بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) اللہ تعالٰی کو برا بھلا مت کہو

متفرق ابواب
باب: اللہ تعالٰی کو برا بھلا مت کہو
احادیث:1

حدیث نمبر: 107

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: " كَذَّبَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ لَهُ، وَشَتَمَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ لَهُ، أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: لَنْ يُعِيدَنَا كَمَا بَدَأَنَا، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا الصَّمَدُ، لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يقول الله تعالى: " كذبني عبدي ولم يكن ذلك له، وشتمني عبدي ولم يكن ذلك له، اما تكذيبه إياي ان يقول: لن يعيدنا كما بدانا، واما شتمه إياي ان يقول: اتخذ الله ولدا، وانا الصمد، لم الد ولم اولد، ولم يكن لي كفوا احد"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے بندے نے میری تکذیب کی حالانکہ اسے یہ زیب نہیں دیتا، اور میرے بندے نے مجھے گالی دی جب کہ یہ اس کے شایانِ شان نہیں ہے۔ (بہرحال) اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ ہرگز پیدا نہیں کرے گا، جیسے اس نے ہمیں ابتدا پیدا کیا ہے۔ اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے، حالانکہ میں بے نیاز ہوں، نہ میری کوئی اولاد ہے، اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور میرا کوئی ہمسر نہیں۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

    متعلقہ پوسٹ

    (صحيفه همام بن منبه) اللہ تعالی کا اس شخص پر سخت غصہ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کیا

    (مسند عبدالرحمن بن عوف) وہ حدیث جسے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نےعبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔

    (بخاری) مسلمانوں کا مشرکوں کے ساتھ سجدہ کرنا حالانکہ مشرک ناپاک ہے (اس کو وضو کہاں سے آیا)

    (مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:40

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے نصیحت فرمانے اور تعلیم دینے کے بیان میں تاکہ انہیں ناگوار نہ ہو۔ (بخاری)

    (صحيفه همام بن منبه) قیامت کی نشانیاں

    (مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:11

    کیا کائنات نبی کریم ﷺ کے لیے بنائی گئی؟

    (بخاری) اس بارے میں کہ کوئی شخص بعض باتوں کو اس خوف سے چھوڑ دے کہ کہیں لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس سے زیادہ سخت (یعنی ناجائز) باتوں میں مبتلا نہ ہو جائیں۔

    (بخاری) اس بیان میں کہ جب کسی عالم سے یہ پوچھا جائے کہ لوگوں میں کون سب سے زیادہ علم رکھتا ہے؟ تو بہتر یہ ہے کہ اللہ کے حوالے کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ اللہ سب سے زیادہ علم رکھتا ہے یا یہ کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون سب سے بڑا عالم ہے۔