عیسائیوں کے تین سوالات اور ان کے جوابات
اسلامی عقائد اور مسیحی عقائد کے درمیان بنیادی اختلافات میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت اور مقام و مرتبہ کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ زیر نظر تحریر میں ایک عیسائی سائل کی طرف سے پیش کیے گئے تین سوالات کے جوابات قرآن و سنت اور خود مسیحی کتب کے مروجہ متن کی روشنی میں پیش کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد اسی انداز میں عہد نامہ قدیم و جدید کے بعض مقامات سے متعلق تین سوالات عیسائیوں کے سامنے رکھے گئے ہیں تاکہ اس موضوع پر علمی اور دلائل پر مبنی گفتگو ہو سکے
یہ تحریر معروف محدث شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے مضمون سے ماخوذ ہے جو 10 فروری 2008ء کو ماہنامہ الحدیث شمارہ 48 میں شائع ہوا تھا۔ اس کا مقصد کسی مذہب یا اس کے پیروکاروں کی تحقیر نہیں بلکہ پیش کیے گئے اعتراضات کا علمی جواب دینا اور قارئین کے سامنے دلائل کی روشنی میں اس بحث کے اہم پہلو واضح کرنا ہے
ایک عیسائی نے کچھ سوال دیئے ہیں اور کہا ہے کہ اگر آپ میرے سوالوں کے جواب دے دیں تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔
(پہلا سوال:) عیسیٰ علیہ السلام ماں کی گود میں بولے۔ (آپ کے) نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نہیں بولے۔ ثابت ہوا عیسیٰ بڑے ہیں۔ (ایک سائل)
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی کنواری والدہ سیدہ مریم علیہا السلام پر یہودیوں کی طرف سے زنا کی تہمت لگی کیونکہ وہ چند دن کا چھوٹا سا ننھا بچہ گود میں لے کر آ گئی تھیں۔ اب ضروری تھا کہ اس تہمت کا مضبوط اور متحیر العقول طریقے سے جواب دیا جائے لہٰذا سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اس حالتِ معصومیت میں کلام اور اپنی نبوت کا اعلان کر کے اپنی ماں کی بے گناہی ثابت کر دی۔
ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ اور والدِ بزرگوار سب لوگوں کو معلوم تھے، آپ کی والدہ پر کوئی تہمت نہیں لگی تھی لہٰذا ایسی صفائی کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ معصوم بچہ گود میں گواہی دے کر آپ کی والدہ کی براءت ثابت کر دے۔ گواہی اور براءت کی وہاں ضرورت ہوتی ہے جہاں تہمت اور اعتراض ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ گود میں معصوم بچے کا بولنا افضلیت کی دلیل نہیں ورنہ یہ ثابت ہے کہ جریج راہب کی براءت کے لئے معصوم بچہ بولا تھا۔ کیا جریج راہب کے سامنے بولنے والے بچے کو اُن انبیاء مثلاً سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا یعقوب علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت دی جائے گی جن کا ماں کی گود میں بولنا ثابت نہیں ہے؟ معلوم ہوا کہ سائل کے سوال کی بنیاد ہی غلط ہے۔
مسلمانوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے تمام سچے رسولوں پر ایمان لانا فرض ہے۔ جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے سچے رسول اور بندے ہیں، اسی طرح سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے سیدنا محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول اور بندے ہیں۔
رسول کی فضیلت کی اصل بنیاد رسالت ہوتی ہے۔ ہمارے رسول کی رسالت ان کی اپنی مادری زبان میں قرآن مجید کی صورت میں دنیا میں موجود ہے لیکن عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت یعنی انجیل ان کی مادری زبان میں کہیں موجود نہیں ہے۔ پولس کے پیروکار عیسائیوں کا یونانی زبان میں متّی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی بے سند انجیلیں پیش کرنا کئی وجہ سے غلط ہے:
1۔سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی مادری زبان یونانی نہیں بلکہ آرامی تھی۔
2۔متّی کی طرف منسوب انجیل میں لکھا ہوا ہے کہ “یسوع نے وہاں سے آگے بڑھ کر متّی نام ایک شخص کو محصول کی چوکی پر بیٹھے دیکھا اور اس سے کہا میرے پیچھے ہو لے۔ وہ اُٹھ کر اُسکے پیچھے ہو لیا۔” ﴿متّی باب 9 فقرہ: 9، پرانا اور نیا عہد نامہ، بائبل سوسائٹی انارکلی لاہور ص 11، 12، نیز دیکھئے کلامِ مقدس کا عہدِ عتیق و جدید، سوسائٹی آف سینٹ پال روما 1958ء ص 13﴾
معلوم ہوا کہ متّی کی طرف منسوب انجیل کا مصنف متّی نہیں ہے یا پھر متّی سے اس کے راوی کا نام معلوم نہیں ہے۔
3۔مرقس اور لوقا دونوں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے شاگرد و حواری نہیں ہیں۔ یوحنا اور پطرس دونوں ان پڑھ تھے۔﴿ دیکھئے اعمال ب 4 فقرہ: 13، عہد نامہ جدید ص 111﴾
معلوم ہوا کہ یوحنا کی انجیل بھی یوحنا حواری کی لکھی ہوئی نہیں ہے بلکہ اس کا راوی مجهول ہے اور اس انجیل کے آخر میں لکھا ہوا ہے کہ ”یہ وُہی شاگرد ہے جو ان باتوں کی گواہی دیتا ہے اور جس نے انکو لکھا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اُس کی گواہی سچی ہے“
﴿یوحنا ب 21 فقرہ: 24، عہد نامہ جدید ص 107﴾
مسلمانوں کے پاس اپنے نبی کی سیرت اور اقوال صحیح متصل سندوں کے ساتھ موجود ہیں لیکن پولسی عیسائیوں کے پاس سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی سیرت صحیح متصل سند سے موجود نہیں ہے۔
تنبیہ: پولس نے لکھا ہے: ”مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا اُس نے ہمیں مول لیکر شریعت کی لعنت سے چھڑایا۔۔۔“ (گلتیوں کے نام پولس کا خط ب 3 فقرہ: 13، عہد نامہ جدید ص 180)
اس عبارت میں پولس نے دو باتیں لکھی ہیں:
اول: سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر لعنتی کا فتویٰ (العیاذ باللہ)
یاد رہے کہ مسلمانوں کے نزدیک کوئی نبی لعنتی نہیں تھا بلکہ سب انبیاء اور رسول ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور افضل ترین انسان تھے۔
دوم: شریعت سے چھڑایا جانا
اس کے برعکس متّی کی طرف منسوب انجیل میں لکھا ہوا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: “یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔ کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے۔”
﴿ب 5 فقرہ: 17، 18، عہد نامہ جدید ص 8﴾
اس ساری بحث سے معلوم ہوا کہ سائل نے جس چیز کو بڑائی کی بنیاد بنایا ہے وہ درست نہیں اور جو امور خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت پر دلالت کرتے ہیں انہیں نظر انداز کر دیا ہے۔
(دوسرا سوال: آپ کے) نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا معراج کے موقع پر سینہ چاک کیا گیا اور عیسیٰ کا نہیں کیا گیا تو نبی میں غلطیاں تھیں عیسیٰ میں نہیں۔(ایک سائل)
اگر سفر بہت لمبا اور عظیم الشان ہو تو اس کے لئے خاص تیاریاں ہوتی ہیں۔
ہمارے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سفرِ معراج ایسا عظیم الشان سفر ہے کہ آپ سات آسمانوں سے اوپر سدرۃ المنہیٰ تک تشریف لے گئے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو نچلے آسمان پر اپنے پیچھے چھوڑ گئے۔ اس عظیم سفر کے لئے یہ عظیم تیاری کروائی گئی۔
یاد رہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ دو فرشتوں نے آپ کے بچپن میں چاک کر کے پانی (آبِ زمزم) سے دھویا تھا اور اس پر ختمِ نبوت کی مہر لگا دی تھی۔
﴿دیکھئے مسند امام احمد ج 3 ص 184 ح 17648 وسندہ حسن، نیز دیکھئے صحیح مسلم: 163﴾
آپ آخری نبی (خاتم النبیین) اور رحمة للعالمین تھے اس لئے آپ کے بچپن میں فرشتوں (جبرائیل علیہ السلام وغیرہ) نے آپ کا سینہ دھویا تھا تاکہ آپ کے دل میں کسی نیک انسان کے لئے کوئی غصہ اور نفرت نہ ہو پھر لمبے سفر پر اس کی تجدید کر دی گئی۔ یہ ظاہر ہے کہ جس کا سینہ اُس کے بچپن میں ہی فرشتوں نے دھو کر صاف و شفاف کر دیا تھا وہ انسان بلا شک و شبہ اُس انسان سے افضل ہے جس کا سینہ دھویا نہیں گیا۔ اس سے بھی آخری نبی کی افضلیت ہی ثابت ہو رہی ہے۔
مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر نبی معصوم اور پاک ہوتا ہے، اس سے کسی قسم کی غلطی کا صدور نہیں ہوتا جس غلطی سے حد یا فسق لازم آئے۔ اجتہادی لغزش اگر ثابت ہو تو علیحدہ بات ہے جس کا ایک اجر ضرور ملتا ہے۔ اس کے برعکس پولسی عیسائیوں کا انبیاء اور رسولوں کے بارے میں کیا عقیدہ ہے؟ درج ذیل عبارت میں اس کے کچھ نمونے پیشِ خدمت ہیں:
مثال اول:
پولسی عیسائیوں کی کتاب سلاطین میں لکھا ہوا ہے: ”کیونکہ جب سلیمان بڈھا ہو گیا تو اُسکی بیویوں نے اُسکے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کر لیا اور اُس کا دل خداوند اپنے خداکے ساتھ کامل نہ رہا جیسا اُسکے باپ داؤد کا دل تھا۔ کیونکہ سلیمان صیدانیوں کی دیوی عشتارات اور عمونیوں کے نفرتی ملکوم کی پیروی کرنے لگا۔ اور سلیمان نے خداوند کے آگے بدی کی اور اُس نے خداوند کی پوری پیروی نہ کی جیسا اُسکے باپ داؤد نے کی تھی۔“
﴿سلاطین 1، باب 11، فقرہ: 4 تا 6، عہد نامہ قدیم ص 340﴾
عبارتِ مذکورہ میں سیدنا سلیمان علیہ السلام کو غیر اللہ کی عبادت کرنے والا یعنی مشرک قرار دیا گیا ہے حالانکہ وہ سچے موحد رسول تھے اور شرک و کفر سے بے حد و حساب دُور تھے۔
مثالِ دوم: عیسائیوں اور یہودیوں کی کتاب خروج میں لکھا ہوا ہے کہ ”اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ نے پہاڑ سے اُترنے میں دیر لگائی تو وہ ہارون کے پاس جمع ہو کر اُس سے کہنے لگے کہ اُٹھ ہمارے لئے دیوتا بنا دے جو ہمارے آگے آگے چلے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اس مرد موسیٰ کو جو ہم کو ملکِ مصر سے نکال کر لایا کیا ہو گیا۔ ہارون نے اُن سے کہا تمہاری بیویوں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے کانوں میں سونے کی بالیاں ہیں اُنکو اُتار کر میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ سب لوگ اُنکے کانوں سے سونے کی بالیاں اُتار اُتار کر اُنکو ہارون کے پاس لے آئے۔ اور اُس نے اُنکو اُنکے ہاتھوں سے لیکر ایک ڈھالا ہوا بچھڑا بنایا جس کی صورت چھینی سے ٹھیک کی۔ تب وہ کہنے لگے اے اسرائیل یہی تیرا وہ دیوتا ہے جو تجھ کو ملکِ مصر سے نکال کر لایا۔ یہ دیکھ کر ہارون نے اُسکے آگے ایک قربان گاہ بنائی اور اُس نے اعلان کر دیا کہ کل خداوند کے لئے عید ہو گی۔ اور دوسرے دن صبح سویرے اُٹھ کر انہوں نے قربانیاں چڑھائیں اور سلامتی کی قربانیاں گذرنائیں۔ پھر اُن لوگوں نے بیٹھکر کھایا پیا اور اُٹھکر کھیل کود میں لگ گئے۔“
﴿خروج باب 32 فقرہ: 1 تا 6، عہد نامہ قدیم ص 82﴾
عبارتِ مذکورہ میں سیدنا ہارون علیہ السلام کو بت بنانے والا اور بت کی عبادت کرنے والا بنا کر پیش کیا گیا ہے حالانکہ سیدنا ہارون علیہ السلام اللہ کے سچے نبی اور موحد تھے۔ آپ شرک اور بت پرستی سے بے حد دُور تھے۔
مثالِ سوم: سموئیل نامی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ ”اور شام کے وقت داؤد اپنے پلنگ پر سے اُٹھ کر بادشاہی محل کی چھت پر ٹہلنے لگا اور چھت پر سے اُس نے ایک عورت کو دیکھا جو نہا رہی تھی اور وہ عورت نہایت خوبصورت تھی۔ تب داؤد نے لوگ بھیجکر اُس عورت کا حال دریافت کیا اور کسی نے کہا کیا وہ اِلیعام کی بیٹی بت سبع نہیں جو اوریاہ کی بیوی ہے۔ اور داؤد نے لوگ بھیجکر اُسے بلا لیا۔ وہ اُسکے پاس آئی اور اُس نے اُس سے صحبت کی (کیونکہ وہ اپنی ناپاکی سے پاک ہو چکی تھی)۔ پھر وہ اپنے گھر کو چلی گئی۔ اور وہ عورت حاملہ ہو گئی۔۔۔۔“
﴿سموئیل 2، باب 11، فقرہ: 2 تا 5، عہد نامہ قدیم ص 303﴾
اس عبارت میں سیدنا داؤد علیہ السلام سچے رسول اور نبی کو اوریاہ نامی آدمی کی بیوی سے زنا کرنے والا ظاہر کیا گیا ہے حالانکہ سیدنا داؤد علیہ السلام اس تہمت سے بالکل بری اور پاک ہیں۔
تین خداؤں کا عقیدہ رکھنے والے اور پولس کو رسول ماننے والے عیسائیوں نے اپنی ان ”الہامی آسمانی“ عبارات میں سیدنا ہارون علیہ السلام، سیدنا داؤد علیہ السلام اور سیدنا سلیمان علیہ السلام کے بارے میں جھوٹ بولتے ہوئے ایسی غلطیاں گھڑ رکھی ہیں جن کا صدور عام نیک آدمی سے بھی نہیں ہوتا جبکہ نبی و رسول کے بارے میں تو ایسی غلطیوں کا تصور بھی محال اور ناممکن ہے۔
(تیسرا اور آخری سوال: آپ کے) نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا نکاح کون سی شریعت پر ہوا اور کس نے پڑھایا؟ (ایک سائل)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے بعض اہل عرب دینِ ابراہیمی پر تھے اور بعض اس کے ساتھ ساتھ شرک و کفر میں پھنسے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح دینِ ابراہیمی پر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے اور بعد دونوں زمانوں میں شرک، کفر اور گناہوں سے مکمل معصوم اور بے حد و حساب دُور تھے۔
کہا جاتا ہے کہ آپ کے چچا سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے آپ کی شادی کروائی تھی۔
دیکھئے امام محمد بن اسحاق بن یسار المدنی (متوفی 151ھ) کی کتاب “السیرۃ النبویۃ” ﴿ص 130﴾
تنبیہ: نکاح میں ایجاب و قبول، حقِ مہر، ولی اور گواہوں کی موجودگی اصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو غیر مسلم لوگ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاتے ہیں تو اُن کے سابقہ نکاح دوبارہ نہیں پڑھائے جاتے۔
ہمارے تین سوالات
پولس کو رسول ماننے والے عیسائیوں کے تین سوالات کے جوابات سے فارغ ہونے کے بعد اب ہمارے تین سوالات پیشِ خدمت ہیں اور عیسائیوں سے چاہے کیتھولک ہوں، آرتھوڈوکس ہوں یا پروٹسٹنٹ، سوالات کے مطابق جوابات کا مطالبہ ہے:
پہلا سوال: کرنتھیوں کے نام پولس کے پہلے خط میں لکھا ہوا ہے: “کیونکہ خدا کی بیوقوفی آدمیوں کی حکمت سے زیادہ حکمت والی ہے اور خدا کی کمزوری آدمیوں کے زور سے زیادہ زور آور ہے۔” ﴿کرنتھیوں 1، باب 1 فقرہ: 25، عہد نامہ جدید ص 152﴾
کیا عیسائیوں کے نزدیک خدا کی ذات میں بیوقوفی اور کمزوری پائی جاتی ہے؟
دوسرا سوال: پولسی عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر پھانسی دی گئی تھی، اسی سلسلے میں پولس لکھتا ہے: “مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا اُس نے ہمیں مول لیکر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔”
﴿گلتیوں کے نام پولس کا خط باب 3 فقرہ: 13، عہد نامہ جدید ص 180﴾
کیا سیدنا عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے بارے میں لعنتی کا لفظ استعمال کرنا صحیح ہے؟
تیسرا سوال: عیسائیوں کے نزدیک الہامی آسمانی کتاب ”پیدائش“ میں ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہوا ہے کہ “خداوند ممراے کے بلوطوں میں اُسے نظر آیا اور وہ دن کو گرمی کے وقت اپنے خیمہ کے دروازہ پر بیٹھا تھا۔ اور اُس نے اپنی آنکھیں اُٹھا کر نظر کی اور کیا دیکھتا ہے کہ تین مرد اُسکے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ اُن کو دیکھ کر خیمہ کے دروازہ سے اُن سے ملنے کو دوڑا اور زمین تک جھکا۔ اور کہنے لگا کہ اے میرے خداوند اگر مجھ پر آپ نے کرم کی نظر کی ہے تو اپنے خادم کے پاس سے چلے نہ جائیں۔ بلکہ تھوڑا سا پانی لایا جائے اور آپ اپنے پاؤں دھو کر اُس درخت کے نیچے آرام کریں۔ میں کچھ روٹی لاتا ہوں۔ آپ تازہ دم ہو جائیں۔ تب آگے بڑھیں کیونکہ آپ اسی لئے اپنے خادم کے ہاں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا جیسا تُو نے کہا ہے ویسا ہی کر۔ اور ابراہیم ڈیرے میں سارہ کے پاس دوڑا گیا اور کہا کہ تین پیمانہ باریک آٹا جلد لے اور اُسے گوندھ کر پھلکے بنا۔ اور ابرہام گلّہ کی طرف دوڑا اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لا کر ایک جوان کو دیا اور اُس نے جلدی جلدی اُسے تیار کیا۔ پھر اُس نے مکھن اور دُودھ اور اُس بچھڑے کو جو اُس نے پکوایا تھا لیکر اُن کے سامنے رکھا اور آپ اُن کے پاس درخت کے نیچے کھڑا رہا اور انہوں نے کھایا۔ پھر انہوں نے اُس سے پوچھا کہ تیری بیوی سارَؔہ کہاں ہے؟ اُس نے کہا وہ ڈیرے میں ہے۔ تب اُس نے کہا میں پھر موسمِ بہار میں تیرے پاس آؤں گا اور دیکھ تیری بیوی سارَؔہ کے بیٹا ہو گا۔ اُسکے پیچھے ڈیرے کا دروازہ تھا— سارَؔہ وہاں سے سُن رہی تھی۔ اور ابرہام اور سارَؔہ ضعیف اور بڑی عمر کے تھے اور سارَؔہ کی وہ حالت نہیں رہی تھی جو عورتوں کی ہوتی ہے۔ تب سارَؔہ نے اپنے دل میں ہنس کر کہا کیا اس قدر عمر رسیدہ ہونے پر بھی میرے لئے شادمانی ہو سکتی ہے حالانکہ میرا خاوند بھی ضعیف ہے؟۔ پھر خُداوند نے ابرہام سے کہا کہ سارَؔہ کیوں یہ کہہ کر ہنسی کہ کیا میرے جو ایسی بڑھیا ہو گئی ہوں واقعی بیٹا ہو گا؟ کیا خُداوند کے نزدیک کوئی بات مُشکل ہے؟ موسمِ بہار میں مُعیّن وقت پر میں تیرے پاس پھر آؤں گا اور سارَؔہ کے بیٹا ہو گا۔ تب سارَؔہ انکار کر گئی کہ میں نہیں ہنسی کیونکہ وہ ڈرتی تھی۔ پر اُس نے کہا نہیں تُو ضرور ہنسی تھی۔
تب وہ مرد وہاں سے اُٹھے اور انہوں نے سدُوم کا رُخ کیا اور ابرہام اُنکو رُخصت کرنے کو اُنکے ساتھ ہو لیا۔ اور خُداوند نے کہا کہ جو کچھ میں کرنے کو ہوں کیا اُسے ابرہام سے پوشیدہ رکھوں؟۔ ابرہام سے تو یقیناً ایک بڑی اور زبردست قوم پیدا ہو گی اور زمین کی سب قومیں اُسکے وسیلہ سے برکت پائیں گی۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہ اپنے بیٹوں اور گھرانے کو جو اُسکے پیچھے رہ جائینگے وصیت کریگا کہ وہ خداوند کی راہ میں قائم رہ کر عدل اور انصاف کریں تاکہ جو کچھ خُداوند نے ابرہام کے حق میں فرمایا ہے اُسے پورا کرے۔ پھر خُداوند نے فرمایا چونکہ سدُوم اور عمُورہ کا شور بڑھ گیا اور اُنکا جُرم نہایت سنگین ہو گیا ہے۔ اسلئے میں اب جا کر دیکھوں گا کہ کیا انہوں نے سراسر ویسا ہی کیا ہے جیسا شور میرے کان تک پہنچا ہے اور اگر نہیں کیا تو میں معلوم کر لوں گا۔ سو وہ مرد وہاں سے مڑے اور سدُوم کی طرف چلے پر ابرہام خُداوند کے حضور کھڑا ہی رہا۔ تب ابرہام نے نزدیک جا کر کہا کیا تُو نیک کو بد کے ساتھ ہلاک کریگا؟۔ شاید اُس شہر میں پچاس راستباز ہوں۔ کیا تُو اُسے ہلاک کریگا اور اُن پچاس راستبازوں کی خاطر جو اُس میں ہوں اُس مقام کو نہ چھوڑے گا؟۔ ایسا کرنا تجھ سے بعید ہے کہ نیک کو بد کے ساتھ مار ڈالے اور نیک بد کے برابر ہو جائیں۔ یہ تجھ سے بعید ہے۔ کیا تمام دُنیا کا انصاف کرنے والا انصاف نہ کریگا؟۔ اور خداوند نے فرمایا کہ اگر مجھے سدُوم میں شہر کے اندر پچاس راستباز ملیں تو میں اُنکی خاطر اُس مقام کو چھوڑ دُوں گا۔”﴿مسیحی: کتابِ مقدس بائبل یعنی پرانا اور نیا عہد نامہ ص 17، پیدائش باب 18 فقرہ: 1 تا 26، شائع کردہ: بائبل سوسائٹی، انارکلی لاہور﴾
عرض ہے کہ کیا خدا کو معلوم نہیں تھا کہ سدوم اور عمورہ والے نہایت سنگین جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں؟ اور کیا خدا تعالیٰ تحقیق کرنے کے لئے خود جاتا ہے؟ یہ کیسا خدا ہے جو عیسائیوں کے نزدیک دودھ، مکھن، گوشت اور روٹیاں کھا لیتا ہے؟
اگر ان سوالوں کے جوابات آپ لوگوں کے پاس نہیں ہیں تو آپ کس دلیل سے عہد نامہ قدیم و عہد نامہ جدید کے عیسائی مروجہ مطبوعہ نسخوں کو آسمانی و الہامی قرار دیتے ہیں؟
وما علينا إلا البلاغ
واللہ اعلم بالصواب
تحقیق کی مزید توثیق کے لیے متعلقہ صفحات کے اصل اسکین نیچے ملاحظہ کریں۔
از قلم

شیخ زبیر علی زئی
حافظ زبیر علی زئی (1957ء – 2013ء) عصرِ حاضر کے ایک نامور پاکستانی اسلامی سکالر، محدث، محقق اور مفتی تھے، جن کا تعلق اہلحدیث مکتبہ فکر سے تھا۔ وہ علمِ حدیث، اسماء الرجال (راویوں کی جانچ پڑتال) اور تحقیق و تخریج میں مہارت کی وجہ سے دنیا بھر میں "محدثِ عصر" کے نام سے جانے جاتے تھے۔
مرتب

سلطان الحسینی السلفی
سلطان الحسینی سلفی متبع ٹیم(Mttabi Team) کے معزز رکن ہیں۔ وہ سلفی منہج سے وابستہ طالبِ علم ہیں اور دینی علوم کے مطالعہ و تحقیق میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ بالخصوص اصولِ حدیث، علومِ حدیث، تفسیرِ قرآن اور دیگر اسلامی علوم میں مسلسل علمی تحقیق اور مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔