بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) انسانی اعضاء کا زنا

متفرق ابواب
باب: انسانی اعضاء کا زنا
احادیث:1

حدیث نمبر: 103

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبٌ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لا مَحَالَةَ، قَالَ: فَالْعَيْنُ زِنْيَتُهَا النَّظَرُ وَتَصْدِيقُهَا الإِعْرَاضُ، وَاللِّسَانُ زِنْيَتُهُ الْمَنْطِقُ، وَالْقَلْبُ زِنْيَتُهُ التَّمَنِّي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ بِمَا ثَمَّ أَوْ يُكَذِّبُ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " على ابن آدم نصيب من الزنا ادرك ذلك لا محالة، قال: فالعين زنيتها النظر وتصديقها الإعراض، واللسان زنيته المنطق، والقلب زنيته التمني، والفرج يصدق بما ثم او يكذب"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم پر زنا کا کچھ حصہ مقرر کیا گیا ہے، جسے وہ بہرصورت پائے گا، آنکھ کا زنا (حرام چیز کو) دیکھنا ہے، اور اس کی تصدیق نظر ہٹا لینا ہے (اگر اس شخص نے اپنی پہلی نظر کے بعد اعراض کیا اور محرمات کو دیکھتے ہی اپنی نظروں کو جھکا لیا، تو یہ سچی نظر ہے وگرنہ نہیں)، زبان کا زنا (فحش) بات کا کہنا ہے، دل کا زنا تمنا اور خواہش کرنا ہے، اور شرمگاہ گناہ کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم