بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

سلف کے عقائد: ایک ہی سرچشمہ، ایک ہی منہج

مقدمہ

اس میں شامل ہے

سلف کے عقائد: ایک ہی سرچشمہ، ایک ہی منہج

فہرستِ مباحث

إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ، نَحْمَدُهُ، وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صلی اللہ علیہ وسلم

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے

یقیناً تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔ ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، اور اپنے نفس کے شرور اور اپنے برے اعمال سے اسی کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

حمد و ثنا کے بعد!

صحیح عقیدہ: علم کا پہلا اور سب سے اہم فرض

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ

“پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور اپنے گناہ کی بخشش مانگو، نیز مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی مغفرت کی دعا کرو۔”

﴿سورۃ محمد: 19

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عمل سے پہلے علم کا حکم دیا ہے، اور سب سے پہلے جس علم کا ذکر فرمایا وہ توحید یعنی صحیح عقیدے کا علم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی بنیاد صحیح عقیدے پر قائم ہے۔ اگر عقیدہ درست ہو تو عبادت، اخلاق اور دیگر اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کے مستحق بنتے ہیں، لیکن اگر عقیدہ فاسد ہو تو بظاہر بڑے سے بڑے اعمال بھی انسان کو نجات نہیں دے سکتے۔

عقیدہ دراصل ان پختہ اور یقینی ایمان والے اصولوں کا نام ہے جن پر ایک مسلمان کا دل کامل یقین رکھتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے اسماء و صفات، فرشتوں، آسمانی کتابوں، رسولوں، آخرت، تقدیر اور دیگر بنیادی ایمانی امور پر ایمان۔ یہی عقیدہ انسان کی فکر، عبادت، کردار اور پوری زندگی کی بنیاد بنتا ہے۔ اسی لیے انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا آغاز ہمیشہ عقیدے کی اصلاح سے ہوا، کیونکہ جب عقیدہ درست ہو جاتا ہے تو اس کے بعد تمام اعمال بھی درست سمت اختیار کر لیتے ہیں۔

سلف صالحین کے عقائدی رسائل کی ضرورت

اسی صحیح عقیدے کی حفاظت، اشاعت اور وضاحت کے لیے سلف صالحین اور ائمۂ اہلِ سنت نے مختلف ادوار میں مختصر مگر نہایت جامع عقائدی رسائل تحریر کیے، تاکہ ہر دور کے مسلمان کتاب و سنت اور سلفِ امت کے فہم کے مطابق خالص اسلامی عقیدہ آسانی سے سمجھ سکیں، اور بدعات، گمراہ کن نظریات اور باطل افکار سے محفوظ رہیں۔

یہ کتاب پہلی تین بہترین اور فضیلت والی صدیوں، یعنی صحابۂ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے مبارک دور، اور ان کے بعد تقریباً پانچویں صدی ہجری تک آنے والے ان ائمۂ اہل سنت کے مختصر عقائد کا ایک جامع مجموعہ ہے جنہوں نے اخلاص کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کی، اسی پر ثابت قدم رہے، اور امت تک کتاب و سنت پر مبنی صحیح عقیدہ پہنچایا۔

ان مختصر رسائل کو تیار کرنے کے لیے قدیم و جدید مصادر، قلمی مخطوطات اور مطبوعہ کتابوں کا حتیٰ المقدور جائزہ لیا، ان میں بکھرے ہوئے عقائدی رسائل کو تلاش کیا، پھر انہیں ایک جگہ جمع کرکے ان کے مصنفین کے سالِ وفات کے اعتبار سے ترتیب دیا۔ اس ترتیب کا مقصد یہ ہے کہ قاری آسانی کے ساتھ سلف صالحین کے عقیدے کی تاریخی ترتیب، اس کے تسلسل اور اہل سنت و الجماعت کے ائمہ کی علمی خدمات سے واقف ہو سکے، اور عقیدے اور سنت کے بنیادی مسائل میں ان کے منہج کو براہِ راست ان کی اپنی تحریروں کے ذریعے سمجھ سکے۔

اہلِ سنت کا ایک ہی منہج

سلف صالحین کے اس منہج اور مختصر عقائدی رسائل کی اہمیت کو متعدد ائمۂ اہل سنت نے بھی واضح کیا ہے۔ انہی میں سے ایک عظیم محدث اور امام، قوام السنہ الاصبہانی رحمہ اللہ (وفات: 535ھ) ہیں۔ انہوں نے اپنی مشہور کتاب الحجة في بيان المحجة میں ان رسائل کے مقصد اور ان کی ضرورت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا:

حمد و ثنا کے بعد! میں نے سلفِ صالحین کے مشائخ اور ان کے بعد آنے والے ان کے بہت سے پیروکاروں کو پایا، جن پر دین کے معاملات میں اعتماد کیا جاتا ہے اور سنت پر عمل کرنے میں جن کی اقتدا کی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنا عقیدہ اور سنت کے معانی و مفاہیم کے بارے میں اپنے دلوں میں موجود اعتقاد کو واضح طور پر بیان کر دیا، تاکہ ان کے نقشِ قدم پر چلنے والا ان کی اقتدا کر سکے۔ انہوں نے یہ کام اس وقت کیا جب شہروں میں بدعات عام ہو گئیں، ان کے اسباب ہر طرف پھیل گئے، اور حق کو واضح کرنے کی ناگزیر ضرورت پیش آ گئی، تاکہ بعد میں آنے والا ہر طالبِ ہدایت بھی اسی کے ذریعے راہِ راست پا سکے، جس طرح پہلے گزرے ہوئے سلف صالحین نے ہدایت پائی تھی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں متقین میں شامل فرمائے اور ہمیں بدعتیوں کی ایجاد کردہ باتوں سے محفوظ رکھے۔”

﴿الحجة في بيان المحجة :545/2

یہ تمام عقائد، اپنے اختصار کے باوجود، ایک ہی سرچشمے سے ماخوذ ہیں، اور وہ سرچشمہ وحیِ الٰہی، یعنی قرآنِ کریم، سنتِ رسول ﷺ اور سلفِ امت کا اجماعی فہم ہے۔ اسی لیے اگر آپ ان رسائل کا ابتدا سے انتہا تک مطالعہ کریں، خواہ ان کے مصنفین مختلف زمانوں، شہروں اور علاقوں سے تعلق رکھتے ہوں، تو عقیدے کے بیان میں ان سب کو ایک ہی منہج، ایک ہی اصول اور ایک ہی طرزِ استدلال پر قائم پائیں گے۔

ان کے درمیان نہ اصولِ عقیدہ میں کوئی تضاد ہے، نہ منہج میں کوئی اختلاف اور نہ ہی حق سے انحراف کی کوئی مثال ملتی ہے۔ ان کا عقیدہ بھی ایک ہے، ان کا منہج بھی ایک ہے اور ان کی دعوت بھی ایک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے دین کو اپنی عقلوں، خواہشات یا فلسفیانہ آراء سے نہیں، بلکہ کتاب اللہ، سنتِ رسول ﷺ اور سلف صالحین سے منقول صحیح علم سے حاصل کیا۔ یہی بنیاد انہیں اتحاد، اعتدال اور حق پر ثابت قدم رکھتی ہے، اور یہی اہلِ سنت والجماعت کی نمایاں خصوصیت ہے۔

اختلاف کا اصل سبب

اس اتفاق اور ہم آہنگی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان ائمہ نے دین کو قرآنِ کریم، سنتِ رسول ﷺ اور سلف صالحین سے منقول صحیح روایات سے حاصل کیا۔ یہی خالص ماخذ ان کے درمیان اتحاد، الفت اور یکسانیت کا سبب بنا۔ اس کے برعکس اہلِ بدعت اور خواہشاتِ نفس کے پیروکاروں نے دین کی بنیاد وحی کے بجائے اپنی عقلوں، فلسفیانہ آراء اور ذاتی نظریات پر رکھی، جس کا لازمی نتیجہ اختلاف، تفرقہ اور گمراہی کی صورت میں ظاہر ہوا۔

حق، صحیح عقیدہ اور سیدھا منہج ہمیشہ اہلِ حدیث اور اہلِ اثر کے پاس محفوظ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دین اور عقیدے کو نسل در نسل قابلِ اعتماد طریقے سے منتقل کیا۔ ہر بعد میں آنے والی نسل نے اپنے سے پہلے والوں سے علم حاصل کیا، یہاں تک کہ یہ سلسلہ تابعین تک پہنچا۔ تابعین نے یہ علم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے حاصل کیا، صحابۂ کرام نے اسے براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے سیکھا، اور رسول اللہ ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق امت تک پہنچایا۔

اسی لیے رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے سچے دین اور سیدھے راستے کو جاننے کا صحیح ذریعہ یہی متصل اور محفوظ سلسلہ ہے، جس پر اہلِ حدیث اور اہلِ اثر ہمیشہ قائم رہے۔ یہی وہ منہج ہے جس نے ہر دور میں کتاب و سنت کی صحیح تعلیمات کو محفوظ رکھا اور امت تک ان کی اصل صورت میں پہنچایا۔

ان رسائل کے انتخاب کا معیار

عقائد کے ان رسائل کو جمع کرنے کے لیے  علماءنے  حتی المقدور وسیع تحقیق سے کام لیا، جس کے نتیجے میں سلف صالحین اور ائمۂ اہلِ سنت کے عقیدے پر مشتمل رسائل کی ایک بڑی تعداد تک رسائی حاصل ہوئی۔ ان میں بعض رسائل عقیدے کے کسی ایک مخصوص مسئلے، جیسے ایمان، تقدیر یا قرآن کے مسئلے، پر مشتمل تھے، جبکہ بعض میں سنت اور عقیدے کے متعدد بنیادی ابواب کو جامع انداز میں بیان کیا گیا تھا۔

ان تمام رسائل میں سے میں نے انہی متون کا انتخاب کیا ہے جو سلف صالحین کے خالص منہج کی صحیح ترجمانی کرتے ہیں، جن میں عقیدہ پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اور جو بعد کے ادوار میں پیدا ہونے والی بدعات، غیر ثابت اصطلاحات، فلسفیانہ تعبیرات اور اہلِ بدعت کی داخل کردہ باتوں سے محفوظ ہیں۔

اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

 اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے پر مختصر رسائل لکھنے والے ائمہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ان بنیادی عقائد کو بیان کرتے تھے جن کے ذریعے اہلِ سنت اپنے زمانے کے اہلِ بدعت اور گمراہ فرقوں سے ممتاز ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے اثبات، قرآنِ کریم کے غیر مخلوق ہونے، آخرت میں مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے دیدار، تقدیر، ایمان، اسماء و احکام، وعد و وعید، گناہِ کبیرہ کے مرتکب کے حکم، خلفائے راشدین کے فضائل اور امامت، اور دیگر بنیادی عقائد کو واضح کرتے تھے۔ ان تمام مسائل میں وہ ہمیشہ کتاب و سنت اور سلف صالحین کے فہم کو بنیاد بناتے اور اہلِ بدعت کی گمراہ آراء کا رد کرتے تھے۔

﴿العقيدة الاصفهانيہ : 31

اسی وجہ سے سلف کے یہ مختصر رسائل محض عقائد کا مجموعہ نہیں، بلکہ اہلِ سنت والجماعت کے امتیازی منہج کی واضح ترجمانی بھی ہیں، اور ہر دور میں حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرنے کا ذریعہ رہے ہیں۔

یہ مختصر عقائد اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ عقیدے کے بنیادی مسائل اپنی اصل میں نہایت واضح، آسان اور فطری ہیں۔ ان رسائل کے مصنفین علم و عمل میں امت کے وہ ائمہ تھے جنہوں نے دین کو براہِ راست کتاب و سنت اور سلف صالحین کے فہم سے اخذ کیا۔ وہ بے جا تکلف، فلسفیانہ موشگافیوں اور علمِ کلام کی پیچیدگیوں سے دور رہے، اسی لیے ان کے عقائد نہایت صاف، سادہ اور دلائلِ شرعیہ پر قائم نظر آتے ہیں۔ انہوں نے دین میں کوئی نئی بات ایجاد نہیں کی، بلکہ وہی عقیدہ بیان کیا جو رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام، تابعین اور ائمۂ سلف سے ثابت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان رسائل میں بدعت، فلسفے اور اہلِ کلام کی خود ساختہ اصطلاحات کی آمیزش نہیں ملتی، بلکہ ہر مسئلہ نہایت اختصار، وضاحت اور اعتدال کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

ان رسائل کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ اختصار کے باوجود ان میں علم کی گہرائی، استدلال کی مضبوطی اور بیان کی جامعیت بدرجۂ اتم موجود ہے۔ سلف صالحین کا یہی امتیاز تھا کہ وہ کم الفاظ میں بڑے معانی ادا کرتے تھے اور غیر ضروری بحث و جدال سے اجتناب کرتے تھے۔ ائمۂ سلف کا مختصر کلام اپنے اندر وہ جامعیت، بصیرت اور علمی پختگی رکھتا ہے جس سے بعد کے لوگوں کی طویل اور پیچیدہ مباحث اکثر خالی نظر آتی ہیں۔ خاموشی علم کی کمی نہیں بلکہ علم، تقویٰ اور خشیتِ الٰہی کی علامت تھی، جبکہ بے فائدہ مناظروں، طویل مباحث اور ضرورت سے زیادہ گفتگونے اس امت کو اختلاف، تفرقہ اور فکری انتشارمیں ہی ڈالا ہے۔ اسی لیے سلف کا منہج ہمیشہ جامع، آسان، متوازن اور کتاب و سنت کے قریب ترین رہا، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہر طالبِ علم کو اعتدال، بصیرت اور حق کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہلِ سنت، اہلِ حدیث اور اہلِ اثر میں شامل فرمائے، ہمیں ان کے عقیدے اور منہج پر ثابت قدم رکھے، اور سلف صالحین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

خلاصہ

الحمد للہ! اس مجموعے میں سلف صالحین اور ائمۂ اہلِ سنت کے ان مختصر عقائدی رسائل کو یکجا کیا گیا ہے جو قرآنِ کریم، سنتِ رسول ﷺ اور سلفِ امت کے فہم پر مبنی ہیں۔ ان رسائل کا مطالعہ یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہر دور میں ایک ہی رہا ہے، جس کی بنیاد وحیِ الٰہی پر ہے، نہ کہ فلسفیانہ آراء، خواہشاتِ نفس یا علمِ کلام کی پیچیدگیوں پر۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اسے ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، اور تمام مسلمانوں کو صحیح عقیدہ، سنتِ نبوی ﷺ اور سلف صالحین کے منہج پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

واللہ اعلم بالصواب

تدوین 

محمد اویس سبحانی

محمد اویس سبحانی

محمد اویس سبحانی جامعہ اہلِ حدیث چونک دالگرا کے طالبِ علم، Muttabi ویب سائٹ کے بانی اور متبع ٹیم کے رکن ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپی تقابلِ ادیان، مسیحیت، الحاد، جدید فتنوں اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے علمی جائزے میں ہے۔

تحقیق کی مزید توثیق کے لیے متعلقہ صفحات کے اصل اسکین نیچے ملاحظہ کریں۔