بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) دعا عزم مصمم کے ساتھ کرو یہ مت کہو کہ اے اللہ! تو چاہے تو بخش دے

متفرق ابواب
باب: دعا عزم مصمم کے ساتھ کرو یہ مت کہو کہ اے اللہ! تو چاہے تو بخش دے
احادیث:1

حدیث نمبر: 123

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَقُلْ أَحَدُكُمُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، أَوِ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، أَوِ ارْزُقْنِي إِنْ شِئْتَ، لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ، إِنَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ لا مُكْرِهَ لَهُ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يقل احدكم: اللهم اغفر لي إن شئت، او ارحمني إن شئت، او ارزقني إن شئت، ليعزم المسالة، إنه يفعل ما يشاء لا مكره له"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اس انداز سے دعا نہ کرے کہ ”اے اللہ! اگر تو چاہے مجھے بخش دے، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما، یا اگر تو چاہے تو مجھے رزق دے۔“ بلکہ وہ پورے یقین کے ساتھ مانگے کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے، اس پر زبردستی کرنے والا کوئی نہیں۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

    ویڈیوز
    شرعی مسائل کا حل

    کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم