بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:6

متفرق ابواب
حدیث نمبر:6

حدیث نمبر:6

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: جَاءَ عُبَيْدٌ إِلَى أَبِي، فَقَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ خِصَالٍ، فَقَالَ لِي:" هَاتِ، فَإِنَّكَ لا تَزَالُ تَأْتِينِي بِشَيْءٍ"، قُلْتُ: رَأَيْتُكَ لا تَمْسَحُ مِنْ هَذِهِ الأَرْكَانِ إِلا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ، وَالرُّكْنَ الَّذِي فِيهِ الْحَجَرُ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ"، قَالَ: وَرَأَيْتُكَ لا تَلْبَسُ مِنْ هَذِهِ النِّعَالِ إِلا السِّبْتِيَّةَ، قَالَ عَاصِمٌ: السِّبْتِيَّةُ تُحْلَقُ وَتُدْبَغُ، لَيْسَ فِيهِ شَعَرٌ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ، يَتَوَضَّأُ فِيهَا، وَيُصَلِّي فِيهَا، وَيَسْتَحِبُّهَا".
حدثنا محمد بن سابق، حدثنا عاصم، عن عبد الله بن سعيد، عن عبيد بن جريج، قال: جاء عبيد إلى ابي، فقال: اتيت ابن عمر، فسالته عن خصال، فقال لي:" هات، فإنك لا تزال تاتيني بشيء"، قلت: رايتك لا تمسح من هذه الاركان إلا الركن اليماني، والركن الذي فيه الحجر، قال:" رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع ذلك"، قال: ورايتك لا تلبس من هذه النعال إلا السبتية، قال عاصم: السبتية تحلق وتدبغ، ليس فيه شعر، قال:" رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع ذلك، يتوضا فيها، ويصلي فيها، ويستحبها".

عبید بن جریج سے مروی ہے انہوں نے کہا: عبید میرے باپ کے پاس آئے اور عرض کیا: میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور ان سے کچھ کاموں سے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: بیان کریں آپ ہمیشہ میرے پاس کسی مقصد سے ہی آئے ہیں۔ میں نے پوچھا: میں نے آپ کو رکن یمانی اور حجر اسود کے علاوہ کسی اور رکن کو چھوتے نہیں دیکھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی کرتے دیکھا ہے۔ ابن جریج نے کہا: میں نے آپ کو صرف سبتی جوتے ہی پہنے ہوئے دیکھا ہے۔ عاصم نے کہا: سبتی جوتے سے مراد وہ جوتا ہے جو چمڑے کو صاف کرنے اور رنگنے کے بعد جس میں بال نہ ہوں، تیار ہو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے (سبتی جوتے پہنے) دیکھا۔ آپ اس میں وضو کرتے اور اس میں نماز ادا کرتے اور اس کو پسند فرماتے تھے۔

صحیح
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم