بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

تقدیر پر امیر المؤمنین فاروق سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مکتوب

امیر المؤمنین فاروق سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مکتوب

اس میں شامل ہے

تقدیر (القدر) کے عقیدہ کا اثبات۔

اور تقدیر کے بارے میں بے جا بحث و مباحثہ اور غیر ضروری کلام کرنے سے ممانعت۔

فہرستِ مباحث

اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ

“بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک مقررہ تقدیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔”

 ﴿سورۃ القمر: 49

 تقدیر پر ایمان، ایمان کے بنیادی ارکان میں سے ایک عظیم رکن ہے، اور یہی وہ عقیدہ ہے جس کی تعلیم قرآنِ کریم، سنتِ رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے دی ہے۔ جب بعض لوگوں نے تقدیر کے مسئلے میں بے جا بحث و مباحثہ اور باطل تاویلات کو اختیار کیا تو امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے امت کی رہنمائی کے لیے یہ مختصر مگر نہایت جامع مکتوب تحریر فرمایا، جس میں عقیدۂ تقدیر کی حقیقت کو واضح کیا، اس بارے میں غیر ضروری بحث سے منع فرمایا، اور مسلمانوں کو قرآنِ کریم کی تلاوت، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عملِ صالح میں مشغول رہنے کی تلقین فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ رسالہ اہلِ سنت والجماعت کے منہج اور سلفِ صالحین کے فہمِ عقیدہ کی ایک اہم اور قابلِ قدر دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

صاحبِ مکتوب کا تعارف

امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام کے دوسرے خلیفۂ راشد، عشرۂ مبشرہ میں شامل جلیل القدر صحابی اور امتِ مسلمہ کے عظیم ترین حکمرانوں میں سے ہیں۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی تربیت میں دین کو سیکھا اور خلافت کے دوران عدل، علم اور سنتِ نبوی کے نفاذ کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ عقیدہ، عبادات، معاملات اور امت کو درپیش فتنوں کے بارے میں آپ کی آراء اور فیصلے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک نہایت اہم اور قابلِ اعتماد تھے۔ زیرِ نظر مکتوب بھی آپ کی اسی بصیرت کا آئینہ دار ہے، جسے آپ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ کے استفسار کے جواب میں تحریر فرمایا۔ اس مختصر مگر جامع مکتوب میں تقدیر کے صحیح اسلامی عقیدے کو واضح کیا گیا ہے، اس مسئلے میں بے جا بحث و مباحثہ سے روکا گیا ہے، اور مسلمانوں کو قرآنِ مجید کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مکتوب عقیدۂ تقدیر کے باب میں سلفِ صالحین کے منہج کو سمجھنے کے لیے ایک نہایت اہم اور قیمتی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس مکتوب کا ماخذ

یہ مکتوب حافظ عبد الرحمن بن محمد بن إسحاق بن منده رحمہ اللہ (وفات: 470ھ) کی﴿ کتاب الرد على من يقول الم حرف :ص: 35 سے اخذ کیا گیا ہے۔

حافظ ابن مندہ نے اس مکتوب کو اپنی سند کے ساتھ مکمل روایت کیا ہے، اور مجھے ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نہیں ملا جس نے اسے روایت کیا ہو۔

البتہ اس مکتوب کی سند میں مصنف کے شیخ احمد بن أبي نصر محمد بن سلمان المعداني موجود ہیں۔ ان کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے﴿ميزان الاعتدال :29/4میں فرمایا ہے:

“انہوں نے امام طبرانی سے ایک من گھڑت روایت نقل کی، اور اسی کی وجہ سے ان پر الزام لگایا گیا۔”

تاہم اس مکتوب کا متن صحیح اسلامی عقیدے کے موافق ہے، اور اس کے مضامین کی تائید قرآنِ کریم، متعدد صحیح احادیث اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ثابت شدہ آثار سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم اس کے متن کو انہی شرعی دلائل کی روشنی میں سمجھتے اور پرکھتے ہیں۔

اس مکتوب کے متن کی تحقیق میں اس کتاب کے ایک قدیم مخطوطہ نسخے پر اعتماد کیا گیا ہے، جو دمشق کی الظاہریہ لائبریری کے مخطوطات میں ﴿مجموعہ نمبر :101 کے ضمن میں محفوظ ہے۔

سند و متن مکتوب

حافظ عبدالرحمٰن بن محمد بن مندہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ہم سے محمد بن ابی نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے امام طبرانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے علی بن عبدالعزیز نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے عاصم بن بہدلہ سے، انہوں نے ابو وائل شقیق بن سلمہ سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا:

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ:

“ہمارے علاقے میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوگئے ہیں جو تقدیر کے مسئلے میں گفتگو کرتے ہیں (اور اس میں بے جا بحث و مباحثہ کرتے ہیں)۔”

 اس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب میں لکھا:

اللہ کے نام سے، جو نہایت مہربان، بے حد رحم کرنے والا ہے۔اللہ کے بندے، امیر المؤمنین عمر بن خطاب کی طرف سے اللہ کے بندے عبداللہ بن قیس اشعری کے نام۔

اما بعد!

 بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلے کو قطعی کر دیا ہے، اپنے حکم کو نافذ فرما دیا ہے، اپنی مشیت کو مقدر کر دیا ہے، اور اپنی مخلوق پر اس چیز کے بارے میں حجت قائم کر دی ہے جس کا انہیں اپنی اطاعت کا حکم دیا اور جس سے اپنی نافرمانی کے طور پر منع فرمایا۔

 پس جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے مدد و نصرت عطا فرماتا ہے، اور جب کسی سے ناراض ہوتا ہے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ اللہ ہمیں اور آپ کو اپنے ان بندوں میں شامل فرمائے جنہیں وہ اپنی نصرت سے نوازتا ہے اور جو اس کی اطاعت پر عمل کرنے والے ہیں۔

 جب میرا یہ خط تمہیں پہنچے تو ان لوگوں کو بلا لینا، انہیں سختی سے تنبیہ کرنا، اور انہیں اس بات سے روک دینا کہ وہ دوبارہ اس معاملے میں بحث و مباحثہ کریں جسے اللہ عزوجل نے پہلے ہی فیصلہ کر دیا ہے اور اس سے فارغ ہو چکا ہے۔

 اور جان لو کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا، پھر اس سے فرمایا: “لکھ!” چنانچہ قلم نے وہ سب کچھ لکھ دیا جو ہو چکا تھا اور جو قیامت تک ہونے والا ہے۔ پس اللہ عزوجل اپنے بندوں کی سعادت اور شقاوت کا فیصلہ پہلے ہی فرما چکا ہے۔

 لہٰذا انہیں اس معاملے میں بحث و مباحثہ کرنے سے منع کرو جس کا فیصلہ اللہ عزوجل پہلے ہی فرما چکا ہے۔

 اور انہیں حکم دو کہ وہ اللہ عزوجل کی کتاب کی تلاوت میں مشغول رہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کی تلاوت کرنے والے کے لیے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں لکھتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ﴿الم﴾ ایک حرف ہے، بلکہ الف پر دس نیکیاں، لام پر دس نیکیاں، اور میم پر دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔

پس جس عمل کی فضیلت اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرما دی ہے، اس میں مشغول رہنا ان کے لیے اس بحث میں پڑنے سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہے، جس کا فیصلہ اللہ تبارک و تعالیٰ پہلے ہی کر چکا ہے اور اسے مکمل فرما دیا ہے۔ والله اعلم۔

اس مکتوب سے حاصل ہونے والے عقائد

اس مبارک مکتوب سے اہلِ سنت والجماعت کے متعدد اہم عقائد واضح ہوتے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

۔۔تقدیر پر ایمان لانا ایمان کے بنیادی ارکان میں سے ہے۔

۔۔اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا فیصلہ پہلے ہی فرما دیا ہے، اور اس کا ہر حکم حکمت و عدل پر مبنی ہے۔

۔۔کائنات میں جو کچھ ہو چکا ہے، جو ہو رہا ہے اور جو قیامت تک ہوگا، وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم، مشیت اور تقدیر کے مطابق ہے۔

۔۔اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی تقدیر پہلے ہی قلم کے ذریعے لکھوا دی تھی، اس لیے ہر چیز اس کی لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق واقع ہوتی ہے۔

۔۔اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر حجت قائم کر چکا ہے، اس نے انہیں نیکی کا حکم اور برائی سے منع فرمایا ہے، لہٰذا قیامت کے دن کسی کے پاس عذر باقی نہیں رہے گا۔

۔۔ہدایت، توفیق اور اللہ تعالیٰ کی نصرت اسی بندے کو حاصل ہوتی ہے جس سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتا ہے، جبکہ گمراہی اور رسوائی اس شخص کا انجام بنتی ہے جسے اللہ تعالیٰ اس کے اپنے حال پر چھوڑ دے۔

۔۔بندے کی سعادت اور شقاوت اللہ تعالیٰ کے علم اور تقدیر میں پہلے سے لکھی جا چکی ہے، تاہم بندہ اپنے اختیار کے مطابق عمل کرنے کا مکلف ہے اور اسی پر اس کا محاسبہ ہوگا۔

۔۔تقدیر کے بارے میں بے جا بحث و مباحثہ، فلسفیانہ موشگافیاں اور باطل مناظرے سلف صالحین کا طریقہ نہیں، بلکہ ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔

۔۔مسلمان کو ان امور میں مشغول رہنا چاہیے جن میں دین و دنیا کی بھلائی ہو، نہ کہ ایسے اختلافات میں جن سے ایمان کمزور اور دل سخت ہو جائیں۔

۔۔قرآنِ مجید کی تلاوت بہترین عبادات میں سے ہے، اور اس کے ہر حرف پر اللہ تعالیٰ دس نیکیاں عطا فرماتا ہے۔

۔۔علمِ نافع وہ ہے جو بندے کے ایمان، عمل اور آخرت کی اصلاح کا ذریعہ بنے، جبکہ بے فائدہ مناظرے اور غیر ضروری مباحث نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

۔۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا منہج یہی تھا کہ عقیدے کے مسائل میں قرآن و سنت کی پیروی کی جائے اور ایسے امور میں بے جا بحث سے اجتناب کیا جائے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے واضح رہنمائی فرما دی ہو۔

۔۔لوگوں کی اصلاح کرنے والے اہلِ علم اور ذمہ دار افراد پر لازم ہے کہ وہ باطل افکار کا بروقت رد کریں، لوگوں کو صحیح عقیدہ سکھائیں اور انہیں قرآن و سنت کی طرف متوجہ کریں۔

یہی وہ بنیادی عقائد اور اصول ہیں جن پر یہ مختصر مگر نہایت جامع مکتوب قائم ہے، اور یہی اہلِ سنت والجماعت کا وہ منہج ہے جس پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین قائم تھے۔

واللہ اعلم بالصواب

تالیف

محمد اویس سبحانی

محمد اویس سبحانی

محمد اویس سبحانی جامعہ اہلِ حدیث چونک دالگرا کے طالبِ علم، Muttabi ویب سائٹ کے بانی اور متبع ٹیم کے رکن ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپی تقابلِ ادیان، مسیحیت، الحاد، جدید فتنوں اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے علمی جائزے میں ہے۔

تحقیق کی مزید توثیق کے لیے متعلقہ صفحات کے اصل اسکین نیچے ملاحظہ کریں۔