زبان سے نماز کی نیت
اگرچہ یہ بات ہر سلیم الفطرت انسان پر عیاں ہے کہ نیت کا تعلق دل کے ارادے سے ہے۔ نیت کے لیے مخصوص الفاظ کی ضرورت نہیں۔ پھر بھی یہ مسئلہ جو بعض مکاتبِ فکر کے درمیان متنازعہ ہے۔ حالانکہ بنظرِ غائر دیکھا جائے تو یہ سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں لیکن تعصب اور جہالت کے کرشمے کہ اب یہ بھی ایک فقہی مسئلہ بن چکا ہے۔ ساری نماز عربی زبان میں اور نیت اردو، پنجابی یا کسی اور زبان میں۔ زبان کے ساتھ نیت کا مسئلہ اگر حقیقتاً کوئی شرعی حکم ہوتا تو نیت کے الفاظ عربی زبان میں ہوتے اور لسانِ رسالت مآب ﷺ سے ادا ہوئے ہوتے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے تو اللہ اکبر سے لے کر سلام تک بلکہ سلام پھیرنے کے بعد جو اذکار ہیں، وہ بھی امت کو بتلائے ہیں۔ آپ ﷺ نے نیت کا مسئلہ کیوں نہ بتایا؟
بظاہر یہ ایک معمولی سا مسئلہ لگتا ہے لیکن ذرا گہرائی میں جا کر اس پر غور کیجیے، پھر آپ کو اس کی سنگینی کا اندازہ ہوگا۔ بات زبان کے ساتھ نیت کی نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ میں ایسے کسی مسئلے کا وجود نہیں۔ پھر اس کو ایجاد کرنا اور اسے رواج دینا، اس کا کیا مطلب ہے؟
کیا ہمارے نبی کریم ﷺ نے۔۔۔۔۔۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔۔۔۔۔۔ امت کو اس بارے میں بے خبر رکھا اور بعد میں آنے والے ”علماء ذی وقار“ کو اس مسئلے کا الہام ہوا؟
ایسا سوچنا بھی کفرِ اکبر ہے۔ اپنے آپ کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ جو شخص دینِ اسلام میں نیکی کے کسی ایسے کام کو رواج دیتا ہے جو اللہ کے رسول ﷺ نے نہیں کیا یا آپ نے اس کا حکم نہیں فرمایا، آپ کے اصحاب کے دور میں وہ نہیں ہوا تو اس کا مطلب کیا ہے؟
امام مالکؒ کے الفاظ میں ایسا بدبخت، رسولِ کریم ﷺ پر خیانت کا الزام لگاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:
اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ﴿سورۃ المائدہ:3﴾
”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔“
﴿الاعتصام شاطبی: جلد 1:ص 494 :تحقیق شیخ الھلالی﴾
اس لیے کہ نیکی کا کوئی کام ایسا نہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ امت کو جس سے آگاہ نہ فرما گئے ہوں اور کوئی گناہ ایسا نہیں کہ نبی رحمت ﷺ نے اس سے خبردار نہ کیا ہو۔ پھر اب ایسے مسائل ایجاد کرنا کہ جن کی کوئی اصل کتاب و سنت میں نہیں تو اس کا کیا معنیٰ و مفہوم ہے؟
نبی کریم ﷺ سے محبت کا یہ تقاضا ہے کہ ایک مومن ہر اس کام سے گریز کرے جو دین کے نام پر ایجادِ بندہ ہو یعنی جو بدعت ہو۔
اب آئیے زیرِ بحث مسئلے کی طرف!
نیت تو دل کے ارادے کا نام ہے۔ اگر کوئی شخص زبان سے ہزار بار بھی نیت کرے، لیکن اس کا ارادہ ہی نہ ہو نماز ادا کرنے کا تو اس کو اس زبانی نیت سے کیا فائدہ؟
جب کوئی شخص وضو کے لیے اٹھتا ہے تو وہ کبھی یہ نہیں کہتا ہے کہ میں وضو کی نیت کرتا ہوں۔ اسے خوب معلوم ہوتا ہے کہ میں نے نماز کے لیے وضو کرنا ہے۔ جب وہ گھر یا دفتر سے مسجد کے لیے نکلتا ہے تو اسے خوب معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس لیے مسجد جا رہا ہے۔ نماز کے لیے یا کسی اور غرض سے۔ وہ کبھی یہ نہیں کہتا کہ رخ میرا مسجد کی طرف برائے ادائیگی صلوٰۃ۔ پھر جب وہ مسجد میں داخل ہوتا ہے تو مسنون دعا پڑھتا ہے، یہ نہیں کہتا ”داخل ہوا مسجد میں نماز کے لیے۔“
کیوں؟ اس لیے کہ اس کے رب کو بخوبی معلوم ہے کہ یہ مسجد میں کس لیے آیا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ نماز کے شروع میں کانوں کی لویں پکڑ کر نیت کی جاتی ہے؟ آخر کس شریعت میں اس کا حوالہ ہے؟
دورِ نبوت یا دورِ صحابہ میں کسی ایک مسلمان نے زبان سے نیت کی ہو تو ضرور بتائیے! امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ یا ان کے عالی قدر تلامذہ میں سے کسی ایک نے زبان سے کبھی نیت کی تھی نماز کی؟
بندۂ خدا! اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ تمہارے لیے حجت نہیں بلکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تمہارے لیے حرفِ آخر ہیں تو ان کی ہی مان لو!
معروف صوفی بزرگ شیخ احمد سرہندی (مجدد الف ثانی) رحمہ اللہ ہمارے برصغیر میں اہلِ سنت کے جمیع مکاتبِ فکر میں احترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کی اس مسئلے میں رائے قولِ فیصل کا سا درجہ رکھتی ہے۔ ذرا سنیے تو سہی، وہ کس طرح لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی رائے کا اظہار فرماتے ہیں:
”زبان سے نیت کرنا رسول اللہ ﷺ سے بروایتِ صحیح اور نہ بروایتِ ضعیف ثابت ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعینِ عظام زبان سے نیت نہیں کرتے تھے بلکہ جب اقامت کہتے تو صرف اللہ اکبر کہتے تھے۔ پس زبان سے نیت بدعت ہے۔“
﴿مکتوبات:دفتر اول:حصہ سوم: مکتوب 186﴾
جان کی امان پاتے ہوئے عرض کروں گا کہ زبان سے نیت کو میں نے نہیں بلکہ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ نے بدعت کہا ہے۔ اگر کسی کو اعتراض ہے تو ان پر کرے۔ میں نے تو ان کی عبارت نقل کرنے کی جسارت کی ہے۔ اس عنوان کو شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے الفاظ پر ختم کرتا ہوں۔ شیخ الاسلام فرماتے ہیں:
”اگر کوئی انسان سیدنا نوح علیہ السلام کی عمر کے برابر تلاش کرتا رہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام میں سے کسی نے زبان سے نیت کی ہو، تو ہرگز کامیاب نہیں ہوگا سوائے سفید جھوٹ بولنے کے۔ اگر اس میں خیر و بھلائی ہوتی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب سے پہلے ایسا کرتے اور ہمیں بتا کر جاتے۔“
﴿اغاثہ اللہفان :جلد 1:ص608:بحوالہ احکام و مسائل :جلد 1 :ص264﴾
واللہ اعلم بالصواب
تحقیق و تدوین
عمر فاروق قدوسی
عمر فاروق قدوسی اسلامی موضوعات پر لکھنے والے مصنف ہیں۔ ان کی تحریروں میں عبادات، نماز، طہارت، استخارہ اور دینی رہنمائی سے متعلق موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کی تصانیف میں خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، اللؤلؤ والمرجان اردو ترجمے کی ترتیب و تدوین ، انوار المصابیح شرح مشکاۃ المصابیح کے عناوین، نبوی مجموعہ وظائف، اہل حدیث پر کچھ مزید کرم فرمائیاں، نبیِ رحمت ﷺ کی راتیں اور استخارہ کتاب و سنت کی روشنی میں شامل ہیں۔