(بخاری) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے
کتاب: ایمان کے بیان میں
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔
احادیث:2
ترجمۃ الباب:
وَهُوَ قَوْلٌ وَفِعْلٌ وَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ [سورة الفتح آية 4]، وَزِدْنَاهُمْ هُدًى [سورة الكهف آية 13]، وَيَزِيدُ اللَّهُ الَّذِينَ اهْتَدَوْا هُدًى [سورة مريم آية 76]، وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ [سورة محمد آية 17]، وَقَوْلُهُ: وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا سورة المدثر آية 31، وَقَوْلُهُ: أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا [سورة التوبة آية 124]، وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا [سورة آل عمران آية 173]، وَقَوْلُهُ تَعَالَى: وَمَا زَادَهُمْ إِلا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا [سورة الأحزاب آية 22]، وَالْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ مِنَ الْإِيمَانِ، وَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ: إِنَّ لِلْإِيمَانِ فَرَائِضَ وَشَرَائِعَ وَحُدُودًا وَسُنَنًا، فَمَنِ اسْتَكْمَلَهَا اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَكْمِلْهَا لَمْ يَسْتَكْمِلِ الْإِيمَانَ، فَإِنْ أَعِشْ فَسَأُبَيِّنُهَا لَكُمْ حَتَّى تَعْمَلُوا بِهَا، وَإِنْ أَمُتْ فَمَا أَنَا عَلَى صُحْبَتِكُمْ بِحَرِيصٍ.
وهو قول وفعل ويزيد وينقص، قال الله تعالى: ليزدادوا إيمانا مع إيمانهم [سورة الفتح آية 4]، وزدناهم هدى [سورة الكهف آية 13]، ويزيد الله الذين اهتدوا هدى [سورة مريم آية 76]، والذين اهتدوا زادهم هدى وآتاهم تقواهم [سورة محمد آية 17]، وقوله: ويزداد الذين آمنوا إيمانا سورة المدثر آية 31، وقوله: ايكم زادته هذه إيمانا فاما الذين آمنوا فزادتهم إيمانا [سورة التوبة آية 124]، وقوله جل ذكره: فاخشوهم فزادهم إيمانا [سورة آل عمران آية 173]، وقوله تعالى: وما زادهم إلا إيمانا وتسليما [سورة الاحزاب آية 22]، والحب في الله والبغض في الله من الإيمان، وكتب عمر بن عبد العزيز إلى عدي بن عدي: إن للإيمان فرائض وشرائع وحدودا وسننا، فمن استكملها استكمل الإيمان، ومن لم يستكملها لم يستكمل الإيمان، فإن اعش فسابينها لكم حتى تعملوا بها، وإن امت فما انا على صحبتكم بحريص.
اور وہ (ایمان) قول و فعل (دونوں) پر مشتمل ہے، نیز وہ زیادتی اور کمی کو قبول کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے: ( وہی ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں طمانیت اتاری) تا کہ ان کے ایمان میں مزید ایمان کی افزونی ہو ۔ " ( وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے ) اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی ۔ "" اور جو لوگ راہ راست اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو راست روی میں ترقی عطا فرماتا ہے۔" اور ارشاد باری تعالی ہے : اور وہ لوگ جنھوں نے ہدایت قبول کی اللہ نے ان کو (اور زیادہ) ہدایت میں بڑھا دیا اور انھیں ان کا تقوی عطا فرمایا ۔ اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے۔'"اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :"(اور جب کوئی سورت اترتی ہے تو ان میں سے بعض وہ لوگ ہیں جو پوچھتے ہیں کہ ) اس نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے؟ تو جو حقیقی اہل ایمان ہوتے ہیں، وہ سورت ان کے ایمان میں اضافہ کرتی ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے:(اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ تمھارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہیں) ان سے ڈرو تو ( یہ سن کر ) ان کا ایمان اور بڑھ گیا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان : " اور اس چیز نے ان کے ایمان واطاعت میں اور اضافہ کر دیا۔"اور اللہ کے لیے کسی سے محبت کرنا اور بغض رکھنا داخل ایمان ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے (اپنے گورنر) حضرت عدی بن عدی رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ایمان کے لیے فرائض و احکام، نیز حدود اور سنن ہیں جس نے ان کو پورا کیا اس نے اپنے ایمان کو مکمل کیا اور جس نے ان تمام کو پورا نہ کیا اس نے اپنے ایمان کو ناقص رکھا۔ اگر میں زندہ رہا تو تمھارے لیے ان تمام چیزوں کو ضرور بیان کروں گا تا کہ تم ان پر عمل کر سکو اور اگر مجھے زندگی نہ ملی تو مجھے بھی تمھارے پاس رہنے کا اتنا شوق نہیں ہے۔
اور ایمان کا تعلق قول اور فعل ہر دو سے ہے اور وہ بڑھتا ہے اور گھٹتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ایمان میں اور زیادتی ہو۔“ [سورة الفتح: 4] اور فرمایا کہ ”ہم نے ان کو ہدایت میں اور زیادہ بڑھا دیا۔“ [سورة الكهف: 13] اور فرمایا کہ ”جو لوگ سیدھی راہ پر ہیں ان کو اللہ اور ہدایت دیتا ہے۔“ [سورة مريم: 76] اور فرمایا کہ ”جو لوگ ہدایت پر ہیں اللہ نے اور زیادہ ہدایت دی اور ان کو پرہیزگاری عطا فرمائی۔“ [سورة محمد: 17] اور فرمایا کہ ”جو لوگ ایماندار ہیں ان کا ایمان اور زیادہ ہوا۔“ [سورة المدثر: 31] اور فرمایا کہ ”اس سورۃ نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا؟ فی الواقع جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا۔“ [سورة التوبه: 124] اور فرمایا کہ ”منافقوں نے مومنوں سے کہا کہ تمہاری بربادی کے لیے لوگ بکثرت جمع ہو رہے ہیں، ان کا خوف کرو۔ پس یہ بات سن کر ایمان والوں کا ایمان اور بڑھ گیا اور ان کے منہ سے یہی نکلا «حسبنا الله و نعم الوكيل» ۔“ [سورة آل عمران: 173] اور فرمایا کہ ”ان کا اور کچھ نہیں بڑھا، ہاں ایمان اور اطاعت کا شیوہ ضرور بڑھ گیا۔“ [سورة الاحزاب: 22] اور حدیث میں وارد ہوا کہ اللہ کی راہ میں محبت رکھنا اور اللہ ہی کے لیے کسی سے دشمنی کرنا ایمان میں داخل ہے (رواہ ابوداؤد عن ابی امامہ) اور خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عدی بن عدی کو لکھا تھا کہ ایمان کے اندر کتنے ہی فرائض اور عقائد ہیں۔ اور حدود ہیں اور مستحب و مسنون باتیں ہیں جو سب ایمان میں داخل ہیں۔ پس جو ان سب کو پورا کرے اس نے اپنا ایمان پورا کر لیا اور جو پورے طور پر ان کا لحاظ رکھے نہ ان کو پورا کرے اس نے اپنا ایمان پورا نہیں کیا۔ پس اگر میں زندہ رہا تو ان سب کی تفصیلی معلومات تم کو بتلاؤں گا تاکہ تم ان پر عمل کرو اور اگر میں مر ہی گیا تو مجھ کو تمہاری صحبت میں زندہ رہنے کی خواہش بھی نہیں۔
ترجمۃ الباب:
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي [سورة البقرة آية 260]، وَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: اجْلِسْ بِنَا نُؤْمِنْ سَاعَةً، وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: الْيَقِينُ الْإِيمَانُ كُلُّهُ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ التَّقْوَى حَتَّى يَدَعَ مَا حَاكَ فِي الصَّدْرِ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ، أَوْصَيْنَاكَ يَا مُحَمَّدُ وَإِيَّاهُ دِينًا وَاحِدًا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا سَبِيلًا وَسُنَّةً.
وقال إبراهيم: ولكن ليطمئن قلبي [سورة البقرة آية 260]، وقال معاذ بن جبل: اجلس بنا نؤمن ساعة، وقال ابن مسعود: اليقين الإيمان كله، وقال ابن عمر: لا يبلغ العبد حقيقة التقوى حتى يدع ما حاك في الصدر، وقال مجاهد: شرع لكم من الدين، اوصيناك يا محمد وإياه دينا واحدا، وقال ابن عباس: شرعة ومنهاجا سبيلا وسنة.
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول ( قرآن میں نقل ہوا) ہے: "لیکن میں قلبی اطمینان چاہتا ہوں۔"حضرت معاذ (بن جبل) رضی اللہ عنہ نے( حضرت اسود بن ہلال سے) کہا: ہمارے ساتھ بیٹھ تاکہ چند لمحات کے لیے اپنے ایمان کو تازہ کر لیں ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقین پورا ایمان ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انسان اس وقت تک تقوی کی حقیقت کو نہیں پا سکتا جب تک ایسی چیزوں کو نہ چھوڑ دے جو دل میں کھٹکتی ہوں۔ امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ ارشاد باری کی تفسیر میں ) فرماتے ہیں: "اللہ نے تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے (جس کے قائم کرنے کا نوح کو حکم دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد ! ہم نے تمھیں اور نوح کو ایک ہی دین کی وصیت کی تھی ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ (شرعةً و مِنْهَاجًا )کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: شرعة سے مراد قانون الہی اور منھا جا سے مراد اس قانون پر عمل کرنے کا طریقہ ہے۔
اور ابراہیم علیہ السلام کا قول قرآن مجید میں وارد ہوا ہے کہ "لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرے دل کو تسلی ہو جائے۔" اور معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ ایک صحابی (اسود بن بلال نامی) سے کہا تھا کہ ہمارے پاس بیٹھو تاکہ ایک گھڑی ہم ایمان کی باتیں کر لیں۔ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ یقین پورا ایمان ہے (اور صبر آدھا ایمان ہے۔ رواہ الطبرانی) اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ بندہ تقویٰ کی اصل حقیقت یعنی کہنہ کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ جو بات دل میں کھٹکتی ہو اسے بالکل چھوڑ نہ دے۔ اور مجاہد رحمہ اللہ نے آیت کریمہ «شرع لکم من الدين» الخ کی تفسیر میں فرمایا کہ (اس نے تمہارے لیے دین کا وہی راستہ ٹھہرایا جو نوح علیہ السلام کے لیے ٹھہرایا تھا) اس کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد! ہم نے تم کو اور نوح کو ایک ہی دین کے لیے وصیت کی ہے اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کریمہ «شرعة ومنهاجا» کے متعلق فرمایا کہ اس سے «سبيل» (سیدھا راستہ) اور سنت (نیک طریقہ) مراد ہے۔
متعلقہ مصنوعات
No product found.