بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) بھونچال اور قیامت کی نشانیوں کے بیان میں

کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان
باب: بھونچال اور قیامت کی نشانیوں کے بیان میں
احادیث:2

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: مرسل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 1036

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ وَهُوَ الْقَتْلُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضُ".
حدثنا ابو اليمان، قال: اخبرنا شعيب، قال: اخبرنا ابو الزناد، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" لا تقوم الساعة حتى يقبض العلم وتكثر الزلازل ويتقارب الزمان وتظهر الفتن ويكثر الهرج وهو القتل حتى يكثر فيكم المال فيفيض".
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت قائم نہ ہو گی حتی کہ علم اٹھا لیا جائے گا، زلزلے بکثرت آئیں گے، وقت کم ہوتا جائے گا، فتنوں کا ظہور ہو گا اور قتل و غارت عام ہو گی، یہاں تک کہ تمہارے ہاں مال و دولت کی بہتات ہو گی، یعنی وہ عام ہو جائے گا۔‘‘
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے ابوالزناد (عبداللہ بن ذکوان) نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک علم دین نہ اٹھ جائے گا اور زلزلوں کی کثرت نہ ہو جائے گی اور زمانہ جلدی جلدی نہ گزرے گا اور فتنے فساد پھوٹ پڑیں گے اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی اور «هرج» سے مراد قتل ہے۔ قتل اور تمہارے درمیان دولت و مال کی اتنی کثرت ہو گی کہ وہ ابل پڑے گا۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: مرسل

قسم الحديث (القائل): موقوف

حدیث نمبر: 1037

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا، قَالَ: قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا، قَالَ: قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: قَالَ: هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ".
حدثنا محمد بن المثنى، قال: حدثنا حسين بن الحسن، قال: حدثنا ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، قال: قال:" اللهم بارك لنا في شامنا وفي يمننا، قال: قالوا: وفي نجدنا، قال: قال: اللهم بارك لنا في شامنا وفي يمننا، قال: قالوا: وفي نجدنا، قال: قال: هناك الزلازل والفتن وبها يطلع قرن الشيطان".
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے اللہ! ہمارے شام اور یمن میں برکت عطا فرما۔‘‘ لوگوں نے عرض کیا: ہمارے نجد کے لیے بھی برکت کی دعا کریں۔ تو آپ نے دوبارہ فرمایا: ’’اے اللہ! ہمارے شام اور یمن کو بابرکت فرما۔‘‘ لوگوں نے پھر عرض کیا اور ہمارے نجد میں بھی۔ تو آپ نے فرمایا: ’’وہاں زلزلے اور فتنے برپا ہوں گے، نیز شیطان کا گروہ بھی وہیں ہو گا۔‘‘
مجھ سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حسین بن حسن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اے اللہ! ہمارے شام اور یمن پر برکت نازل فرما۔ اس پر لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد کے لیے بھی برکت کی دعا کیجئے لیکن آپ نے پھر وہی کہا ”اے اللہ! ہمارے شام اور یمن پر برکت نازک فرما“ پھر لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد میں؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور شیطان کا سینگ وہی سے طلوع ہو گا۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

متعلقہ مصنوعات

No product found.