بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) اس بارے میں کہ حیض سے پاک ہونے کے بعد عورت کو اپنے بدن کو نہاتے وقت ملنا چاہیے۔

کتاب: حیض کے احکام و مسائل
باب: اس بارے میں کہ حیض سے پاک ہونے کے بعد عورت کو اپنے بدن کو نہاتے وقت ملنا چاہیے۔
احادیث:1

ترجمۃ الباب

وَكَيْفَ تَغْتَسِلُ، وَتَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَتَّبِعُ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ‏.‏
وكيف تغتسل، وتاخذ فرصة ممسكة فتتبع بها اثر الدم‏.‏
اور یہ کہ عورت کیسے غسل کرے، اور مشک میں بسا ہوا کپڑا لے کر خون لگی ہوئی جگہوں پر اسے پھیرے۔
‏‏‏‏ اور یہ کہ عورت کیسے غسل کرے، اور مشک میں بسا ہوا کپڑا لے کر خون لگی ہوئی جگہوں پر اسے پھیرے۔

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 314

حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ؟ فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، قَالَ:" خُذِي فِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ؟ قَالَ: تَطَهَّرِي بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي، فَاجْتَبَذْتُهَا إِلَيَّ، فَقُلْتُ: تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ".
حدثنا يحيى، قال: حدثنا ابن عيينة، عن منصور ابن صفية، عن امه، عن عائشة، ان امراة سالت النبي صلى الله عليه وسلم، عن غسلها من المحيض؟ فامرها كيف تغتسل، قال:" خذي فرصة من مسك فتطهري بها، قالت: كيف اتطهر؟ قال: تطهري بها، قالت: كيف؟ قال: سبحان الله تطهري، فاجتبذتها إلي، فقلت: تتبعي بها اثر الدم".
حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے اپنے غسل حیض کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے اس کے سامنے غسل کی کیفیت بیان کی۔ مزید فرمایا: ’’کستوری لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے طہارت حاصل کر۔‘‘ وہ کہنے لگی: اس کے ساتھ کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا: ’’سبحان اللہ! پاکیزگی حاصل کر۔‘‘ حضرت عائشہ‬ ؓ ف‬رماتی ہیں: میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور اسے سمجھایا کہ اسے خون کے مقامات پر لگا لے۔
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے منصور بن صفیہ سے، انہوں نے اپنی ماں صفیہ بنت شیبہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے فرمایا کہ ایک انصاریہ عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں حیض کا غسل کیسے کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشک میں بسا ہوا کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کر۔ اس نے پوچھا۔ اس سے کس طرح پاکی حاصل کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس سے پاکی حاصل کر۔ اس نے دوبارہ پوچھا کہ کس طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! پاکی حاصل کر۔ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ اسے خون لگی ہوئی جگہوں پر پھیر لیا کر۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

متعلقہ مصنوعات

No product found.