بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) نماز میں آمین کہنے پر سابقہ گناہوں کی معافی

متفرق ابواب
باب: نماز میں آمین کہنے پر سابقہ گناہوں کی معافی
احادیث:1

حدیث نمبر: 10

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ: آمِينَ وَالْمَلائِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ، فَوَافَقَ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا قال احدكم: آمين والملائكة في السماء آمين، فوافق إحداهما الاخرى غفر له ما تقدم من ذنبه"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی آمین کہے، اور فرشتوں نے بھی (اسی وقت) آسمان میں (آمین کہی) اس طرح ایک کی آمین دوسرے کی آمین کے ساتھ مل گئی تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔"
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم