بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

محدث کا لفظ «حدثنا أو، أخبرنا وأنبأنا» استعمال کرنا صحیح ہے۔ (بخاری)

کتاب: علم کے بیان میں
باب: محدث کا لفظ «حدثنا أو، أخبرنا وأنبأنا» استعمال کرنا صحیح ہے۔
احادیث:1

ترجمۃ الباب

وَقَالَ لَنَا الْحُمَيْدِيُّ كَانَ عِنْدَ ابْنِ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا وَأَخْبَرَنَا وَأَنْبَأَنَا وَسَمِعْتُ وَاحِدًا. وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ. وَقَالَ شَقِيقٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً. وَقَالَ حُذَيْفَةُ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ. وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ. وَقَالَ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ.
وقال لنا الحميدي كان عند ابن عيينة حدثنا واخبرنا وانبانا وسمعت واحدا. وقال ابن مسعود حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق. وقال شقيق عن عبد الله سمعت النبي صلى الله عليه وسلم كلمة. وقال حذيفة حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثين. وقال ابو العالية عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم فيما يروي عن ربه. وقال انس عن النبي صلى الله عليه وسلم يرويه عن ربه عز وجل. وقال ابو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم يرويه عن ربكم عز وجل.
جیسا کہ امام حمیدی نے کہا کہ ابن عیینہ کے نزدیک الفاظ حدثنا اور أخبرنا اور أنبأنا اور سمعت ایک ہی تھے اور عبداللہ بن مسعود ؓ نے بھی یوں ہی کہا حدثنا رسول اللہ ﷺ درحالیکہ آپ سچوں کے سچے تھے۔ اور شقیق نے عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا، میں نے آنحضرتﷺ سے یہ بات سنی اور حذیفہ نے کہا کہ ہم سے رسول اللہﷺ نے دو حدیثیں بیان کیں اور ابوالعالیہ نے روایت کیا ابن عباس ؓ سے انھوں نے آنحضرتﷺ سے، آپ ﷺ نے اپنے پروردگار سے اور انس ؓ نے آنحضرت ﷺ سے روایت کی اور آپ ﷺ نے اپنے پروردگار سے۔ اور ابوہریرہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے روایت کی۔ کہا آپ ﷺ اس کو تمہارے رب اللہ تبارک وتعالیٰ سے روایت کرتے ہیں۔تشریح : حضرت امام  کا مقصد یہ ہے کہ محدثین کی نقل درنقل کی اصطلاح میں الفاظ حدثنا وأخبرنا وأنبأنا کا استعمال ان کا خود ایجادکردہ نہیں ہے۔ بلکہ خود آنحضرت ﷺ اور صحابہ وتابعین کے پاک زمانوں میں بھی نقل درنقل کے لیے ان ہی لفظوں کا استعمال ہوا کرتا تھا۔ حضرت امام یہاں ان چھ روایات کو بغیر سندکے لائے ہیں۔ دوسرے مقامات پر ان کی اسناد موجود ہیں۔ اسناد کا علم دین میں بہت ہی بڑا درجہ ہے۔ محدثین کرام نے سچ فرمایا ہے کہ الإسناد من الدین ولولا الإسناد لقال من شاء ما شاء یعنی اسناد بھی دین ہی میں داخل ہے۔ اگراسناد نہ ہوتی تو جس کے دل میں جوکچھ آتا وہ کہہ ڈالتا۔ مگرعلم اسناد نے صحت نقل کے لیے حدبندی کردی ہے اور یہی محدثین کرام کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ علم الاسناد کے ماہر ہوتے ہیں اور رجال کے ماله وماعلیه پر ان کی پوری نظر ہوتی ہے اسی لیے کذب وافتراءان کے سامنے نہیں ٹھہرسکتا۔
جیسا کہ امام حمیدی نے کہا کہ ابن عیینہ کے نزدیک الفاظ «حدثنا» اور «اخبرنا» اور «انبانا» اور «سمعت» ایک ہی تھے اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی یوں ہی کہا «حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم» درحالیکہ آپ سچوں کے سچے تھے۔ اور شقیق نے عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی اور حذیفہ نے کہا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حدیثیں بیان کیں اور ابوالعالیہ نے روایت کیا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے اور انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو تمہارے رب اللہ تبارک وتعالیٰ سے روایت کرتے ہیں۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 61

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ؟ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ".
حدثنا قتيبة، حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن من الشجر شجرة لا يسقط ورقها وإنها مثل المسلم، فحدثوني ما هي؟ فوقع الناس في شجر البوادي، قال عبد الله: ووقع في نفسي انها النخلة، ثم قالوا: حدثنا ما هي يا رسول الله؟ قال: هي النخلة".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’درختوں میں ایک ایسا درخت بھی ہے جو کبھی پت جھڑ نہیں ہوتا اور مسلمان کو اس سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟‘‘ یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خیالات جنگل کے درختوں کی طرف گئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، مگر میں (کہتے ہوئے) شرما گیا۔ پھر صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ فرمائیں وہ کون سا درخت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ کھجور کا درخت ہے۔‘‘
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درختوں میں ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے۔ بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ یہ سن کر لوگوں کا خیال جنگل کے درختوں کی طرف دوڑا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ مگر میں اپنی (کم سنی کی) شرم سے نہ بولا۔ آخر صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے پوچھا کہ وہ کون سا درخت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

متعلقہ مصنوعات

No product found.