بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(حدیث نمبر:20 (مسند عبدالله بن عمر

متفرق ابواب
حدیث نمبر:20

حدیث نمبر:20

وَعَنْ وَعَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَعَنَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ، وَالْحَالِقَةَ وَالصَّالِقَةَ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمَوْشُومَةَ، وَقَالَ: لَيْسَ لِلنِّسَاءِ فِي اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ أَجْرٌ".
وعن وعن عطاء، قال: كنت عند ابن عمر فسمعته، يقول:" إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، لعن النائحة والمستمعة، والحالقة والصالقة، والواشمة، والموشومة، وقال: ليس للنساء في اتباع الجنائز اجر".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور سننے والی اور (مصیبت کے وقت) بال منڈوانے والی اور چیخ و پکار کرنے والی اور گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی اور فرمایا: جنازوں کے پیچھے چلنے میں عورتوں کے لیے ثواب نہیں ہے۔

قال الشيخ الألباني: ضعيف
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

    ویڈیوز
    شرعی مسائل کا حل

    کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم