كَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُهُمُ الْبَرْدَ، قَالَ: هَكَذَا يَعْنِي تَيَمَّمَ وَصَلَّى"، قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَرَ؟ قَالَ: إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنِعَ بِقَوْلِ عَمَّارٍ.
حدثنا بشر بن خالد، قال: حدثنا محمد هو غندر، اخبرنا شعبة، عن سليمان، عن ابي وائل، قال: قال ابو موسى لعبد الله بن مسعود" إذا لم يجد الماء لا يصلي، قال عبد الله: لو رخصت لهم في هذا كان إذا وجد احدهم البرد، قال: هكذا يعني تيمم وصلى"، قال: قلت: فاين قول عمار لعمر؟ قال: إني لم ار عمر قنع بقول عمار.
حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے کہا: اگر تمہیں (جنابت کی حالت میں) پانی نہ ملے تو کیا تم نماز نہیں پڑھو گے؟ حضرت ابن مسعود ؓ نے جواب دیا: اگر میں اس معاملے میں رخصت دے دوں تو پھر یہ ہو گا کہ جب کبھی کسی کو سردی کا احساس ہو گا تو یہی کرے گا، یعنی تیمم کر کے نماز پڑھ لے گا۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے فرمایا: (اگر یہی بات ہے) تو پھر حضرت عمار ؓ کا وہ قول کہاں جائے گا جو انھوں نے حضرت عمر ؓ سے کہا تھا؟ حضرت ابن مسعود ؓ نے جواب دیا: میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ خود حضرت عمر ؓ کو حضرت عمار ؓ کے قول پر اطمینان نہیں ہوا تھا۔
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا مجھ کو محمد نے خبر دی جو غندر کے نام سے مشہور ہیں، شعبہ کے واسطہ سے، وہ سلیمان سے نقل کرتے ہیں اور وہ ابووائل سے کہ ابوموسیٰ نے عبداللہ بن مسعود سے کہا کہ اگر (غسل کی حاجت ہو اور) پانی نہ ملے تو کیا نماز نہ پڑھی جائے۔ عبداللہ نے فرمایا، ہاں! اگر مجھے ایک مہینہ تک بھی پانی نہ ملے تو میں نماز نہ پڑھوں گا۔ اگر اس میں لوگوں کو اجازت دے دی جائے تو سردی معلوم کر کے بھی لوگ تیمم سے نماز پڑھ لیں گے۔ ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے عمار رضی اللہ عنہ کے قول کا کیا جواب ہو گا۔ بولے کہ مجھے تو نہیں معلوم ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ عمار رضی اللہ عنہ کی بات سے مطمئن ہو گئے تھے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 346
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ، قَالَ:" كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: أَرَأَيْتَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِذَا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدْ مَاءً كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا يُصَلِّي حَتَّى يَجِدَ الْمَاءَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِقَوْلِ عَمَّارٍ، حِينَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَكْفِيكَ، قَالَ: أَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَدَعْنَا مِنْ قَوْلِ عَمَّارٍ كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَذِهِ الْآيَةِ، فَمَا دَرَى عَبْدُ اللَّهِ مَا يَقُولُ، فَقَالَ: إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا لَأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَى أَحَدِهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَدَعَهُ وَيَتَيَمَّمَ، فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ: فَإِنَّمَا كَرِهَ عَبْدُ اللَّهِ لِهَذَا، قَالَ: نَعَمْ".
حدثنا عمر بن حفص، قال: حدثنا ابي، قال: حدثنا الاعمش، قال: سمعت شقيق بن سلمة، قال:" كنت عند عبد الله، وابي موسى، فقال له ابو موسى: ارايت يا ابا عبد الرحمن، إذا اجنب فلم يجد ماء كيف يصنع؟ فقال عبد الله: لا يصلي حتى يجد الماء، فقال ابو موسى: فكيف تصنع بقول عمار، حين قال له النبي صلى الله عليه وسلم: كان يكفيك، قال: الم تر عمر لم يقنع بذلك، فقال ابو موسى: فدعنا من قول عمار كيف تصنع بهذه الآية، فما درى عبد الله ما يقول، فقال: إنا لو رخصنا لهم في هذا لاوشك إذا برد على احدهم الماء ان يدعه ويتيمم، فقلت لشقيق: فإنما كره عبد الله لهذا، قال: نعم".
حضرت شقیق بن سلمہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کے پاس تھا جب حضرت ابوموسیٰ نے حضرت ابن مسعود سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! آپ کی کیا رائے ہے، اگر کسی کو جنابت لاحق ہو جائے اور اسے پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے جواب دیا: جب تک پانی نہ ملے وہ نماز نہ پڑھے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے کہا: آپ حضرت عمار ؓ کے اس قول کی کیا تاویل کریں گے جب نبی ﷺ نے ان سے فرمایا تھا: ’’تمہیں (چہرے اور ہاتھوں کا مسح) کافی تھا‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے جواب دیا: کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عمر ؓ کو حضرت عمار ؓ کی اس روایت سے اطمینان نہیں ہوا تھا؟ حضرت ابوموسیٰ اشعری نے فرمایا: حضرت عمار ؓ کی روایت کو جانے دیجیے۔ قرآن مجید میں جو آیت تیمم ہے اس کا کیا جواب ہے؟ اس پر حضرت ابن مسعود ؓ لاجواب ہو گئے، فرمانے لگے: اگر ہم نے لوگوں کو اس کے متعلق رعایت دے دی تو عجب نہیں کہ جب کسی کو پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ اسے استعمال کرنے کے بجائے تیمم کر لیا کرے گا۔ (راوی حدیث حضرت اعمش کہتے ہیں: ) میں نے (اپنے شیخ ابووائل) شقیق بن سلمہ سے کہا: حضرت ابن مسعود ؓ اسی وجہ سے تیمم کی اجازت نہیں دیتے تھے؟ ابووائل نے جواب دیا: ہاں ایسا ہی ہے۔
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا کہ کہا ہم سے میرے والد حفص بن غیاث نے، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شقیق بن سلمہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) اور ابوموسیٰ اشعری کی خدمت میں تھا، ابوموسیٰ نے پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کو غسل کی حاجت ہو اور پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے۔ عبداللہ نے فرمایا کہ اسے نماز نہ پڑھنی چاہیے۔ جب تک اسے پانی نہ مل جائے۔ ابوموسیٰ نے کہا کہ پھر عمار کی اس روایت کا کیا ہو گا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تھا کہ تمہیں صرف (ہاتھ اور منہ کا تیمم) کافی تھا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتے کہ وہ عمار کی اس بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ پھر ابوموسیٰ نے کہا کہ اچھا عمار کی بات کو چھوڑو لیکن اس آیت کا کیا جواب دو گے (جس میں جنابت میں تیمم کرنے کی واضح اجازت موجود ہے) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ صرف یہ کہا کہ اگر ہم اس کی بھی لوگوں کو اجازت دے دیں تو ان کا حال یہ ہو جائے گا کہ اگر کسی کو پانی ٹھنڈا معلوم ہوا تو اسے چھوڑ دیا کرے گا۔ اور تیمم کر لیا کرے گا۔ (اعمش کہتے ہیں کہ) میں نے شقیق سے کہا کہ گویا عبداللہ نے اس وجہ سے یہ صورت ناپسند کی تھی۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
متعلقہ مصنوعات
Sahih Muslim Urdu Translation
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 28,000 Original price was: ₨ 28,000.₨ 22,500Current price is: ₨ 22,500.
Sahih al-Bukhari Urdu Translat
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 28,000 Original price was: ₨ 28,000.₨ 25,000Current price is: ₨ 25,000.
Mishkat ul Masabih 3 Volume
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 8,000 Original price was: ₨ 8,000.₨ 5,000Current price is: ₨ 5,000.