بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) اپنے مالک کو“ رب” اورغلام کو “ عبدی ” یا “ امتی” نہ کہو

متفرق ابواب
باب: اپنے مالک کو“ رب” اورغلام کو “ عبدی ” یا “ امتی” نہ کہو
احادیث:1

حدیث نمبر: 85

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَقُلْ أَحَدُكُمُ: اسْقِ رَبَّكَ أَوْ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ وَلا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: رَبِّي، وَلْيَقُلْ: سَيِّدِي وَمَوْلايَ، وَلا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، أَمَتِي، وَلْيَقُلْ: فَتَايَ، فَتَاتِي غُلامِي"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يقل احدكم: اسق ربك او اطعم ربك وضئ ربك ولا يقل احدكم: ربي، وليقل: سيدي ومولاي، ولا يقل احدكم: عبدي، امتي، وليقل: فتاي، فتاتي غلامي"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: اپنے “ رب” کو پلاؤ، اپنے رب کو کھانا کھلاؤ یا اپنے رب کو وضو کراؤ، اور نہ کوئی (اپنے آقا کو) میرا “ رب” کہ کر پکارے بلکہ وہ (اپنے آقا کو) “ سیدی و مولای” میرا سردار، میرا مولا کہہ کر پکارے۔ کسی کے لیے “عبدی” میرا بندہ، یا ”امتی“ میری بندی کہنا ٹھیک نہیں، بلکہ اسے چاہیے وہ یوں کہے: “غلامی” میرا نوکر، میری نوکرانی، میرا غلام۔”
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

متعلقہ مصنوعات

No product found.