بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(حدیث نمبر:21 (مسند عبدالله بن عمر

متفرق ابواب
حدیث نمبر:21

حدیث نمبر:21

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " النَّمِيمَةُ، وَالشَّتِيمَةُ، وَالْحَمِيَّةُ فِي النَّارِ، فَلا يَجْتَمِعَانِ فِي صَدْرِ مُؤْمِنٍ".
حدثنا محمد بن يزيد بن سنان، حدثنا يزيد، قال: قال عطاء: اخبرني عبد الله بن عمر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " النميمة، والشتيمة، والحمية في النار، فلا يجتمعان في صدر مؤمن".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”چغل خوری، گالی گلوچ اور (جاہلی) حمیت جہنم میں لے جائے گی اور یہ دونوں چیزیں ایک مومن کے سینے میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔“

قال الشيخ الألباني: ضعيف
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم