بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:10

متفرق ابواب
حدیث نمبر:10

حدیث نمبر:10

حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هُرَيْمِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاةِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُكَتِّبُ الْوِلْدَانَ".
حدثنا الاسود بن عامر، عن هريم بن سفيان، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن محارب بن دثار، عن ابن عمر، قال:" لقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا التشهد في الصلاة كما يعلم المكتب الولدان".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز میں تشہد کی اس طرح تعلیم دیتے جیسے لکھائی سکھانے والا بچوں کو سکھاتا ہے۔

اس کی سند ضعیف ہے۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم