الحديث المرفوع
تعريفه
خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قال الخطيب: ما أخبر فيه الصحابي عن قول الرسول ﷺ أو فعله
“یہ وہ حدیث ہے جس میں صحابی، رسول اللہ ﷺ کے کسی قول یا فعل کی خبر دے۔”
میں (مصنف) کہتا ہوں: بلکہ یہ (مرفوع کا دائرہ) اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے، اور فیصلہ کن بات یہ ہے کہ: ہر وہ بات، فعل، تقریر (خاموش منظوری) یا صفت جس کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کی جائے، وہ مرفوع ہے؛ بالکل اسی طرح جیسے پیچھے لفظ ‘(حدیث)’ کی اصطلاحی تعریف گزری ہے۔
اور ایسا لگتا ہے کہ یہ لفظ (مرفوع) مقام و مرتبہ کی رفعت (بلندی) سے اخذ کیا گیا ہے۔
اور کبھی کبھار نبی کریم ﷺ کی طرف صراحت کے ساتھ نسبت کرنے کے بجائے (اختصار کے طور پر) یہ لفظ استعمال کر لیا جاتا ہے، مثلاً یوں کہا جاتا ہے: “عن أبي هريرة مرفوعًا” (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے) اور پھر حدیث کے الفاظ بیان کر دیے جاتے ہیں، بغیر اس بات کا ذکر کیے کہ: “قال رسول الله ﷺ” (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا)۔ ایسا عام طور پر اختصار کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن میری نظر میں صحیح احادیث میں اس طرح کے اختصار سے بچنا چاہیے، کیونکہ اس کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کا مبارک ذکر اور آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کی فضیلت فوت ہو جاتی ہے۔
مسائل
پہلا مسئلہ:
یہ اس بات سے متعلق ہے کہ ائمہ سلف جب (المسند) کا لفظ عام بولتے ہیں تو اس سے ان کی مراد وہ ‘حدیثِ مرفوع’ ہوتی ہے جو نبی کریم ﷺ تک متصل ہو، جیسا کہ میں نے ‘مسند’ کی تعریف میں اس کی وضاحت کر دی ہے۔
دوسرا مسئلہ
جب کوئی صحابی کسی بات کو بیان کرے اور اس میں کوئی ایسا قرینہ (اشارہ یا دلیل) پایا جائے جو اس بات پر دال ہو کہ انہوں نے یہ بات نبی کریم ﷺ ہی سے حاصل کی ہے، تو وہ ‘حدیثِ مسند/ مرفوع’ کہلائے گی۔
اور کیا اسی قبیل سے تابعین کا صحابہ سے روایت کرتے ہوئے یہ کہنا بھی ہے: “(يرفع الحديث) وہ حدیث کو مرفوع کرتے ہیں” یا “(ينميه) وہ اسے منسوب کرتے ہیں” یا “(يبلغ به) وہ اس تک پہنچاتے ہیں” یا اس ہم معنی دیگر الفاظ، جن میں نبی ﷺ کا نامِ مبارک صراحت سے ذکر نہیں ہوتا؟
جواب: جی ہاں! یہ الفاظ نبی کریم ﷺ ہی سے (روایت ہونے پر) دلالت کرتے ہیں۔
اس کی مثال وہ روایت ہے جسے ابو یعلى الموصلی نے اپنی مسند میں تخریج کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ہمیں ابو خیثمہ نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں ہمیں محمد بن عبد الله الاسدی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں ہمیں اسرائیل نے ابو اسحاق سے، انہوں نے محمد بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا، اور وہ حدیث کو مرفوع کرتے ہیں (یعنی نبی ﷺ تک پہنچاتے ہیں) کہ:
«من ترك الحيّات مخافة طلبهن فليس منا، ما سالمنا هن منذ حاربناهنَّ»
“کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق (بول چال بند) رکھے۔”
اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: جب (راوی) کہے: “(يرفع الحديث) وہ حدیث کو مرفوع کرتا ہے” تو کیا وہ نبی ﷺ ہی سے ہوتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: «فأيُّ شيءٍ؟» (تو پھر اور کس سے ہوگی؟) یعنی: اگر وہ نبی ﷺ سے نہیں ہوگی تو پھر بھلا اور کس سے ہو سکتی ہے؟
لیکن یہاں یہ بات لازمی ہے کہ اس حکم کو خاص طور پر صحابی کے قول تک محدود رکھا جائے (یعنی جب تابعی صحابی کے بارے میں یہ الفاظ کہے۔) لیکن اگر کوئی تابعی (اپنے سے نیچے والے راوی کے لیے) یا اس سے بعد کا کوئی راوی یہ الفاظ کہے، تو میری راجح رائے کے مطابق اسے (مرفوع کی طرح) مرسل احادیث کے درجے میں بھی نہیں اتارا جائے گا (بلکہ وہ مبہم رہے گا)۔
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے ان (محدثین) کو پایا ہے کہ وہ اس عبارت سے یہ مراد لیتے ہیں کہ راوی حدیث کو اپنے سے اوپر والے کسی راوی تک پہنچاتا ہے، اور وہ خبر کا کوئی بھی راوی ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر: وہ روایت جسے موسى بن مسلم الحزامی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ کو سنا، وہ حدیث کو مرفوع کرتے تھے—جہاں تک میرا خیال ہے—سیدنا ابن عباس تک، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«من ترك الحيّات مخافة طلبهن فليس منا، ما سالمنا هن منذ حاربناهنَّ»
“جس نے سانپوں کو (مارنے کے لیے) ان کا پیچھا کرنے کے ڈر سے چھوڑ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہماری ان سے جنگ ہے ہم نے کبھی ان سے صلح نہیں کی-“
اب اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ: یہاں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما کے ذکر کے قرینے سے یہ واضح ہوا کہ ان کا قول “(يرفع الحديث)” براہِ راست نبی ﷺ سے ہونے کے معنی میں نہیں ہے، لیکن اگر روایت اس قرینے سے خالی ہو، تو پھر اسے ‘مرسل حدیث’ کا حکم دیا جانا چاہیے؟
تو میں (مصنف) کہتا ہوں: جب انہوں نے اس مذکورہ عبارت کو محض خبر کی سند کو اسناد کے ایک اعلیٰ درجے تک اٹھانے (ارتقاء) کے لیے استعمال کیا ہے، اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ یہاں اس درجے سے مراد صحابی ہیں—جبکہ ان محدثین کی طرف سے کوئی ایسی واضح صراحت بھی موجود نہیں ہے جو ان کی مراد کی تفسیر کرے اور اسے اسی اصطلاحی معنی (مرفوع الى النبي) میں بند کرے جسے ہم جانتے ہیں—تو ایسی صورت میں اس بات کا قوی احتمال موجود رہتا ہے کہ اس عبارت کو کہنے والے راوی کی مراد اپنے سے اوپر اور نبی ﷺ سے نیچے کسی بھی قائل یا غافل راوی سے ہو۔
الا یہ کہ ہم کسی معتبر طریق سے اس خبر پر اس طرح مطلع ہو جائیں کہ راوی نے اسے صراحت کے ساتھ نبی ﷺ تک مرفوع کیا ہو۔
اور متاخرین اہل علم کا کتبِ حدیث سے احادیث نقل کرتے وقت اختصار کے طور پر لفظ “(مرفوعاً)” لکھ دینا اس قبیل سے نہیں ہے، کیونکہ ہم ان کے سیاق و سباق اور کتبِ حدیث کے اصل مصادر کی روشنی میں یہ بات پہلے سے جانتے ہوتے ہیں کہ یہ نبی ﷺ ہی سے مروی ہے؛ اگرچہ خاص طور پر ثابت شدہ احادیث میں اس طرح کے اختصار سے بچنا ہی زیادہ بہتر ہے، جیسا کہ پہلے اس پر تنبیہ کی جا چکی ہے۔
تیسرا مسئلہ
صحابی کا یہ کہنا: “(قال: قال) انہوں نے کہا: انہوں نے فرمایا” جبکہ اس میں نبی کریم ﷺ کا نامِ مبارک صراحت سے ذکر نہ ہو، تو کیا وہ مرفوع ہوگی؟
حدیث کی روایتوں میں یہ ایک ایسی صورت ہے جو بہت کم (نادر) پیش آتی ہے۔
اس کی مثال: وہ روایت ہے جسے اسود بن عامر شاذان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے ادریس الاودی نے اپنے والد سے، انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کہا، (انہوں نے) فرمایا:
«لا يصلي أحدكم وهو يجد الخَبَثَ»
“تم میں سے کوئی بھی اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ وہ قضاءِ حاجت (پیشاب یا پاخانہ) روکنے کی شدت محسوس کر رہا ہو۔”
اس مسئلے کی تنقیح و تحقیق:
اس صورتِ حال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ صیغہ (قال: قال) محض اپنی ذات میں حدیث کے مرفوع ہونے کا فائدہ نہیں دیتا، بلکہ اس سند (اور طریقے) سے یہ روایت ‘موقوف’ (صحابی کا اپنا قول) ہی شمار ہوگی۔ اور یہ جو مثال اوپر ذکر کی گئی ہے، اس میں اصل میں امام شعبہ پر ہی راویوں کا اختلاف ہے کہ آیا یہ مرفوع ہے یا موقوف۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پورے مسئلے میں کوئی ایسی مثال ملنا ناممکن کے قریب ہے جو کسی نہ کسی علت (پوشیدہ عیب یا خرابی) سے پاک ہو؛ لہٰذا اس علت کی موجودگی میں یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ صیغہ (قال: قال) مرفوع ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔
جہاں تک امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے بارے میں یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات جان بوجھ کر صراحت کے ساتھ حدیث کو مرفوع نہیں کرتے تھے حالانکہ وہ ان کے نزدیک مرفوع ہی ہوتی تھی، تو تحقیق کی رو سے یہ کوئی ایسا قاعدہ نہیں ہے جو ہر جگہ لاگو ہوتا (مطرد) ہو۔
اس کی وضاحت یوں ہے: حافظ دعلج بن احمد السجزی فرماتے ہیں کہ ہمیں موسیٰ بن ہارون نے حماد بن زید کے طریق سے حدیث بیان کی، انہوں نے ایوب سے، انہوں نے محمد (بن سیرین) سے اور انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا، (انہوں نے) فرمایا: «الملائكة تصلي على أحدكم مادام في مصلاه» (فرشتے تم میں سے اس وقت تک کسی کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنے جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے)۔ اس پر موسیٰ بن ہارون نے کہا: “جب حماد بن زید اور دیگر بصری راوی قال: قال کہیں، تو وہ حدیث مرفوع ہوتی ہے۔”
خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابو بکر البرقانی سے کہا: میرا یہ خیال ہے کہ موسیٰ بن ہارون کی اس بات سے مراد خاص طور پر صرف ابن سیرین کی احادیث ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: “ہاں، تمہارا یہ خیال بالکل درست ہے۔”
مصنف کا تبصرہ:
میں کہتا ہوں کہ یہ (واحد) مثال ایسی نہیں ہے جس پر کوئی مستقل اصول یا قاعدہ وضع کیا جا سکے، اور موسیٰ بن ہارون الحمال کا اس بات کو عام (مطلق) رکھنا صحیح نہیں ہے۔ البتہ خطیب بغدادی نے جو یہ اندازہ لگایا کہ یہ معاملہ صرف ابن سیرین کی ان روایات کے ساتھ خاص ہے جو وہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، تو ان کا یہ اندازہ بالکل درست ہے—بشرطیکہ حدیث کے سیاق و سباق میں کوئی ایسا قرینہ موجود نہ ہو جو اسے اصل وقف (موقوف ہونے) پر محمول کرے۔
واقعہ یہ ہے کہ امام ابن سیرین نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کئی ایسی احادیث بیان کی ہیں جن میں انہوں نے نبی کریم ﷺ تک رفع کی صراحت نہیں کی، حالانکہ وہ تمام احادیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے دیگر طرق سے مرفوعاً ہی محفوظ ہیں۔ بلکہ کبھی کبھار خود ابن سیرین کے اپنے طریق سے بھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ وہ اسے بغیر رفع کے (موقوفاً) بیان کرتے ہیں اور دوسری مرتبہ صراحت کے ساتھ اسے مرفوع کر دیتے ہیں، جیسے کہ ابن سیرین کے علاوہ دیگر راویوں نے بھی اسے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً ہی نقل کیا ہے۔
اور یہی صورتِ حال مذکورہ بالا حدیث (فرشتوں کی دعا والی) کے دیگر طرق میں بھی سامنے آتی ہے۔ چنانچہ بصری راویوں میں سے: ایوب سختیانی، ہشام بن حسان، اور عمران بن مسلم القصير—ان سب نے اسے ابن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی (یعنی یہاں صراحت کے ساتھ رفع موجود ہے)۔
خطیب بغدادی نے اپنے اسی اندازے پر ابن سیرین کے اس قول سے بھی استدلال کیا ہے جس میں ابن سیرین فرماتے ہیں: «كل شيء حدثت عن أبي هريرة فهو مرفوع» (ہر وہ بات جو میں نے سیدنا ابو ہریرہ سے بیان کی ہے، وہ مرفوع ہی ہے)۔
اور محمد بن سیرین سے یہ بات بالکل صحیح سند سے ثابت ہے کہ جب وہ حضرت ابو ہریرہ سے حدیث بیان کرتے اور ان سے پوچھا جاتا: “کیا یہ نبی ﷺ سے ہے؟” تو وہ فرماتے: «كل شيء حدثت أبي هريرة فهو مرفوع» (ابو ہریرہ کی تو ہر حدیث ہی نبی ﷺ سے ہوتی ہے)۔
امام طحاوی رحمہ اللہ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “ابن سیرین ایسا اس لیے کرتے تھے کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان کے سامنے صرف اور صرف نبی کریم ﷺ ہی کی احادیث بیان فرمایا کرتے تھے (اس لیے ابن سیرین کے ہاں رفع کی صراحت نہ ہونا نقصان دہ نہیں تھا)۔”
خلاصہ کلام (ابن سیرین کے حوالے سے ایک خاص فائدہ): ابن سیرین کے اس طرزِ عمل سے ہمیں ایک خاص فائدہ حاصل ہوتا ہے؛ وہ یہ کہ جب بھی کوئی حدیث ان کے طریق سے ایک جگہ مرفوع اور دوسری جگہ موقوف آئے، تو اس اختلاف کو ایسا نقصان دہ اختلاف (اختلافِ قادح) نہیں سمجھا جائے گا جو حدیث کے مرفوع ہونے کی صحت کو متاثر کرے، بلکہ ایسی صورت میں اس حدیث پر ‘مرفوع’ ہونے کا حکم لگانا ہی متعین اور واجب ہوگا۔
چوتھا مسئلہ
ہر وہ بات جس جیسی بات محض عقل و اجتہاد سے نہ کہی جا سکتی ہو، تو اصل یہ ہے کہ وہ حکماً مرفوع (یعنی نبی ﷺ کے فرمان کے حکم میں) ہوتی ہے۔
اس کی صورت یہ ہے کہ صحابی کوئی ایسی بات بیان کرے جسے جاننے کا راستہ وحی کے علاوہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا، بشرطیکہ وہ صحابی اسرائیلیات (اہلِ کتاب کی روایات) بیان کرنے کے لیے معروف نہ ہو، خاص طور پر ان معاملات میں جو اہلِ کتاب کی خبروں سے میل کھا سکتے ہوں؛ جیسے: گزشتہ امتوں کے احوال، آغازِ کائنات کی باتیں، اور مستقبل میں پیش آنے والے واقعات۔ صحابہ کرام میں سے اہلِ کتاب سے روایات نقل کرنے میں سب سے زیادہ معروف سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص اور سیدنا ابو ہریرہ ہیں، اور کبھی کبھار ان کے علاوہ دیگر صحابہ سے بھی ایسا ہوا ہے، بالخصوص ان صحابہ سے جو شام میں جا کر آباد ہوئے تھے۔
اور چونکہ یہ جاننا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے کہ صحابی نے یہ روایت اہل کتب سے حاصل کی ہے یا خود رسول اللہ ﷺ کی توقیف (تعلیم) سے، کیونکہ ہمارے پاس اس معاملے میں کوئی ایسی دلیل نہیں ہوتی جو قطعی فیصلہ کر سکے، بلکہ یہ صرف ایک گمان (مظنہ) پر قائم ہوتا ہے؛ لہٰذا علمی احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ حدیث کے سیاق و سباق میں مذکورہ بالا شرائط کے علاوہ بھی کوئی ایسا قرینہ پایا جائے جو اس بات کے احتمال کو کمزور کر دے کہ یہ اہل کتاب کی باتوں میں سے ہے۔
اس کی مثال: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے:
«من قرأ سورة الكهف يوم الجمعة أضاء له من النور ما بينه وبين البيت العتيق»
“جس نے جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے اور بیتِ عتیق (کعبہ) کے درمیان کے فاصلے کو نور سے روشن فرما دیتا ہے۔”
یہاں دیکھیے، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اسرائیلیات بیان کرنے میں بالکل معروف نہیں ہیں، اور انہوں نے ایک ایسی چیز بیان کی ہے جو خاص طور پر اسی امت (امت مسلمہ) کے ساتھ مخصوص ہے—یعنی جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کی فضیلت، اور سورۂ کہف ان چیزوں میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہیں۔ مزید یہ کہ اس میں “بیت عتیق” (کعبہ) کا ذکر ہے اور اہل کتاب کا کعبہ سے کوئی تعلق یا سروکار نہیں ہے۔
ایک اہم انتباہ (جس میں احتیاط واجب ہے):
اس صورتِ حال میں ایک معاملے میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے، اور وہ یہ کہ جب صحابی (بغیر نص کے) کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے کا فیصلہ دے، تو کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کا حکم بھی مرفوع کا ہے؛ حالانکہ یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام حلال و حرام کے معاملات میں لوگوں کو فتاویٰ دیا کرتے تھے، اور جس طرح ان کے بعد آنے والے دیگر علماء کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ ان مسائل میں اپنے اجتہاد سے حلال یا حرام کا حکم لگائیں جہاں کوئی واضح نص موجود نہ ہو، اسی طرح صحابہ کے علماء تو اس امت کے مجتہدین کے سردار اور پیشوا تھے۔ وہ اپنے اجتہاد سے بات کہنے میں سب سے آگے تھے، اسی لیے انہوں نے اجتہاد فرما کر حلال اور حرام کے احکام بیان کیے اور اسی وجہ سے ان کے درمیان فقہی مسائل میں اختلافات بھی واقع ہوئے۔
پانچواں مسئلہ
صحابی کا یہ کہنا: “(أُمرنا بكذا) ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا”، “(نُهينا عن كذا) ہمیں اس چیز سے روکا گیا”، “(كنا نُؤمر بكذا) ہمیں یہ حکم دیا جاتا تھا”، “(كنا نُنهى بكذا) ہمیں اس سے منع کیا جاتا تھا”، “( على عهد رسول الله ﷺ نفعل كذا) ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایسا کیا کرتے تھے”، “(كنا نقول ورسول الله ﷺ فينا) ہم یہ بات کہتے تھے۔
میں (مصنف) کہتا ہوں: امام شافعی رحمہ اللہ کا “ان شاء اللہ” کہنا اس گمان اور متبادل احتمال کی وجہ سے ہے کہ کہیں صحابی نے یہ بات محض اپنے اجتہاد سے نہ کہی ہو، (یہی وجہ ہے کہ) یہ صیغہ اپنے مرتبے میں صراحت کے ساتھ مروی مرفوع صحیح حدیث کے برابر نہیں ہوتا۔
جہاں تک حنظلہ سدوسی کے اس واقعے کا تعلق ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ: “کوڑے کا حکم دیا جاتا تھا تو اس کا سرا کاٹ دیا جاتا تھا۔۔۔پھر اسے دو پتھروں کے درمیان کوٹا جاتا، پھر اس سے مارا جاتا تھا۔” تو میں نے انس سے پوچھا: “یہ کس کے زمانے میں ہوتا تھا؟” انہوں نے جواب دیا: “عمر بن خطاب کے زمانے میں”۔ تو (اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ) یہ روایت اپنی سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے، لہٰذا ایسی غیر صحیح روایات سے اس طے شدہ اصول پر کوئی اعتراض (تعاقب) نہیں کیا جا سکتا۔
اور جب صحابی کسی ایسے عام شائع معاملے کو حکایت کرے جسے وہ تمام صحابہ کی طرف منسوب کر رہا ہو، مثلاً یوں کہے: “(كانوا يفعلون كذا) وہ لوگ ایسا کیا کرتے تھے” اور اس میں نہ تو نبی ﷺ کا کوئی ذکر ہو اور نہ ہی کوئی ایسی بات ہو جو آپ ﷺ کے مبارک زمانے پر دلالت کرتی ہو، بلکہ اس میں صرف صحابہ کرام کا حوالہ پایا جائے، تو ایسی حدیث ‘موقوف’ شمار ہوگی۔
اس کی مثال: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے:
“رسول اللہ ﷺ کے اصحاب جب بھی بیٹھ کر گفتگو کرتے، تو ان کی گفتگو کا محور فقہ (دین کی سمجھ بوجھ) ہوتا تھا؛ سوائے اس کے کہ وہ کسی شخص کو کہیں اور وہ ان کے سامنے (قرآن کی) کوئی سورت پڑھے، یا کوئی شخص خود قرآن کی کوئی سورت پڑھنے لگے۔”
یہ امام حاکم رحمہ اللہ کے قول کے مطابق ‘موقوف’ ہے۔
اور اس کی مثال عمرو بن سلمہ الجرمی کے واقعے جیسی ہے، جب انہوں نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ان کے والد نے (اپنی قوم سے) کہا: “باللہ! میں تمہارے پاس سچے نبی ﷺ کے پاس سے ہو کر آیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا ہے: ‘فلان نماز فلان وقت پڑھو، اور فلان نماز فلان وقت پڑھو، اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے، اور تم میں سے وہ امامت کرائے جسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہو۔”” عمرو بن سلمہ کہتے ہیں: “چنانچہ لوگوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ کسی کو قرآن یاد نہیں تھا، کیونکہ میں سواروں (مسافروں) سے مل کر قرآن سیکھ لیا کرتا تھا، تو انہوں نے مجھے اپنے آگے (امام) کھڑا کر دیا، حالانکہ میری عمر اس وقت صرف چھ یا سات سال تھی۔ مجھ پر ایک چادر تھی کہ جب میں سجدہ کرتا تو وہ اوپر کو سڑک جاتی (اور جسم کھل جاتا)، تو قبیلے کی ایک عورت نے کہا: ‘تم اپنے قاری کی پشت (ستر) ہم سے چھپاتے کیوں نہیں؟’ چنانچہ انہوں نے کپڑا خریدا اور میرے لیے ایک قمیص کاٹ کر بنائی۔ میں اپنی زندگی میں کسی چیز سے اتنا خوش نہیں ہوا جتنا اس قمیص سے خوش ہوا تھا۔”
اس واقعے کی علمی و اصطلاحی تنقیح:
یہ حدیثِ اہل علم کی ایک جماعت کے نزدیک اس بات کی دلیل ہے کہ نابالغ بچے کی امامت صحیح ہے۔ لیکن حقیقتِ حال یہ ہے کہ عمرو بن سلمہ کو ان کے چھوٹے ہونے کے باوجود قوم کا آگے کھڑا کرنا—اس کا ذکر روایت میں اس طرح نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ اس پر مطلع ہوئے، آپ ﷺ کو اس کا علم ہوا اور آپ ﷺ نے اس کی توثیق (اقرار) فرمائی۔
تاہم، اس مسئلے میں دونوں اقوال میں سے محقق اور راجح بات یہ ہے کہ: نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں صحابہ کرام میں سے کسی سے بھی جو عمل منقول ہو، وہ حکماً مرفوع ہی شمار ہوتا ہے اور وہ ایسی دلیل ہے جس سے شرعاً احتجاج (استدلال) کیا جا سکتا ہے، اور اس کا الحاق ‘تشریعِ تقریری’ (نبی ﷺ کی خاموش منظوری) کے ساتھ ہوتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو سب دیکھ رہا تھا اور وحی کا نزول جاری تھا۔ قرآن مجید میں اس دور کے لوگوں کے احوال اور اعمال کے بارے میں کتنی ہی ایسی چیزیں نازل ہوئیں جن کا علم نبی کریم ﷺ کو خود نہیں تھا، یہاں تک کہ ان کے متعلق خاص طور پر وحی نازل ہو گئی؟
اور اس قاعدے کی تائید اس صحیح روایت سے بھی ہوتی ہے جو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے، انہوں نے فرمایا:
“ہم رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں اپنی عورتوں سے زیادہ گفتگو کرنے اور کھل کر پیش آنے سے پرہیز کرتے تھے؛ اس ڈر سے کہ کہیں ہمارے بارے میں قرآن (کی کوئی آیت) نازل نہ ہو جائے۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی تو ہم کھل کر گفتگو کرنے لگے”
چھٹا مسئلہ
قرآن مجید کی تفسیر میں صحابی کے قول کا حکم: اگر اس کا تعلق سببِ نزول سے ہو، تو وہ ‘حدیثِ مسند’ ہے، اگرچہ اس میں نبی ﷺ کا ذکر نہ بھی کیا گیا ہو، کیونکہ نزول نبی ﷺ کی زندگی میں ہوا تھا۔ اور اگر وہ کسی معنی کا بیان ہو، تو وہ ‘موقوف’ (صحابی کا اپنا قول) ہے، إلّا یہ کہ وہ ایسی خبر ہو جس جیسی بات محض رائے اور اجتہاد سے نہ کہی جا سکتی ہو؛ تو ایسی صورت میں وہ ‘حکماً مرفوع’ ہوگی بشرطیکہ یہ اطمینان ہو کہ اس صحابی نے اسے اہلِ کتاب سے نہیں لیا، جیسا کہ پیچھے (چوتھے مسئلے) میں بیان ہو چکا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
تحقیق و تدوین

حسنین علی
حسنین متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور محقق ہیں۔آپ تقابلِ ادیان، بین المسالک اختلافات اور علمی ردود کے محقق ہیں۔


