بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) دوزخ کی آگ شدت میں دنیاوی آگ سے 70 گنا زیادہ ہے

متفرق ابواب
باب: دوزخ کی آگ شدت میں دنیاوی آگ سے 70 گنا زیادہ ہے
احادیث:1

حدیث نمبر: 14

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَارُكُمْ هَذِهِ مَا يُوقِدُ بَنُو آدَمَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ"، فَقَالُوا: وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا، كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ناركم هذه ما يوقد بنو آدم جزء من سبعين جزءا من حر جهنم"، فقالوا: والله إن كانت لكافيتنا يا رسول الله، قال:" فإنها فضلت عليها بتسعة وستين جزءا، كلهن مثل حرها"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تمہاری یہ آگ جو بنی آدم جلاتے ہیں (حرارت میں) جہنم کی آگ سے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔" لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم یا رسول اللہ! ہم (گنہگاروں کے عذاب کے لیے تو) یہ (ہماری دنیا کی) آگ بھی بہت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جواباً) فرمایا:"جہنم کی آگ اس (دنیا کی آگ سے) انہتر درجے زیادہ ہے اور ان میں سے ہر ہر درجہ حرارت میں اسی کے مثل ہے۔"
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

    ویڈیوز
    شرعی مسائل کا حل

    غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم