بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) کھانا پیش کرنے والے کو بھی کھانے میں شریک کرنا

متفرق ابواب
باب: کھانا پیش کرنے والے کو بھی کھانے میں شریک کرنا
احادیث:1

حدیث نمبر: 84

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاءَكُمُ الصَّانِعُ بِطَعَامِكُمْ قَدْ أَغْنَى عَنْكُمْ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ، فَادْعُوهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَكُمْ، وَإِلا فَأَلْقِمُوهُ فِي يَدِهِ أَوْ لِيُنَاوِلْهُ فِي يَدِهِ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا جاءكم الصانع بطعامكم قد اغنى عنكم حره ودخانه، فادعوه فلياكل معكم، وإلا فالقموه في يده او ليناوله في يده"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ جب باورچی تمہارے پاس کھانا لائے، جس نے تمہیں کھانے کی تپش اور اس کے دھوئیں سے مستغنی کیا ہے، تو اسے دعوت دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا تناول کرے ورنہ اس کے ہاتھ میں چند لقمے تھما دو۔”
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم