(بخاری) کھڑے ہو کر کسی عالم سے سوال کرنا جو بیٹھا ہوا ہو (جائز ہے)۔
کتاب: علم کے بیان میں
باب: کھڑے ہو کر کسی عالم سے سوال کرنا جو بیٹھا ہوا ہو (جائز ہے)۔
احادیث:1
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 123
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ غَضَبًا وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، فَرَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ، قَالَ: وَمَا رَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا، فَقَالَ:" مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
حدثنا عثمان، قال: اخبرنا جرير، عن منصور، عن ابي وائل، عن ابي موسى، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، ما القتال في سبيل الله؟ فإن احدنا يقاتل غضبا ويقاتل حمية، فرفع إليه راسه، قال: وما رفع إليه راسه إلا انه كان قائما، فقال:" من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله عز وجل".
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ کی راہ میں لڑنا کسے کہتے ہیں؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی غصے کی وجہ سے لڑتا ہے اور کوئی حمیت کے سبب جنگ کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف اپنا سر مبارک اٹھایا۔ ابو موسیٰ کہتے ہیں: آپ نے اپنا سر مبارک اس لیے اٹھایا تھا کہ وہ کھڑا تھا۔ پھر آپ نے فرمایا: ’’جو شخص اس لیے لڑے کہ اللہ کا بول بالا ہو تو ایسی لڑائی اللہ عزوجل کی راہ میں ہے۔‘‘
ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابووائل سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ کی راہ میں لڑائی کی کیا صورت ہے؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی غصہ کی وجہ سے اور کوئی غیرت کی وجہ سے جنگ کرتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سر اٹھایا، اور سر اسی لیے اٹھایا کہ پوچھنے والا کھڑا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ کے کلمے کو سربلند کرنے کے لیے لڑے، وہ اللہ کی راہ میں (لڑتا) ہے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
متعلقہ مصنوعات
No product found.