بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) ایک دفینے کا عمدہ فیصلہ

متفرق ابواب
باب: ایک دفینے کا عمدہ فیصلہ
احادیث:1

حدیث نمبر: 79

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا، فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ، فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ: خُذْ ذَهَبَكَ مِنِّي، إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ، فَقَالَ الَّذِي شَرَى الأَرْضَ: إِنَّمَا بِعْتُكَ الأَرْضَ وَمَا فِيهَا، فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ، فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ: أَلَكُمَا وَلَدٌ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لِي غُلامٌ، وَقَالَ الآخَرُ: لِي جَارِيَةٌ، فَقَالَ: أَنْكِحِ الْغُلامَ الْجَارِيَةَ، وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِكُمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اشترى رجل من رجل عقارا، فوجد الرجل الذي اشترى العقار في عقاره جرة فيها ذهب، فقال له الذي اشترى العقار: خذ ذهبك مني، إنما اشتريت منك الارض ولم ابتع منك الذهب، فقال الذي شرى الارض: إنما بعتك الارض وما فيها، فتحاكما إلى رجل، فقال الذي تحاكما إليه: الكما ولد، فقال احدهما: لي غلام، وقال الآخر: لي جارية، فقال: انكح الغلام الجارية، وانفقوا على انفسكما منه وتصدقا"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے کسی (دوسرے شخص) سے زمین خریدی اور خریدار کو اس زمین سے سونے کا گھڑا ملا، چناچہ خریدار نے مالک زمین سے کہا: آپ اپنا سونا مجھ سے لے لیں، کیونکہ میں نے آپ سے زمین خریدی تھی، سونا نہیں خریدا تھا۔ اس پر (مالک) زمین بیچنے والے نے کہا: میں نے زمین اور جو کچھ اس میں تھا (سب) آپ کو فروخت کیا تھا۔ پھر وہ دونوں ایک تیسرے شخص کے پاس اپنا مقدمہ لے کر گئے۔ اس فیصل نے ان سے پوچھا: تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: میرا لڑکا ہے۔ اور دوسرے نے کہا: میری ایک لڑکی ہے۔ فیصل نے کہا: ان دونوں کی آپس میں شادی کر دو اور تم دونوں سونے میں سے کچھ حصہ اپنے اور ان کے اوپر خرچ کرو اور کچھ صدقہ کر دو۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم