بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقے کی چیز منع تھی

متفرق ابواب
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقے کی چیز منع تھی
احادیث:1

حدیث نمبر: 94

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي أَوْ فِي بَيْتِي فَأَرْفَعُهَا لآكُلَهَا، ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأُلْقِيهَا"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إني لانقلب إلى اهلي فاجد التمرة ساقطة على فراشي او في بيتي فارفعها لآكلها، ثم اخشى ان تكون من الصدقة، فالقيها"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جب اپنے گھر لوٹتا ہوں تو وہاں میں اپنے بستر پر (اپنے گھر میں) پڑی ہوئی کھجور پاتا ہوں اور اسے کھانے کے لیے اٹھا لیتا ہوں پھر اس خدشہ سے کہ یہ کھجور صدقہ کی ہو، اسے پھینک دیتا ہوں۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم