بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:39

متفرق ابواب
حدیث نمبر:39

حدیث نمبر:39

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ:" مَا تَرَكْتُ اسْتِلامَ الْحَجَرِ فِي رَخَاءٍ وَلا شِدَّةٍ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ".
حدثنا قبيصة بن عقبة، عن سفيان، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، فقال:" ما تركت استلام الحجر في رخاء ولا شدة منذ رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يستلمه".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں نے حجر اسود کا استلام کسی بھی حالت میں کبھی نہیں چھوڑا جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا استلام کرتے دیکھا۔

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم