بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) ایک نیکی کا ثواب دس نیکیاں

متفرق ابواب
باب: ایک نیکی کا ثواب دس نیکیاں
احادیث:1

حدیث نمبر: 54

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي بِأَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً، فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَعْمَلْهَا، فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَأَنَا أَغْفِرُهَا، مَا لَمْ يَعْمَلْهَا فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ بِمِثْلِهَا"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" قال الله تعالى: إذا تحدث عبدي بان يعمل حسنة، فانا اكتبها له حسنة ما لم يعملها، فإذا عملها فانا اكتبها له بعشر امثالها، وإذا تحدث بان يعمل سيئة فانا اغفرها، ما لم يعملها فإذا عملها فانا اكتبها له بمثلها"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ کسی نیک عمل کا ارادہ کرتا ہے تو (محض اس کے ارادہ سے ہی جب تک اس پر عمل پیرا نہ ہو) میں اس کے لیے ایک نیکی (اس کے نامہ اعمال میں) لکھ دیتا ہوں، اور جب وہ اس قلبی ارادہ پر عمل پیرا ہوتا ہے تو اس کے لیے دس نیکیاں (اس کے نامہ اعمال میں) لکھ دیتا ہوں، اور جب (میرا بندہ) کسی عمل بد کے ارتکاب کا ارادہ کرتا ہے تو (محض اس کے عمل بد کے ارادہ سے) میں اسے معاف کر دیتا ہوں یعنی جب تک وہ عمل بد کا ارتکاب نہیں کر لیتا، اور جب وہ (اس) عمل کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے لیے (صرف) اس برائی کی مثل (ایک ہی گناہ) لکھتا ہوں۔"
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم