(بخاری) مسلمانوں کا مشرکوں کے ساتھ سجدہ کرنا حالانکہ مشرک ناپاک ہے (اس کو وضو کہاں سے آیا)
کتاب: سجود قرآن کے مسائل
باب: مسلمانوں کا مشرکوں کے ساتھ سجدہ کرنا حالانکہ مشرک ناپاک ہے (اس کو وضو کہاں سے آیا)
احادیث:1
ترجمہ الباب
وَالْمُشْرِكُ نَجَسٌ لَيْسَ لَهُ وُضُوءٌ. وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْجُدُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ.
والمشرك نجس ليس له وضوء. وكان ابن عمر رضي الله عنهما يسجد على غير وضوء.
اور عبداللہ بن عمر ؓ بےوضو سجدہ کیا کرتے تھے۔
حالانکہ مشرک ناپاک ہے (اس کو وضو کہاں سے آیا) اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بےوضو سجدہ کیا کرتے تھے۔
قسم الحديث: فعلی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 1071
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ مَعَهُ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ"، وَرَوَاهُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ.
حدثنا مسدد، قال: حدثنا عبد الوارث، قال: حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضي الله عنهما،" ان النبي صلى الله عليه وسلم سجد بالنجم وسجد معه المسلمون والمشركون والجن والإنس"، ورواه بن طهمان، عن ايوب.
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سورہ نجم میں سجدہ کیا اور آپ کے ہمراہ اس وقت تمام اہل اسلام، مشرکین اور جن و انس نے سجدہ کیا۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم میں سجدہ کیا تو مسلمانوں، مشرکوں اور جن و انس سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا۔ اس حدیث کی روایت ابراہیم بن طہمان نے بھی ایوب سختیانی سے کی ہے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
متعلقہ مصنوعات
No product found.