بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) نماز کے لیے مسجد کی طرف اطمینان سے آؤ

متفرق ابواب
باب: نماز کے لیے مسجد کی طرف اطمینان سے آؤ
احادیث:1

حدیث نمبر: 110

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلاةِ، فَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوا"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا نودي بالصلاة، فاتوها وانتم تمشون وعليكم السكينة، فما ادركتم فصلوا، وما سبقتم فاتموا"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی اذان کہی جائے تو نماز کے لیے سکون اور اطمینان سے چلتے ہوئے آؤ، پھر جو نماز تم پا لو، اسے پڑھ لو اور جو رہ جائے، اسے (بعد میں) پورا کر لو۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم