بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

Tag: نماز میں ہماری غلطیاں

Videos

نماز میں خواتین سے سرزد ہو جانے والی بعض کوتاہیاں

فہرستِ مباحث

نماز میں بعض کوتاہیاں خواتین سے مخصوص ہیں۔ آئندہ سطور میں ان کا تذکرہ ہوگا۔ امید ہے مسلمان بہنیں ان سطور کی روشنی میں ان اغلاط سے احتیاط برتیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ نبوی کے مطابق نماز ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

نیل پالش صاف کیے بغیر وضو اور نماز کی ادائیگی

انسان ہزاروں سال سے خوبصورتی کا متلاشی ہے۔ قدرتی حسن پر قناعت کرنے کی بجائے اس میں انواع واقسام کی رنگ آمیزیوں سے حسن وجمال میں اضافے کے ان گنت ذرائع تلاش کیے۔ ان میں سے ایک ناخنوں کی آرائش و زیبائش بھی ہے۔ اس کے لیے مہندی کا استعمال ہوتا ہے۔ لیکن مہندی کسی بھی رنگ اور قسم کی ہو، وہ جلد کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس لیے شرعی احکام ومسائل میں اس کے استعمال سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

نیل پالش کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ خواتین بہت ذوق وشوق سے رنگ برنگی نیل پالش لگاتی ہیں اور پھر اس پر وضو بھی کر لیتی ہیں۔ نیل پالش بذاتِ خود ناجائز یا حرام نہیں۔ لیکن ناخنوں پر اس کا لیپ ہونے سے جلد پر پانی اثر نہیں کرتا۔ اس لیے ناخن خشک رہ جاتے ہیں۔ جب اعضائے وضو میں سے کچھ حصہ خشک رہ گیا تو وضو بھی ناقص ہوگا۔ اسی لیے تو وضو کے دوران ہاتھوں اور قدموں کی انگلیوں کا خلال بھی کیا جاتا ہے۔

نیل پالش بنیادی طور پر ایک کیمیکل ہوتا ہے۔ ناخنوں پر لگانے سے کیمیکل کی تہہ کا باریک سا لیپ ہو جاتا ہے۔ وضو کرتے وقت یہ کیمیکل پانی کے اثرات ناخن تک نہیں پہنچنے دیتا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ اگر ہاتھ، پاؤں یا بازو وغیرہ پر کسی چیز کا لیپ کر دیا جائے اور پھر وضو کرتے وقت اس لیپ کو اتارنے کی بجائے اس کے اوپر ہی سے تر کر لیا جائے تو نیچے سےجلد خشک ہی رہے گی۔ اس لیے وضو صحیح نہیں ہوگا۔

بخاری شریف میں ہے: آپﷺ نے دیکھا کہ لوگ وضو میں قدرے کوتاہی کر رہے تھے۔ آپﷺ نے تیز آواز سے کہا:

ويل للاعقاب من النار

“خرابی ہے آگ سے ان ایڑیوں کے لیے جو خشک رہیں۔”﴿ صحیح بخاری، كتاب العلم، باب من رفع صوته بالعلم حدیث: 60

نامکمل لباس میں نماز ادا کرنا

نماز کی پابند بہت سی خواتین اپنے تمام تر اخلاص اور نیکی بھرے جذبات کے باوجود اس اہم مسئلے سے لا علم ہوتی ہیں۔ وہ نماز میں لباس کے متعلق غلطیاں کر جاتی ہیں۔ انہیں علم نہیں ہوتا کہ نماز کے لیے کس طرح کا لباس ہونا چاہیے۔ جدید تراش خراش کے نت نئے ڈیزائن اور فیشن پر مبنی کپڑے خواتین استعمال کرتی ہیں۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں جو کسی صورت نماز کے لیے درست نہیں۔ مثلاً

1۔ کندھے سے معمولی نیچے یا کہنیوں تک ننگے بازو والی قمیض میں نماز پڑھنا جائز نہیں—خاتون ایسی قمیض پہنے جس سے اس کے بازو مکمل ڈھکے ہوئے ہوں۔

2۔ قمیض فٹنگ (Fitting) والی نہ ہو۔ بے حد چست قمیض میں نماز ادا کرنا صحیح نہیں۔ اگر ایسی قمیض ہے تو اس پر بڑے عرض والی اوڑھنی اوڑھے۔

3۔ سر پر اوڑھنی صحیح طرح لی ہوئی ہو۔ عموماً خواتین اس میں غلطی نہیں کرتیں۔ حدیثِ شریف میں ہے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی راوی ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لا يقبل الله صلاة حائض إلا بخمار

“اللہ تعالیٰ بالغ عورت کی نماز دوپٹہ (اوڑھنی، چادر وغیرہ) کے بغیر قبول نہیں فرماتے۔”﴿ سنن ابو داؤد، كتاب الصلاة، باب المرأة تصلى بغير خمار، حدیث :641 یہ حدیث صحیح ہے۔

حدیث شریف میں لفظ “خمار” ہے۔ اس کا مطلب وہ کپڑا جو سر، گردن، کندھے اور سینے کو اچھی طرح ڈھانپ لے یعنی چادر، دوپٹہ۔ “چھوٹا سکارف” جو صرف سر کے بالوں کو چھپائے، اس معنی میں نہیں آتا۔ ہاں اگر بڑا سکارف لیا ہو اور سر کے نیچے کندھوں پر چادر لپٹی ہو تو نماز ادا کی جا سکتی ہے۔

عورت کا پتلون میں نماز ادا کرنا

موجودہ دور کی بدترین قباحتوں میں سے ایک یہ ہے کہ عورتیں مردوں کی اور مرد عورتوں کی مشابہت کیے جا رہے ہیں اور انہیں اس میں کوئی عار نہیں۔ جب کہ اسلامی شریعت میں یہ مشابہت قطعاً حرام ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مردوں اور عورتوں پر لعنت کی ہے جو ایک دوسرے کی مشابہت کرتے ہیں۔﴿ صحیح بخاری، كتاب اللباس، باب المتشبهون بالنساء والمتشبهات بالرجال، حديث: 5885 پتلون خالصتاً مردانہ لباس ہے۔ پاک وہند کی ثقافت میں تو عورتوں کا پتلون پہننا مردوں کی مشابہت ہے۔ اس لیے عورتوں کا پتلون پہن کر نماز ادا کرنا درست نہیں۔ جینز، ٹائٹس یہ تو ویسے بھی عورتوں کے لیے ناجائز لباس ہیں کہ جینز مردوں کا پہناوا ہے اور ٹائٹس جسمانی اعضا کی نمائش و پیمائش۔ جسے نہیں معلوم وہ بھی ٹائٹس پہننے والی کا احوال جان لیتا ہے۔ اس لیے اس پہناوے میں بارگاہِ رب العالمین میں حاضری کس منہ سے دی جائے گی؟

اس لباس میں کہ جس کا پہننا اس نمازی خاتون کے لیے حرام ہے؟

وہ لباس جو بے حیائی کا مرقع اور بے شرمی کا استعارہ ہے۔

کیا مسلمان عورت کے پاس کوئی ڈھنگ کا لباس نہیں رہا اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہونے کے لیے؟

ہم نماز کی قبولیت یا عدمِ قبولیت کی قطعی رائے نہیں دیتے، البتہ فقیہ الاسلام محدثِ دیارِ عرب امام محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کے الفاظ درج کر دیتے ہیں جو انہوں نے مردانہ لباس میں نماز ادا کرنے والی خاتون کی نماز کے متعلق پوچھے گئے سوال کے آخر میں کہے۔

شیخ فرماتے ہیں:

“بہر حال حرام لباس زیبِ تن کر کے نماز پڑھنے والا اس خطرے سے دوچار رہے گا کہ کہیں اس کی نماز رد نہ کر دی جائے اور وہ شرفِ قبولیت سے محروم رہے۔”﴿ فتاویٰ برائے خواتین ص: 124

 

قدموں کے اوپری حصے ڈھانپے ہوئے ہوں

ہمارے ہاں خواتین کا لباس اہل ہو عرب کی خواتین سے قدرے مختلف ہوتا ہے۔ ہر معاشرے کی اپنی ثقافت ہوتی ہے لیکن یاد رہے کہ ثقافتی تغیر کے ساتھ شرعی احکام نہیں بدلتے۔ بلکہ اپنی معاشرت، اپنے رسوم ورواج، اپنی ثقافت اور اپنے لباس کو شریعت کے تابع کرنا چاہیے۔ عورت کے لباس کا نچلا حصہ (شلوار، پاجامہ وغیرہ) کتنا لمبا ہو، اس بارے میں ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت کردہ یہ حدیث ملاحظہ فرمائیے!

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:

عورتیں اپنا لباس کتنا نیچے لٹکائیں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بالشت۔

سیدہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس طرح تو قدم ننگے رہیں گے۔۔۔۔۔۔؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ایک ہاتھ لٹکا لیں۔ یعنی اتنا کہ پاؤں بھی ڈھانپ جائیں۔﴿ جامع ترمذی، كتاب اللباس، باب ما جاء في جر ذيول النساء، حديث: 1731یہ حدیث صحیح ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس رہنمائی کی روشنی میں خواتین خود ہی فیصلہ کر سکتی ہیں کہ ان کے لیے کھلے پانچوں والی لمبی شلواریں مناسب ہیں یا چوڑی دار پاجامے۔ جو کہ بغیر نماز کے بھی پہننے درست نہیں۔ فیشن کی دنیا میں جس قدر انقلاب آتے رہتے ہیں، ایسا کسی اور شعبے میں نہیں ہوتا۔ آج لمبی قمیصوں کا فیشن ہے تو کل چھوٹی شرٹس کا۔ آج تنگ پائنچے ہیں تو کل کو کھلے پائنچے۔ کبھی عورتوں کے ٹخنے فیشن کے زیرِ اثر ننگے ہوتے ہیں اور کبھی آدھی پنڈلیاں نظر آ رہی ہوتی ہیں لیکن نماز میں عورتوں کے لباس کے ضوابط جو چودہ سو سال پہلے مقرر کر دیے گئے تھے، قیامت تک ان میں ادنیٰ سا بھی تغیر نہیں ہوگا۔ امریکہ کی جدید تعلیم یافتہ مسلمان خاتون کو بھی ان ہی قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا ہوگی، جن کی افریقہ کے کسی دور دراز دیہات کی رہنے والی دنیاوی اعتبار سے ان پڑھ مسلمان خاتون کو کرنا ہوگی۔ اس میں کوئی امتیاز نہیں۔

باریک کپڑوں میں نماز ادا کرنا

کیا آپ اس بات پر یقین کریں گے کہ مسلم معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دینے کی کوشش ایک منصوبہ بندی کے تحت ہوتی ہے؟

شاید کوئی یہ کہے کہ کچھ لوگ ہر بات میں سازش کی تھیوری تلاش کرتے ہیں لیکن مسئلہ اتنا سادہ نہیں۔ امتِ مسلمہ کے دشمن صدیوں سے اس کوشش میں ہیں کہ مسلمان کبھی دنیا پر حکمرانی نہ کر سکیں۔ ان کے تھنک ٹینک، ان کے دانش ور، ان کے علماء بے حد سنجیدگی سے اس باب میں کوشش کرتے ہیں کہ مسلم معاشرے اخلاقی طور سے کھوکھلے ہوں۔ اس مقصد کے لیے وہ خاموشی سے، پوشیدہ طریقے سے مصروفِ کار رہتے ہیں۔

اب سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے۔ لمحے بھر میں آپ دنیا کے کسی دور دراز کونے میں ہونے والے واقعے سے نہ صرف آگاہ ہو جاتے ہیں، بلکہ آپ براہِ راست وہ مناظر اپنے موبائل اور کمپیوٹر پر دیکھ رہے ہوتے ہیں (کیونکہ TV تو یوں سمجھیے قصہِ ماضی ہو چکا ہے) اس دور میں امت کے دشمنوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مسلم معاشرے اور مسلمان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ہدف بنایا ہوا ہے۔ مغربی اقدار بہت ہی شوگر کوٹڈ (Sugar Coated) کر کے پیش کی جاتی ہیں۔ مغرب کی ثقافتی برتری کے جھنڈے گاڑے جا رہے ہیں۔ وہ لوگ اپنی پلاننگ کے ساتھ ہمارے گھروں بلکہ ہمارے بیڈ رومز تک آ چکے ہیں اور ہم ہیں کہ عالی شان سماجی روایات کے حامل اپنے دینِ اسلام کی ثقافتی تعلیمات سے بالکل نابلد ہیں اور جنہیں کچھ علم ہے، ان میں سے بھی کتنے ہی ہیں کہ معذرت خواہانہ سوچ اپنائے ہوئے ہیں۔

اسلام کے بدخواہوں کی سوچ ہے کہ مسلمانوں کو ان کی اخلاقی اقدار سے دور کر دیا جائے۔ اس میں انہوں نے لباس اور فیشن کا خاص طور سے انتخاب کیا ہوا ہے۔ لباس میں وہ وہ ڈیزائن آ رہے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ باریک سے باریک لباس کہ صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں کا منظر ہوتا ہے۔ کسی بھی بیدار مغز سے حالات کی یہ سنگینی پوشیدہ نہیں۔ ہماری فیشن انڈسٹری جہالت کا ملغوبہ ہے۔ ان کو علم ہی نہیں کہ ساڑھے چودہ سو سال پہلے ان کے مہربان رب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے لباس کے احکامات مومنین ومومنات کے لیے نازل کر دیے تھے۔ اب مغرب کے جاہلوں کی پیروی میں یہ لوگ ان پاکیزہ احکامات سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ہماری فیکٹریاں جن میں کپڑا بنتا ہے، ان کے مالکان بھی مسلمان ہیں۔ کیا انہیں علم نہیں کہ اس طرح کے باریک لباس تیار کرنا کسی طرح درست نہیں۔

معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دینے والی صرف طوائفیں ہی تو نہیں۔ یہ میک اپ آرٹسٹ، یہ گلوکار، یہ شوبز کے فنکار، یہ فیشن ڈیزائنر اور یہ باریک کپڑے تیار کرنے والے مل مالکان بھی اس گناہ میں شریک ہیں اور شاید ایک سے بڑھ کر ایک ہو۔ بات کچھ طویل ہو گئی۔ بہر حال ہر وہ شخص جس کو اللہ نے سوچنے کے لیے دماغ دیا ہے اور دیکھنے کے لیے آنکھیں، تو وہ ضرور حالات کی اس سنگینی کا نہ صرف ادراک کرے بلکہ اس طوفانِ بد تمیزی بلکہ بے حیائی کے اس سیلاب کے سامنے بند باندھنے کی اپنی سی کوشش ضرور کرے۔ کوشش کرنا ہمارا فرض ہے اگرچہ نتیجہ تو ہمارے ہاتھ میں نہ ہو۔

اب آئیے اس مسئلے پر جس کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔

نماز میں عورت ہو یا مرد، اس کے لیے باریک کپڑے میں نماز پڑھنا کسی طور جائز نہیں۔ مردوں کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے۔ ان کی قمیص جیسی بھی باریک ہو، کوئی مسئلہ نہیں۔ البتہ شلوار قمیص کی طرح باریک نہیں ہونی چاہیے۔ اصل مسئلہ خواتین کا ہے، مردوں کا نہیں۔ ایسا لباس جس میں جسم نظر آتا ہو، بدن کے نشیب و فراز نمایاں ہوتے ہوں، اس میں عورتوں کی نماز نہیں ہوتی۔

کیا حاصل اس نماز سے کہ خاتونِ خانہ نے اپنی مصروفیات سے وقت نکالا، وضو کیا، نماز پڑھی اور اللہ کے ہاں وہ نماز ردی کی ٹوکری میں پھینک دی گئی۔ وجہ؟ وجہ یہ کہ اس معزز محترم خاتون نے ان قواعد و ضوابط کا خیال نہیں رکھا جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں۔

اس لیے اے میری محترم بہن! آپ اس مسئلے کی سنگینی پر غور فرمائیے۔ آپ کا باریک لباس جو بظاہر بہت پرکشش اور خوش نما نظر آتا ہے، وہ آپ کے لیے کتنی بڑی مصیبت اور کتنا بڑا وبال ہے۔ آپ کو کیوں اس کا اندازہ نہیں؟ آپ تو وہ ہیں کہ ذہین وفطین مردوں کو اپنی انگلیوں پر نچالیتی ہیں، سارے سسرال والوں سے ایک نحیف و ناتواں بہو ٹکر لے لیتی ہے، مگر اپنے ہی ہاتھوں اپنا اتنا بڑا نقصان اور پھر بھی اس کا احساس نہیں۔۔۔۔۔۔؟

لباس کا مقصد ستر پوشی ہے، ستر کا اظہار نہیں۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں حاضری کے کچھ آداب ہیں۔ خوب غور کیجیے اور سوچیے کہ اسلام کے دشمن جو ہمارے پیارے نبی ﷺکے دشمن ہیں، وہ آپ کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہیں اور آپ ہیں کہ ان کے لیے تر نوالہ بن رہی ہیں۔

باریک دوپٹے میں نماز ادا کرنا

سنا ہے کہ عورتوں میں یہ کوتاہی بھی پائی جاتی ہے کہ باریک کپڑا مثلاً شفون کا دوپٹہ اوڑھ کے نماز ادا کر رہی ہوتی ہیں۔ یہ درست نہیں۔ اللہ کی بندی مشقت اٹھا کے وضو کرتی ہے، اپنی مصروفیات ترک کر کے بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوتی ہے لیکن اس کا دوپٹہ صحیح نہیں ہوتا۔ سر پر اوڑھا ہونے کے باوجود سر ننگا محسوس ہوتا ہے۔ بال نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ یہ خطرناک غلطی ہے۔ مسلم خاتون کو چاہیے کہ کسی موٹے کپڑے کے دوپٹے میں نماز پڑھے۔ اگر چند منٹ کے لیے وہ دوپٹے کی بجائے چادر اوڑھ لے گی یا کوئی موٹا دوپٹہ لے لے گی تو اس کی آرائش و زیبائش میں کمی نہیں آنے لگی۔

علامہ ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عورت کو ایسے با پردہ لباس میں نماز ادا کرنی چاہیے کہ جس سے نیچے پہنے ہوئے دوسرے کپڑے کا رنگ نظر نہ آئے۔“﴿ مجموع فتاویٰ ومقالات شیخ ابن باز 10/ 411

 

بالوں کا جوڑا بنا ہوا ہو اور نماز ادا کرنا

اسلام کا بنیادی اصول سمعنا و اطعنا ہے یعنی ہم نے سنا اور مان لیا۔ ایک شخص کہ اس کا عقیدہ درست ہے، نماز کا طریقہ بھی سنت کے مطابق ہے۔ اس کے باوجود اس کی نماز میں کوئی ایسی کوتاہی رہ جاتی ہے کہ نماز کی قبولیت ہی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ بالوں کا جوڑا کیا ہوا اور نماز ادا کی جا رہی ہو، تو یہ کوتاہی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ایسے نمازی مرد کہ جن کے بال قدرے لمبے ہوں اور انہوں نے جوڑا بنایا ہو تو انہیں چاہیے کہ نماز شروع کرتے وقت بال کھول لیں۔ ہمارے ہاں ایسے مرد نمازی خال خال ملیں گے لیکن خواتین کے بال عام طور پر لمبے ہوتے ہیں اور وہ گھر کا کام کاج کرتے وقت یا گرمی کے موسم میں بالوں کو جوڑے کی شکل میں یا دورِ جدید میں کیچر (Catcher) لگا کے سمیٹ لیتی ہیں۔ جب وہ نماز ادا کریں تو انہیں چاہیے کہ اپنے بال کھول لیں۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا ہم سمعنا و اطعنا پر عمل کرنے والے ہیں۔ احکام ومسائل کی علت یا حکمت تلاش کرنے والے نہیں—بس انہوں نے (صلی اللہ علیہ وسلم) فرما دیا اور ہم نے مان لیا۔ چونکہ چنانچہ اگرچہ مگرچہ یہ اکثر ابلیسی تلبیسات ہی ہوتی ہیں۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا مسئلہ لگتا ہے لیکن بے حد اہم ہے کیونکہ اس کی ممانعت انہوں نے فرمائی جو اپنی مرضی سے حلال وحرام کا اختیار نہیں رکھتے تھے بلکہ وحیِ الٰہی کے مطابق ہی وہ احکامات وممنوعات سے آگاہ فرماتے تھے۔ ﷺ

اب آئیے اس مسئلے کی دلیل کی طرف!

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا کہ جو شخص بالوں کا جوڑا بنا کے نماز پڑھے تو اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کسی کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوں اور وہ نماز ادا کر رہا ہو۔﴿ صحیح مسلم، كتاب الصلاة، باب اعضاء السجود والنهي عن كف الشعر۔۔۔

 

دوسری حدیثِ شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺنے منع فرمایا بال اور کپڑے جوڑنے سے۔﴿سنن نسائی، كتاب الافتتاح، باب النهي عن كف الثياب في السجود

باریک جرابوں پر مسح

خواتین بعض اوقات نہایت باریک سکن کلر کی جرابیں پہنتی ہیں۔ یہ جرابیں پہنی ہوں تو بغور دیکھنے سے نظر آتی ہیں۔ ورنہ ایسے لگتا ہے کہ قدموں پر کچھ نہیں پہنا ہوا—ایسی سکن کلر کی باریک جرابوں پر مسح جائز نہیں۔ اس لیے ایسی جرابوں پر مسح کر کے نماز ادا کرنا بھی درست نہ ہوا اور اگر جراب کسی اور رنگ کی ہو لیکن بہت باریک ہو تو اس پر بھی مسح کرنا درست نہیں۔

علامہ ابن باز رحمہ اللہ سے اس بارے سوال کیا گیا تو ان کا جواب یہ تھا۔

“جرابوں پر مسح کرنے کی شرط یہ ہے وہ موٹی اور ڈھانپنے والی ہوں۔ باریک جرابوں پر مسح کرنا نا جائز ہے کیونکہ باریک جرابوں (یعنی جن میں پاؤں واضح نظر آرہے ہوں) میں ملبوس پاؤں ننگے کے حکم میں ہیں۔”﴿  مجموع فتاویٰ ومقالات شیخ ابن باز 10/ 110

 

عورتوں کا خوشبو لگا کر مسجد میں آنا

یہ غلطی صرف اس مکتبِ فکر کی خواتین کرتی ہیں جن کے ہاں عورتوں کا مسجد میں جانا کسی بھی کراہت کے بغیر جائز ہے۔ جن لوگوں کے ہاں عورتوں کا مسجد میں جانا ہی جائز نہیں، ان کی عورتوں نے یہ غلطی کیا کرنی۔ جب مسجد میں جانا ہی درست نہیں تو پھر بناؤ سنگھار کر کے خوشبو لگا کر مسجد میں جانے کا سوال ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔

یہ بھی عجیب طُرفہ تماشا ہے کہ بازاروں، تفریح گاہوں، ہوٹلوں وغیرہ میں عورتیں عام جائیں اور خوب بناؤ سنگھار کر کے جائیں اور جب مسجد یا عیدگاہ کی باری آئے تو ان کے لیے یہ مقامات شجرِ ممنوعہ بن جائیں۔ جہاں ان کے وقار پر حرف آنے کا اندیشہ ہو، جہاں ان کی توقیر میں کمی ہونے کا امکان ہو، جہاں ناپاک نگاہوں کا وہ مرکز بن رہی ہوں، وہاں جانے والی کو کوئی اعتراض نہ لے جانے والے کو کوئی اندیشہ اور جہاں ان کی عزت و وقار آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہو، جہاں وہ ہوس بھری نگاہوں سے محفوظ ہوں، وہاں ان کے جانے کو فقیہِ شہر نا جائز کہہ دے۔ بہر حال اب ہم زیرِ بحث مسئلے کی طرف آتے ہیں۔

حدیثِ رسول ﷺ میں اس مسئلے کے متعلق بہت ہی واضح اور دو ٹوک ارشادات موجود ہیں۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ عورت کی اپنے گھر کے اندرونی کمرے کی نماز اس گھر کے بیرونی کمرے یا صحن سے افضل ہے اور صحن کی نماز مسجد سے افضل ہے﴿نبی کریم ﷺکی بارگاہ میں ان کی صحابیہ ام حمید ساعدی رضی اللہ عنہا حاضر ہوئیں اور کہا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں آپ کی اقتداء میں (آپ کی مسجد میں) نماز ادا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اچھی طرح علم ہے کہ تمہیں میرے ساتھ یعنی میری اقتداء میں نماز پڑھنا بہت پسند ہے لیکن تمہارے اپنے گھر کے ایک کونے میں نماز ادا کرنا گھر کے (بڑے) کمرے میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے اور کمرے کی نماز گھر کے صحن میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے اور تمہاری وہ نماز جو تم اپنے گھر کے صحن میں ادا کرو، وہ اپنے محلے کی مسجد میں ادا کی گئی نماز سے بہتر ہے اور اپنی مقامی مسجد میں ادا کی گئی نماز میری اس مسجد یعنی مسجدِ نبوی میں ادا کی گئی نماز سے بہتر ہے۔” ﴿مسند امام احمد بن حنبل، حدیث: 27090 لیکن اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کے متعلق یہ حکم بھی ہے کہ اگر وہ (فرض نماز کے لیے) مسجد میں آنا چاہیں تو انہیں روکا نہ جائے۔ ان کے لیے رکاوٹ نہ پیدا کی جائے۔ حدیثِ شریف میں ہے:

 

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہاری خواتین جب مسجد میں جانا چاہیں تو ان کو منع مت کرو۔ ﴿صحیح مسلم، کتاب الصلوة، باب خروج النساء الى المساجد، حدیث: 989

اب کون کم نصیب ہے جو اپنے اندر یہ جراءت پیدا کرے کہ نبی کریم ﷺکے فرمان کی واضح اور دو ٹوک انداز سے تردید کرے۔ لیکن عورتوں کا مسجد میں جانا کچھ شرائط کے ساتھ ہے اور یہ شرائط شارع علیہ السلام کی طرف سے ہیں۔ ان میں سے ایک بے حد اہم شرط یہ ہے کہ انہوں نے خوشبو نہ لگائی ہو۔ حضرت زینب زوجہ عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہا یہ حدیثِ مبارکہ بیان کرتی ہیں:

“رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت مسجد میں آنا چاہے تو وہ خوشبو کو ہاتھ تک نہ لگائے۔”﴿ صحیح مسلم، كتاب الصلوة، باب خروج النساء الى المساجد، حديث: 997

ایک اور حدیثِ مبارک کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسولِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا:

“جو عورت کسی خوشبو کی دھونی دے تو وہ ہمارے ساتھ نمازِ عشاء میں شریک نہ ہو۔”﴿ ایضاً، حدیث 998

“تم اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد میں آنے سے مت روکو۔ البتہ انہیں بھی چاہیے کہ جب وہ مسجد میں آئیں تو زیب وزینت اور خوشبو وغیرہ لگائے بغیر نکلیں۔”﴿ سنن ابو داؤد، كتاب الصلاة، باب ما جاء في خروج النساء الى المسجد، حدیث 565صحیح۔

ان احادیثِ مبارکہ سے کس قدر صراحت سے معلوم ہو رہا ہے کہ عورتیں اگر مسجد میں آنا چاہتی ہیں تو ان کا حق ہے۔ انہیں قطعاً نہیں روکا جائے گا۔ اگر کوئی خاتون نمازِ فجر یا نمازِ عشاء کے لیے بھی جانا چاہے تو اجازت ہے۔ یعنی دن کی روشنی ہی نہیں، رات کے اندھیرے میں بھی انہیں نماز کے لیے مسجد میں جانے سے نہیں روکا جائے گا۔

نمازِ عید کے لیے خواتین کو ساتھ نہ لے جانا

پاک وہند کے ساکت وجامد معاشرے میں یہ رواج ہے کہ خواتین نمازِ عید کے لیے نہیں جاتیں۔ آپ ان خواتین سے پوچھیں جو کبھی عید کی نماز ادا کرنے نہیں گئیں، وہ حیران ہوں گی کہ بھلا خواتین بھی نمازِ عید پڑھنے جاتی ہیں۔۔۔۔اس میں زیادہ قصور وار مرد ہیں اور سب سے زیادہ قصور ان مولویوں کا ہے، جنہوں نے دین کو فقہی آراء کے تابع کیا ہوا ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں اور بعد کے ادوار میں بھی عورتیں مردوں کے ساتھ نمازِ عید کے لیے عیدگاہ جایا کرتی تھیں۔ انہیں اس حد تک تاکید تھی کہ اگر کسی عورت نے شرعی عذر کی بنا پر نماز ادا نہیں کرنی تو بھی وہ مسلمانوں کے اس عظیم الشان اجتماع میں شریک ہو۔ نماز نہ پڑھے لیکن دعا میں تو شریک ہو جائے۔ وہ دور غربت کا دور تھا۔ بعض عورتوں کے پاس باہر نکلتے وقت اوڑھنے کے لیے بڑی چادر بھی نہیں ہوتی تھی۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حد تک تاکید فرمائی کہ اگر کسی خاتون کے پاس چادر نہیں تو اس کے ساتھ والی اسے اپنی چادر اوڑھا دے۔﴿ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں صحیح بخاری، كتاب الصلاة، باب وجوب الصلاة في الثياب: 351، صحیح مسلم، كتاب الصلاة العيدين: 890 یعنی ایک بڑی چادر دو عورتیں اوڑھ لیں لیکن عیدگاہ میں ضرور جائیں۔

ایسے واضح، دو ٹوک اور قطعی فرامین کے باوجود اگر کوئی مولوی صاحب مسلمان خواتین پر نمازِ عید کے دروازے بند کرتے ہیں تو وہ یاد رکھیں نبوت ساڑھے چودہ سو برس پہلے ختم ہو چکی تھی اور دین مکمل ہو چکا تھا۔

عورتوں کا نمازِ عید کے لیے بے پردہ اور میک اپ کر کے جانا

جس طرح وقت گزرنے سے کچھ مسائل میں علماء کرام نے غیر اعلانیہ ”اجتہادات“ کیے ہیں جیسے لاؤڈ سپیکر کہ اسے بعض علماء کی طرف سے ابتداء میں خلافِ شرع قرار دیا گیا، کیمرے کی تصویر کہ فوٹوگرافرز اور ویڈیو میکرز کو دینی اجتماعات سے نکال دیا جاتا تھا، دیہات میں خطباتِ جمعہ کہ ایک زمانے تک گاؤں والوں سے جمعہ ساقط کا فتویٰ دیا جاتا تھا، بلکہ فتویٰ تو اب بھی یہی ہے البتہ عمل اس سے مختلف ہے، لڑکیوں کے دینی مدارس اور ان کی دینی تعلیم کے عدمِ جواز کے فتاویٰ وغیرہ، اسی طرح اب خواتین کے لیے مساجد کے دروازے بھی کھلتے جا رہے ہیں۔ لیکن تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے اور وہ حد درجہ افسوسناک ہے۔

وہ لوگ کہ جن کے ہاں خواتین کا مساجد اور عیدگاہ میں آنا نہ صرف جائز ہے بلکہ نمازِ عید کے لیے تو بلا کسی شدید مجبوری کے عورتوں کا گھروں میں رکنا درست نہیں سمجھا جاتا، ان کے ہاں خواتین میں یہ شدید کوتاہی پائی جاتی ہے کہ عورتیں بے پردہ اور خوب آراستہ و پیراستہ ہو کر عیدگاہ یا مسجد کا رخ کرتی ہیں۔ پھر وہ اپنے لیے مخصوص جگہ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ اپنے پنڈال سے باہر نماز پڑھ رہی ہوتی ہیں اور کچھ دیکھنے والے ان کے حسن و جمال میں محو ہوتے ہیں۔ خود بھی گناہ گار ہوتی ہیں اور دوسروں کے لیے بھی خرابی کا سامان بنتی ہیں۔ یہ مسئلہ شدید قابلِ اصلاح ہے۔

بیوٹی پارلر میں تیاری کے دوران دلہن کا نمازیں ضائع کرنا

یہ اکیسویں صدی عیسوی ہے، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی بدولت دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ ہر کوئی چمک دمک کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ صدیوں پرانے رسوم و رواج دم توڑ رہے ہیں۔ نت نئے طریقے معاشرے میں رائج ہوتے جا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک شادی کے موقع پر دلہن کا بیوٹی پارلر سے تیار ہونا بھی ہے۔ ہماری مائیں، نانیاں، دادیاں کسی پارلر میں نہیں گئی تھیں۔ وہ دور اپنے اندر سادگی کو سموئے ہوئے تھا۔ شادی بیاہ پر دلہن تیار ضرور ہوتی تھی۔ محلے کی کوئی ماہر خاتون گھر آ کے بچی کو تیار کر دیتی تھی۔ اب تو بیوٹی پارلر ہیں اور ہفتوں مہینوں پہلے بکنگ ہوتی ہے۔ لاکھوں روپے کا عروسی جوڑا تیار ہوتا ہے۔ شادی والے دن اگر بارات رات کو ہے تو دلہن کا نمازِ ظہر سے پہلے پارلر میں پہنچنا ضروری ہے۔ پھر اس دلہن کی نمازِ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء سب کی ہی چھٹی ہو گئی۔ اس موقع پر اچھی خاصی دین دار لڑکیاں بھی نمازیں ضائع کر بیٹھتی ہیں۔

اس شادی میں برکت کہاں سے آئے گی، جس میں قدم قدم پہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہو رہی ہوگی۔۔۔۔۔ ؟

اس لیے ضروری ہے کہ پارلر میں جانے سے پہلے نمازوں کی کوئی ترتیب بنائی جائے۔ ایسا شیڈول مرتب کیا جائے کہ دلہن کی نمازیں ضائع نہ ہوں۔

واللہ اعلم بالصواب

علمی تدوین و اضافہ

عمر فاروق قدوسی

عمر فاروق قدوسی

عمر فاروق قدوسی اسلامی موضوعات پر لکھنے والے مصنف ہیں۔ ان کی تحریروں میں عبادات، نماز، طہارت، استخارہ اور دینی رہنمائی سے متعلق موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کی تصانیف میں خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، اللؤلؤ والمرجان اردو ترجمے کی ترتیب و تدوین ، انوار المصابیح شرح مشکاۃ المصابیح کے عناوین، نبوی مجموعہ وظائف، اہل حدیث پر کچھ مزید کرم فرمائیاں، نبیِ رحمت ﷺ کی راتیں اور استخارہ کتاب و سنت کی روشنی میں شامل ہیں۔