بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

سند اور متن کی تعریف

سند اور متن کی تعریف

السند

السند: هو سلسلة الرواة التي حصل بها تلقي الخبر

سند راویوں کے اس تسلسل (سلسلے) کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کوئی خبر یا روایت ہم تک پہنچی ہو۔

اور آپ اسے (الإسناد) بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ علمِ حدیث میں ان دونوں (سند اور اسناد) کے درمیان صرف صوری (ظاہری) فرق ہے، حقیقت میں دونوں ایک ہی مقصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

المتن

المتن: هو الكلام (أو النصُّ) الذي انتهى إليه السند

متن: وہ کلام (یا اصل عبارت/نص) ہے جہاں پر سند کا سلسلہ ختم ہوتا ہے۔

اس امت کی خصوصیت

اور یاد رکھیے کہ اسناد (حدیث کی سند بیان کرنا) اس امت (امتِ مسلمہ) کی مخصوص خصوصیات میں سے ہے۔ اور ثابت شدہ نبوی نصوص نے لوگوں کے باقاعدہ اس سے واقف ہونے سے پہلے ہی اس کے واقع ہونے کی خبر دے دی تھی، جیسا کہ سیدنا  عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھماکی حدیث میں ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

تسمعون، ويُسمع منكم، ويسمع ممَّن يصحَبُكم

تم (مجھ سے حدیث) سن رہے ہو، اور تم سے (تمہارے شاگرد) سنیں گے، اور ان سے وہ لوگ سنیں گے جنہوں نے ان سے سنا ہو گا۔”

اور امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا:

 الإسناد من الدين، ولولا الإسناد لقال من شاء ما شاء

“اسناد دین میں سے ہے، اور اگر اسناد نہ ہوتی تو جس کا جو جی چاہتا وہ کہہ دیتا۔”

 اور اسناد وہ راستہ ہے جو متن کے ثبوت تک پہنچاتا ہے، اور بغیر سند کے کسی متن میں کوئی خیر (اعتبار) نہیں ہے۔

یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:

“تم (صرف) حدیث (کے متن) کو نہ دیکھو، بلکہ اس کی سند کو دیکھو۔ اگر سند صحیح ہو تو ٹھیک، ورنہ اگر سند صحیح نہ ہو تو پھر حدیث سے دھوکہ نہ کھاؤ۔”

اور سند میں سے اب جس چیز کی (احکام کے ثبوت کے لیے) ضرورت تھی، اس سے اس وقت فراغت حاصل ہو چکی تھی جب روایت کی کتابیں مدون (تصنیف) کر دی گئیں اور لوگوں کا مرجع و پناہ گاہ وہی کتابیں بن گئیں؛ اب صرف ان کتابوں کی صحت کا اعتبار باقی رہ گیا ہے کہ وہ واقعی ان مصنفین کی طرف منسوب ہیں یا نہیں۔

امام ابن الصلاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“ہمارے دور میں اور اس سے پہلے کے بہت سے زمانوں میں متصل اسناد کے ساتھ روایت کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ان کے ذریعے مروی بات کو ثابت کیا جائے، کیونکہ ان (آخری ادوار کی) اسانید میں کوئی نہ کوئی ایسا شیخ (راوی) ضرور ہوتا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا روایت کر رہا ہے اور نہ ہی وہ اپنی کتاب کی چیزوں کو اس طرح محفوظ (ضبط) رکھتا ہے کہ اس کے ثبوت پر بھروسا کیا جا سکے۔ بلکہ اس سے اب مقصود صرف اسناد کے اس سلسلے (سلسلۂ اسناد) کو باقی رکھنا ہے، جس کے ساتھ خاص طور پر اسی امت کو نوازا گیا ہے۔”

میں (مصنف) کہتا ہوں: اس امت کو اسناد کی خصوصیت عطا کی گئی اور یہ (خصوصیت) الحمد للہ (عملی طور پر) متحقق بھی ہو چکی ہے؛ یہ محض تبرک کے لیے باقی رکھنے کے لیے نہیں ہے، جیسا کہ اب یہ حال ہو چکا ہے کہ کچھ گروہوں نے ایسے رجسٹر (دفاتر) سنبھال رکھے ہیں جن میں حدیث کی بڑی بنیادی کتابوں (اصولِ کبار) اور دیگر کتب کے نام درج ہوتے ہیں، اور ان میں سے کسی شخص کو کسی (شیخ) سے ان کتابوں کی اجازتِ حدیث ملی ہوتی ہے۔ پھر وہ رجسٹر کا مالک جس کو چاہتا ہے آگے اجازت دے دیتا ہے، حالانکہ حقیقت میں اس نے ان کتابوں کے صرف عناوین (ناموں) کی اجازت دی ہوتی ہے، نہ اس نے وہ کتابیں خود سنی ہوتی ہیں، نہ اس سے کسی نے سنی ہوتی ہیں، نہ اس نے خود پڑھی ہوتی ہیں اور نہ اس کے سامنے پڑھی گئی ہوتی ہیں۔ اگر آپ ان کی سند کے بعض راویوں کی حقیقت کھوجنے نکلیں تو آپ کے لیے شدید دشواری ہوگی اور آپ ان کے احوال تک پہنچ بھی نہیں سکیں گے۔ پھر یہ شخص اس (سند) کے بل بوتے پر فخر سے سر بلند کرنا چاہتا ہے، گویا ان میں سے کسی کی زبانِ حال یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ:

“نبی ﷺ تک اتصال کا سلسلہ میرے راستے کے علاوہ باقی سب جگہ سے کٹ چکا ہے!”

چنانچہ اب امت کو ان (رسمی) اسانید کی کوئی ضرورت نہیں رہی، اور اگر امام ابن الصلاح کے دور میں ان کا کچھ اعتبار تھا بھی، تو آج کے دور میں وہ بھی ختم ہو چکا ہے؛ کیونکہ اب لوگوں کا آخری مدار حدیث کی کتابوں کے نسخوں کی صحت (صحتِ وجادات) پر ہے جو ہمیں تحریری صورت میں ملی ہیں۔

حدیثِ مسند کی اصطلاح

اہلِ حدیث (محدثین) کے ہاں “حدیثِ مسند”کے بارے میں خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“محدثین کی مراد اس سے یہ ہوتی ہے کہ اس کا إسناد روایت کرنے والے اور جس سے روایت کی جا رہی ہے، ان کے درمیان متصل (جڑا ہوا) ہو؛ تاہم ان کا اس عبارت کا زیادہ تر استعمال اس روایت میں ہوتا ہے جو نبی ﷺ سے منسوب (مسند) ہو۔ اور إسناد کے متصل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ہر راوی اپنے سے اوپر والے راوی سے سننے کی تصریح کرے یہاں تک کہ سلسلہ اپنے انجام (نبی ﷺ) تک پہنچ جائے، اگرچہ اس میں سننے کی صراحت (سمعتُ یا حدثنا) نہ بھی ہو بلکہ صرف عنعنہ (فلان عن فلان) پر ہی اکتفا کیا گیا ہو (بشرطیکہ راوی مدلس نہ ہو اور ملاقات ثابت ہو)۔”

اور اسی معنی کے مطابق—جو اکثر محدثین کے ہاں شائع ہے—امام حاکم ﷫نے (المسند) کی تعریف کی ہے۔

لیکن حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اسے (المرفوع) کا مترادف (ہم معنی) قرار دیا ہے، چنانچہ انہوں نے مسند ہونے کے لیے سند کے متصل ہونے کی شرط نہیں لگائی، اور انہوں نے یہ موقف محدثین کی ایک جماعت سے حکایت (نقل) کیا ہے۔

اور جن ائمہ نے مسند کی تعریف میں اتصال (سند کے جڑے ہونے) کا ذکر کیا ہے، ان کے ہاں اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ حدیث ‘صحیح’ بھی ہے؛ بلکہ اس سے مراد صرف یہ ہے کہ راوی نے بات کو اس کے اصل قائل تک پہنچا دیا ہے (یعنی محض حوالہ دیا ہے)، جبکہ وہ حدیث (اپنے راویوں کے احوال کے اعتبار سے) ضعیف بھی ہو سکتی ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

از قلم

حسنین علی

حسنین علی

حسنین متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن ،محقق اور سلفی منہج سے وابستہ طالبِ علم ہیں ۔آپ مسلمانوں کے باہمی فرقوں کے درمیان علمی گفتگو اور مکالمے میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ دینی علوم حاصل کرنے کے ساتھ تقابلِ ادیان کے میدان میں بھی محنت کر رہے ہیں، تاکہ مختلف مذاہب اور ان کے عقائد کا مطالعہ کرکے قرآن و سنت کی روشنی میں حق کو واضح کیا جا سکے۔