بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

Category: سلف کے عقائد

Videos

سیدنا ابو محمد سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا مکتوب

اس میں شامل ہے

دین کے ستونوں اور اس کی بنیادوں کی شرح: اسلام، ایمان، عبادت اور اخلاص

فہرستِ مباحث

 قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔”

 ﴿سورۃ القمر: 49

اسلام کے بنیادی عقائد کو سمجھنے کے لیے سلف صالحین کے اقوال اور تحریرات بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہی جلیل القدر سلف میں سیدنا ابو محمد سعید بن جبیر بن ہشام رحمہ اللہ کا نام نمایاں ہے۔ آپ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ممتاز شاگردوں میں شمار ہوتے تھے اور علم، فقہ، تفسیر اور دین کی سمجھ میں بلند مقام رکھتے تھے۔ آپ کا یہ مکتوب بھی اسی علمی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے جس میں دین کے بنیادی ستونوں اور اس کی عظیم بنیادوں کی مختصر مگر جامع وضاحت کی گئی ہے۔

صاحبِ مکتوب کا تعارف

سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ تابعین کے جلیل القدر علماء میں سے تھے۔ آپ کا پورا نام سعید بن جبیر بن ہشام الاسدی الوالبی الکوفی تھا اور آپ کی کنیت ابو محمد تھی۔ آپ کوفہ کے رہنے والے تھے اور آپ کی وفات 95 ہجری میں ہوئی۔

سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ علم و فضل میں بلند مقام رکھتے تھے اور خصوصاً سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ممتاز تلامذہ میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے علمِ قرآن، تفسیر اور دیگر دینی علوم حاصل کیے اور اپنے زمانے میں علم و فہم کے اعتبار سے نمایاں مقام حاصل کیا۔

آپ کے علمی مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب اہلِ کوفہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس مسائل دریافت کرنے آتے تو وہ ان سے فرماتے: ’’کیا تمہارے درمیان ابن ام الدہماء موجود نہیں؟‘‘ یعنی کیا سعید بن جبیر تمہارے درمیان موجود نہیں؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے علم اور دینی فہم پر کس قدر اعتماد تھا۔

علماء کی جانب سے تعریف

جعفر بن ابی مغیرہ کہتے ہیں کہ جب اہلِ کوفہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس مسائل پوچھنے آتے تو وہ ان سے فرماتے: ’’کیا تمہارے درمیان ابن ام الدہماء موجود نہیں؟‘‘ اور اس سے مراد سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ ہوتے تھے۔

اسی طرح عمرو بن میمون اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’سعید بن جبیر کی وفات اس حال میں ہوئی کہ روئے زمین پر کوئی شخص ایسا نہ تھا جو ان کے علم کا محتاج نہ ہو۔‘‘

اشعث بن اسحاق کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا: ’’سعید بن جبیر علماء کے جَہبَذ تھے۔‘‘ یعنی آپ علم و بصیرت رکھنے والے نہایت ممتاز، ماہر اور صاحبِ فہم علماء میں شمار ہوتے تھے۔

ان اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ اپنے زمانے کے محض ایک عام عالم نہیں تھے، بلکہ علم، فہم، تفسیر اور دینی بصیرت میں نہایت بلند مقام رکھتے تھے۔ آپ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ممتاز شاگردوں میں سے تھے اور اہلِ علم آپ کی علمی قابلیت اور دینی فہم کا اعتراف کرتے تھے۔

 ﴿السیر: 321/4

اس مکتوب کا ماخذ

یہ مکتوب محمد بن نصر المروزی رحمہ اللہ کی کتاب «تعظیم قدر الصلاۃ» سے ماخوذ ہے۔

محمد بن نصر المروزی رحمہ اللہ نے اسے سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ تک پہنچنے والی دو سندوں کے ذریعے روایت کیا ہے، تاہم اپنی کتاب میں اسے دو مختلف مقامات پر الگ الگ ذکر کیا ہے۔

پہلا مقام

رقم 345

اس مقام پر ایمان، دین اور عبادت کے بارے میں سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا جواب نقل کیا گیا ہے۔

دوسرا مقام

رقم 608 اور 609

ان مقامات پر اسلام اور اخلاص کے بارے میں ان کا جواب نقل کیا گیا ہے۔

دونوں مقامات پر مضمون کا تعلق ایک ہی سلسلے سے ہے، اسی لیے ان دونوں حصوں کو ایک ہی سیاق میں جمع کیا گیا ہے۔

سند و متن مکتوب

اس مکتوب کے لیے دو طریق ذکر کیے گئے ہیں۔

پہلا طریق

محمد بن نصر المروزی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

ہمیں محمد بن یحییٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو صالح کاتبِ لیث نے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن لہیعہ سے روایت کیا، انہوں نے عطاء بن دینار الہذلی سے روایت کیا کہ عبد الملک بن مروان نے سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی طرف خط لکھا اور ان سے مختلف مسائل کے بارے میں سوال کیا، تو سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے ان سوالات کے جوابات دیے۔

دوسرا طریق

دوسرا طریق بھی اسی مضمون کو دو صورتوں میں نقل کرتا ہے۔

ایک وہی سابقہ طریق ہے۔

دوسری سند میں محمد بن نصر نے کہا:

ہمیں ابو علی البسطامی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن حرب المکی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن لہیعہ نے عطاء بن دینار سے اسی مفہوم کی روایت بیان کی۔

اس طرح دونوں طریقوں میں اصل مضمون سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے عطاء بن دینار کے ذریعے منقول ہے۔

محمد بن نصر المروزی رحمہ اللہ نے روایت کیا:

عطاء بن دینار الہذلی سے روایت ہے کہ عبد الملک بن مروان نے سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی طرف خط لکھا، ان سے ان مسائل کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے ان کے جوابات دیتے ہوئے فرمایا:

1- آپ نے ایمان کے بارے میں پوچھا؟

انہوں نے فرمایا: ایمان سے مراد تصدیق ہے، یعنی بندہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کتابوں پر جو اس نے نازل فرمائی ہیں، ان تمام رسولوں پر جنہیں اس نے مبعوث فرمایا ہے، اور آخرت کے دن کی تصدیق کرے۔

2 – اور آپ نے تصدیق کے بارے میں پوچھا؟

تصدیق یہ ہے کہ بندہ قرآن میں جن باتوں کی تصدیق کرتا ہے، ان کے مطابق عمل کرے، اور اگر اس سے قرآن کی کسی بات پر عمل کرنے میں کوتاہی ہو جائے یا وہ اس میں تقصیر کرے تو اسے معلوم ہو کہ یہ گناہ ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت طلب کرے، اس سے توبہ کرے اور اس گناہ پر اصرار نہ کرے؛ پس یہی تصدیق ہے۔

(اکثر سلف اور ائمہ اہلِ سنت ایمان کی لغوی معنی کے اعتبار سے تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایمان تصدیق ہے۔ ان کا مقصود وہ معنی نہیں جو مرجئہ اپنے مختلف فرقوں اور گمراہ مذاہب کے مطابق بیان کرتے ہیں کہ ایمان محض ایسی تصدیق کا نام ہے جس کے ساتھ عمل شامل نہ ہو، بلکہ ان کی مراد ایسی اذعانی تصدیق ہے جو ظاہر و باطن کے عمل کو لازم کرتی ہے، جیسا کہ سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے یہاں فرمایا:   تصدیق یہ ہے کہ بندہ قرآن میں جن باتوں کی تصدیق کرتا ہے، ان کے مطابق عمل کرے۔۔۔

اور اسی طرح امام اوزاعی رحمہ اللہ نے بھی، جیسا کہ آگے ان کے عقیدے میں آئے گا، فرمایا:   دین تصدیق ہے، اور یہی ایمان اور عمل ہے۔ )

3 – اور آپ نے دین کے بارے میں پوچھا؟

دین سے مراد عبادت ہے، کیونکہ آپ کسی بھی اہلِ دین شخص کو ایسا نہیں پائیں گے کہ وہ اپنے دین والوں کی عبادت کو چھوڑ دے، پھر کسی دوسرے دین میں بھی داخل نہ ہو، مگر یہ کہ وہ بے دین ہو جائے۔

4 – اور آپ نے عبادت کے بارے میں پوچھا؟

عبادت سے مراد اطاعت ہے، اور یہ اس طرح ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ان تمام احکام میں اس کی اطاعت کرے جن کا اس نے اسے حکم دیا ہے اور ان تمام امور میں جن سے اسے منع کیا ہے، تو اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کو کامل کر دیا۔ اور جو شخص اپنے دین اور اپنے عمل میں شیطان کی اطاعت کرے، تو اس نے شیطان کی عبادت کی۔

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے فرمایا جنہوں نے کوتاہی کی:

أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَبَنِي ءَادَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ ﴿سورۃ يس: 60

’’اے اولادِ آدم! کیا میں نے تمہیں تاکید نہیں کی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا؟‘‘

اور ان کی شیطان کی عبادت اس وجہ سے تھی کہ انہوں نے اپنے دین کے معاملے میں اس کی اطاعت کی۔ چنانچہ ان میں سے بعض کو اس نے حکم دیا تو انہوں نے بتوں، یا سورج، یا چاند، یا انسان، یا کسی فرشتے کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا اور اس کے سامنے سجدہ کرنے لگے۔ حالانکہ شیطان ان میں سے کسی کے سامنے ظاہر ہو کر یہ نہیں آیا تھا کہ وہ اس کی عبادت کریں یا اسے سجدہ کریں، بلکہ انہوں نے اس کی اطاعت کی اور ان چیزوں کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا۔

پھر جب قیامت کے دن سب کو جہنم میں جمع کیا جائے گا تو شیطان ان سے کہے گا:

إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ﴿سورۃ إبراهيم: 22

’’میں تمہارے اس شرک سے بری ہوں جو تم نے پہلے میرے ساتھ کیا تھا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ ٩٨﴿ سورۃ الأنبياء: 98

’’بے شک تم اور جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہیں، تم سب اس میں داخل ہونے والے ہو۔‘‘

پس عیسیٰ علیہ السلام اور فرشتوں کی بھی اللہ کے سوا عبادت کی گئی، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں جہنم میں نہیں ڈالا۔ اسی طرح سورج اور چاند کا بھی کوئی گناہ نہیں، البتہ ان کی عبادت کرنے والوں کا معاملہ شیطان کی اطاعت کی طرف لوٹتا ہے، چنانچہ انہیں بھی ان کے ساتھ جہنم میں رکھا جائے گا۔

یہی بات اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بیان ہوئی ہے، جب وہ لوگ قیامت کے دن ان معبودوں کے سامنے حاضر ہوں گے:

تَاللهِ إِن كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ٩٧ إِذْ نُسَوِّيكُم بِرَبِّ الْعَلَمِينَ﴿سورۃالشعراء: 97 – 98

’’اللہ کی قسم! ہم تو کھلی گمراہی میں تھے، جب ہم تمہیں تمام جہانوں کے رب کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘

اور جب اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا:

أَهَؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ

’’کیا یہ لوگ تم ہی کی عبادت کیا کرتے تھے؟‘‘

تو فرشتے کہیں گے:

قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُونِهِمْ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُؤْمِنُونَ ٤١﴿سورۃسبأ: 40 – 41

’’انہوں نے کہا: تو پاک ہے! تو ہی ہمارا کارساز ہے، نہ کہ یہ لوگ۔ بلکہ یہ جنات کی عبادت کرتے تھے، ان میں سے اکثر انہی پر ایمان رکھنے والے تھے۔‘‘

انہوں نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں کہ ان کی جنات کی عبادت درحقیقت اس بات کی وجہ سے تھی کہ انہوں نے غیر اللہ کی عبادت کے معاملے میں شیطان کی اطاعت کی؟ پس عبادت کا مفہوم بالآخر اطاعت ہی کی طرف لوٹتا ہے۔

5 – اور آپ نے اسلام کے بارے میں پوچھا؟

اسلام سے مراد اخلاص ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا: أَسْلِمْ ﴿سورۃالبقرة: 131یعنی اپنے دین کو خالص کرو۔

اور فرمایا: مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلّٰهِ﴿ سورۃالبقرة: 112یعنی جس نے اپنا دین اللہ کے لیے خالص کر لیا۔

6 – اور آپ نے اخلاص کے بارے میں پوچھا؟

اخلاص یہ ہے کہ بندہ اپنے دین اور اپنے عمل کو اللہ ہی کے لیے خالص کر دے، چنانچہ وہ اپنے عمل کے ذریعے کسی کے لیے ریاکاری نہ کرے، اور یہ اخلاص تمام حق کے راستے میں ہو؛ پس یہی اخلاص ہے۔

اور جیسا کہ ابن بطہ رحمہ اللہ نے اپنے عقیدے میں فرمایا: اللہ عزوجل پر ایمان کا معنی یہ ہے کہ بندہ ان تمام باتوں کی تصدیق کرے جو اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہیں، جن کا حکم دیا ہے، جنہیں فرض قرار دیا ہے اور جن سے منع فرمایا ہے، یعنی ان تمام امور کی جو رسولوں کے ذریعے اس کی جانب سے آئے اور جن کے بارے میں کتابیں نازل کی گئیں۔ اور ان تمام باتوں کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے اقرار ہو، دل سے تصدیق ہو اور اعضاء سے عمل ہو۔ 

میں کہتا ہوں: سلف کے نزدیک کوئی شخص اس وقت تک مؤمن، تصدیق کرنے والا اور اپنے ایمان میں سچا نہیں ہو سکتا جب تک اس کے اندر ایمان کے تینوں ارکان جمع نہ ہوں: دل کی تصدیق، زبان کا قول اور اعضاء و جوارح کا عمل۔ اور اگر ان میں سے کوئی ایک بھی مفقود ہو جائے تو وہ ہرگز مؤمن نہیں ہو سکتا، برخلاف مرجئہ کے۔

اور میں نے اس مسئلے کی وضاحت اپنی کتاب   الابانۃ الصغرى پر اپنے تعلیق میں تفصیل سے بیان کی ہے۔﴿ص 145، طبعہ: 3

اس مکتوب سے حاصل ہونے والے عقائد

اس مکتوب میں دین کے بنیادی عقائد اور اصول نہایت جامع انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ اس سے درج ذیل اہم نکات سامنے آتے ہیں:

1۔ ایمان صرف دعویٰ نہیں

ایمان میں اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور آخرت کے دن کی تصدیق شامل ہے، لیکن یہ تصدیق عمل سے جدا نہیں۔

2۔ ایمان اور عمل کا باہمی تعلق ہے

سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے تصدیق کی حقیقت بیان کرتے ہوئے قرآن کی تعلیمات کے مطابق عمل کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سلف کے نزدیک ایمان محض قلبی تصدیق کا نام نہیں تھا۔

3۔ گناہ پر اصرار ایمان کے منافی رویہ ہے

اگر بندے سے قرآن کے کسی حکم پر عمل میں کوتاہی ہو جائے تو اسے گناہ کو معمول نہیں بنانا چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگنی، توبہ کرنی اور گناہ پر اصرار چھوڑ دینا چاہیے۔

4۔ دین کا تعلق عبادت سے ہے

دین محض ایک شناخت یا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا نام ہے۔

5۔ عبادت کا مفہوم اطاعت ہے

اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت عبادت ہے اور اس کی نافرمانی سے بچنا بھی عبادت کا حصہ ہے۔

6۔ شیطان کی اطاعت دراصل اس کی عبادت ہے

جو شخص شیطان کے بہکاوے میں آکر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور شرک کا راستہ اختیار کرتا ہے، اس نے دراصل شیطان کی اطاعت کی اور اسی اعتبار سے اس کی عبادت کی۔

7۔ شرک کی بنیاد شیطان کی پیروی پر ہے

معبودِ باطل خود اس شرک کے ذمہ دار نہیں ہوتے جس میں ان کے ماننے والے مبتلا ہوئے، بلکہ اصل گمراہی یہ ہے کہ انسان نے شیطان کی پیروی کرتے ہوئے غیر اللہ کو معبود بنا لیا۔

8۔ اسلام کی بنیاد اخلاص ہے

اسلام کا ایک بنیادی مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنے دین اور اپنی بندگی کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر دے۔

9۔ اخلاص عمل کی روح ہے

عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اگر اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص نہیں تو اس کی حقیقت متاثر ہو جاتی ہے۔ اس لیے مسلمان کو اپنے عمل کے ساتھ اپنی نیت کی بھی اصلاح کرنی چاہیے۔

10۔ ریاکاری سے بچنا ضروری ہے

سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اخلاص کی تعریف میں واضح فرمایا کہ بندہ اپنے عمل کے ذریعے کسی کے لیے ریاکاری نہ کرے۔ اس لیے عبادت اور نیکی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہونا چاہیے۔

11۔ سلف کے نزدیک ایمان قول، تصدیق اور عمل سے متعلق ہے

ابن بطہ رحمہ اللہ نے اپنے عقیدے میں فرمایا:

اللہ عزوجل پر ایمان کا معنی یہ ہے کہ بندہ ان تمام باتوں کی تصدیق کرے جو اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہیں، جن کا حکم دیا ہے، جنہیں فرض قرار دیا ہے اور جن سے منع فرمایا ہے، یعنی ان تمام امور کی جو رسولوں کے ذریعے اس کی جانب سے آئے اور جن کے بارے میں کتابیں نازل کی گئیں۔

اور ان تمام باتوں کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے اقرار ہو، دل سے تصدیق ہو اور اعضاء سے عمل ہو۔

اسی بنا پر سلف کے نزدیک کوئی شخص اس وقت تک مؤمن، تصدیق کرنے والا اور اپنے ایمان میں سچا نہیں ہو سکتا جب تک اس کے اندر ایمان کے یہ تینوں پہلو جمع نہ ہوں:

دل کی تصدیق، زبان کا قول اور اعضاء و جوارح کا عمل۔

اگر ان میں سے کوئی ایک بھی مفقود ہو جائے تو ایمان کی حقیقت متاثر ہوتی ہے۔ یہی اہلِ سنت کا موقف ہے، برخلاف مرجئہ کے۔

واللہ اعلم بالصواب

تالیف

محمد اویس سبحانی

محمد اویس سبحانی

محمد اویس سبحانی جامعہ اہلِ حدیث چونک دالگرا کے طالبِ علم، Muttabi ویب سائٹ کے بانی اور متبع ٹیم کے رکن ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپی تقابلِ ادیان، مسیحیت، الحاد، جدید فتنوں اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے علمی جائزے میں ہے۔

تحقیق کی مزید توثیق کے لیے متعلقہ صفحات کے اصل اسکین نیچے ملاحظہ کریں۔