بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:3

متفرق ابواب
حدیث نمبر:3

حدیث نمبر:3

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي الْحَضَرِ: الظُّهْرَ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ أَرْبَعًا، لَيْسَ بَعْدَهَا شَيْءٌ، وَالْمَغْرِبَ ثَلاثًا، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَالْعِشَاءَ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي السَّفَرِ: الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، لَيْسَ بَعْدَهَا شَيْءٌ، وَالْمَغْرِبَ ثَلاثًا، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَهِيَ وِتْرُ النَّهَارِ، فَلا يُنْتَقَصُ مِنْهَا فِي السَّفَرِ وَلا فِي الْحَضَرِ، وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ".
وعن ابن عمر، قال:" صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحضر والسفر، فصليت معه في الحضر: الظهر اربعا، وبعدها ركعتين، والعصر اربعا، ليس بعدها شيء، والمغرب ثلاثا، وبعدها ركعتين، والعشاء اربعا، وبعدها ركعتين، وصليت معه في السفر: الظهر ركعتين، وبعدها ركعتين، والعصر ركعتين، ليس بعدها شيء، والمغرب ثلاثا، وبعدها ركعتين، وهي وتر النهار، فلا ينتقص منها في السفر ولا في الحضر، والعشاء ركعتين، وبعدها ركعتين".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضر اور سفر میں نماز پڑھی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضر میں ظہر کی نماز چار رکعات (فرض) اور اس کے بعد دو رکعات ادا کیں اور عصر کی نماز کی چار رکعات (فرض) ادا کیں، اس کے بعد کچھ نہیں پڑھا اور مغرب کی نماز تین رکعات (فرض) اور ان کے بعد دو رکعات پڑھیں اور عشاء کی نماز چار رکعات (فرض) اور اس کے بعد دو رکعات ادا کی اور میں نے آپ کے ساتھ سفر میں ظہر کی نماز دو رکعات (فرض) اور اس کے بعد دو رکعات ادا کی اور عصر کی نماز (صرف) دو رکعات ادا کی اور ان کے بعد کچھ نہ پڑھا اور مغرب کی نماز تین رکعات (فرض) اور اس کے بعد دو رکعات (فرض) پڑھی اور یہ نماز دن کی وتر (نماز) ہے۔ سفر اور حضر میں اس میں کمی نہیں ہوتی اور عشاء کی نماز دو رکعات (فرض) اور اس کے بعد دو رکعات پڑھی۔

اس کی سند ضعیف ہے
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم