بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) ایمان کے منافی اعمال

متفرق ابواب
باب: ایمان کے منافی اعمال
احادیث:1

حدیث نمبر: 90

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَسْرِقُ سَارِقٌ وَهُوَ حِينَ يَسْرِقُ مُؤْمِنٌ، وَلا يَزْنِي زَانٍ وَهُوَ حِينَ يَزْنِي مُؤْمِنٌ، وَلا يَشْرَبُ الْحُدُودَ أَحَدُكُمْ يَعْنِي الْخَمْرَ وَهُوَ حِينَ يَشْرَبُهَا مُؤْمِنٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لا يَنْتَهِبُ أَحَدُكُمْ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ إِلَيْهِ الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ فِيهَا وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ وَلا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ حِينَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاكُمْ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يسرق سارق وهو حين يسرق مؤمن، ولا يزني زان وهو حين يزني مؤمن، ولا يشرب الحدود احدكم يعني الخمر وهو حين يشربها مؤمن، والذي نفس محمد بيده لا ينتهب احدكم نهبة ذات شرف يرفع إليه المؤمنون اعينهم فيها وهو حين ينتهبها مؤمن ولا يغل احدكم حين يغل وهو مؤمن وإياكم وإياكم"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور بوقت چوری مومن نہیں ہوتا، زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں ہوتا، اور شرابی بوقت شراب نوشی مومن نہیں ہوتا، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم میں کوئی عزت دار شخص لوٹ مار کرتا ہے، جس کی طرف اہل ایمان اپنی نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں تو وہ شخص اس لوٹ مار کے وقت مومن نہیں ہوتا، اور خیانت کرتے وقت خائن مومن نہیں ہوتا، پس تم ان (شنیعہ و قبیحہ عادات) سے ضرور اجتناب کرو! بچو۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم