بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) قیامت کی نشانیاں

متفرق ابواب
باب: قیامت کی نشانیاں
احادیث:1

حدیث نمبر: 23

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ، حَتَّى يُهِمَّ رَبُّ الْمَالِ مَنْ يَتَقَبَّلُ مِنْهُ صَدَقَتَهُ، قَالَ: وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ وَيَقْتَرِبُ الزَّمَانُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ"، قَالُوا: الْهَرْجُ مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ الْقَتْلُ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تقوم الساعة حتى يكثر فيكم المال فيفيض، حتى يهم رب المال من يتقبل منه صدقته، قال: ويقبض العلم ويقترب الزمان وتظهر الفتن ويكثر الهرج"، قالوا: الهرج ما هو يا رسول الله؟ قال:" القتل القتل"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم میں مال کی کثرت نہ ہو جائے، پس وہ بہہ پڑے گا، یہاں تک کہ مالدار کو اس بات کی فکر ہو گی کہ میری زکوٰۃ مجھ سے کون قبول کرے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اور علم اٹھا لیا جائے گا، اور زمانہ (قیامت سے) قریب ہو جائے گا، اور فتنے ظاہر ہوں گے، اور ہرج کثرت سے ہو گا۔" لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! (ہرج) کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل و غارت، قتل و غارت۔"
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم